80

دو دُنیائیں

عمران خان نے یہ بات بالکل درست کہی ہے کہ موجودہ پاکستان میں دو دنیائیں بستی ہیں۔ یہ ہی بات ہم گزشتہ کئی برسوں سے تحریر کررہے ہیں کہ پاکستان صرف ایک پاکستان نہیں ہے بلکہ دو پاکستان ہیں۔ ایک محروم طبقہ کا پاکستان اور دوسرا ظالم حاکموں کا پاکستان۔ یہ ظالم حاکم زندگی کے ہر اس شعبہ میں نظر آئے گا جہاں مظلوم کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہو، غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہو، یہ ظلم حاکم سیاستدانوں میں اپنے جاں نثار کارکنوں سے برتا جاتا ہے یا فوجی جرنلوں کے ذریعہ عام جوان سے روا رکھا جاتا ہو، بیوروکریسی میں معمولی کلرک سے روا رکھا جاتا ہو یا سرمایہ دار کا غریب مزدور سے، یہاں ظلم کرنے والے کی دنیا الگ ہے اور ظلم سہنے والے کی دنیا اور ہے۔ یہی فرق ہمیں اور بھی واضح نظر آنے لگا جب بہت عرصے بعد وطن روانہ ہوئے۔
مگر جب ہم اپنے وطن پاکستان پہنچے تو وہاں سب کچھ تھا سوائے اپنے والے پاکستان کے۔ ہاں وہی دو جہاں تھے جن کے خوف سے ہم پاکستان سے فرار ہو کر اس دو جہاں سے بچنا چاہتے تھے۔ جہاں ایک جہان مظلوم کا تھا دوسرا ظالم حکمرانوں کا۔ اس وقت ہمارے اختیار میں تھا کہ ہم کسی ایک جہاں میں شامل ہو جائیں، ظلم کے جہاں میں شامل ہونے سے ہمارا ضمیر تیار نہ تھا۔ مظلوم کے جہاں میں شامل ہو کر ہم گناہ گاروں میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ ظلم کے حکمرانوں میں شامل ہو کر۔ اور وہ ہی سب کچھ کریں جو اس وقت حکمراں طبقہ کررہا ہے۔ اور اس کی دنیا میں بھرپور شامل ہو جائیں۔ اس پر ہمارا یہ کمبخت ضمیر تیار نہں تھا اگر ایسا نہیں کرتے تو لازمی طور پر ہم بھی ان مظلوم طبقہ میں شامل ہو کر حکمراں طبقہ کے ظلم کا شکار ہوتے اور بے بسی کا ماتم کرتے رہتے، ہم سے جب تک اپنی سی کوشش رہی کہ نہ بالادستوں میں شامل ہوں اور ظلم کرنے میں شامل ہو جائیں اور اپنے آپ کو گناہگار بنائیں، نہ ہی مظلوموں میں اپنے آپ کو شمار کروا کر ان دونوں جہنم کی آگ کا شکار ہوں یعنی ظلم سہنے والا جہنمی بنے اور دنیا کے جہنم میں جلتے رہیں۔
یوں ان دونوں طرح کے گناہوں سے بچنے کے لئے ایک چھوٹا سا گناہ پاکستان سے فرار ہو کر کیا اور امید یہ رکھی ان دو بڑے گناہوں سے بچنے کے لئے چھوٹے گناہ کو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا۔ ایک یہ بھی امید لگا بیٹھے اپنی نسل کو یہاں لا کر ایک اچھا انسان تو بنا ہی لیں گے اور اللہ نے توفیق دی تو اچھا مسلمان بھی۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا یہ ہمارا فیصلہ صحیح تھا یا غلط مگر ہمارے وطن کے بارے میں جو خدشات تھے وہ مکمل درست ثابت ہوئے، وہاں جا کر وہ تمام خوف اندیشہ دُرست ثابت ہو گئے، اور ہمارا شک یقین میں بدل گیا۔
اس پانچ دن کے ہنگامی دورے میں ان دو دنیاﺅں میں تفصیل سے اور قریب سے بچشم خود جائزہ لینے کا موقع بھرپور انداز سے حاصل ہوا اس کی تفصیل سنانے کے لئے ہمیں ایک ضخیم کتاب تحریر کرنی پڑے گی۔ اگر اس شہر ٹورانٹو میں روزی روٹی سے فرصت ملی تو یہ بھی کرکے دیکھیں گے۔
ٹورانٹو میں آنے کے بعد جب بھی مزدوری سے فرصت ملتی تو ہم پاکستان کے نیوز چینل لگا لیتے اور اپنے بلڈ پریشر کو ہائی لیول پر لے جاتے اور پھر گھر والوں پر اپنا غصہ اتارتے تو ہماری ڈاکٹر بیگم بجائے گولیوں سے علاج کرنے کے اور ہمارا غصہ زائل کرنے کے لئے پاکستان کے نیوز چینل کو بدل کر انٹرٹیمنٹ کے چینل لگا دیتیں۔ یوں ہمارا ذہن پاکستان کے میدان جنگ والے شہروں سے ہٹ کر انٹرٹیمنٹ کی دنیا میں لے جاتیں۔ جہاں روای چین ہی چین دکھا رہا تھا۔
سب سے بڑی سہولت تو یہ حاصل ہوئی کہ ہمیں اور ہمارے بچوں اور ہماری بیگم کو الگ الگ ایسے شوفروں سمیت کاریں مل تھیں جو ان سڑکوں کے جم غفیر میں اور ٹریفک جام میں مہارت سے گاڑیاں چلاتے ہیں۔ بروقت بہت کم عرصہ میں ہماری منزل مقصود پر پہنچا دیا کرتے۔ اس ہنگامہ آرائی اس افراتفریح میں ہمیں ان ضروری کاموں سے بھی فارغ کروانے میں مددگار بنے تھے جن کی تکمیل کیلئے پانچ دن نہیں پانچ مہینہ درکار ہوتے ہیں، دوسرے ہمارے وہ تعلقات موجود تھے جو مہینوں کے کام چند دنوں میں کروا دیا کرتے یعنی جن کاموں کے لئے عام آدمی مارا مارا پھرتا، وہ تمام کام یا تو فون پر ہو جاتے یا خود جا کر ایک چائے کے کپ پینے کے دوران ہو جاتے۔
شامیں ہماری ارینہ کلب یا دو دریاﺅں میں گزرتی اور وہاں کے دلپسند لذت سے بھرپور کھانے کھا کر اور اس سے زیادہ ضائع کرنے میں گزرتی۔ وہ سہانی مرینا کلب کی شام تو بہت یادگار تھی جو ہماری کزن کی شادی کی مہندی کی تقریب میں گزاری اس میں شہر کے بڑے سے بڑے حاکم اور ملک کے حکمرانوں سے دوبدو شرف ملاقات ہوئی اس محفل میں تو یوں محسوس ہوا کہ ہندوستانی فلموں کے رقص سرور کا ہم تصور کرسکتے ہیں وہ سب کچھ وہاں مشاہدے کے لئے موجود تھا۔ یہ سب کچھ ایک خواب کی طرح محسوس ہوا۔ میں بھی اس خواب سے بیدار ہو کر اپنے جیسے ستم رسیدہ لوگوں کے دُکھ بھی جاننا چاہتا تھا، فرق صرف یہ تھا وہ فرار ہو کر میری طرف ٹورانٹو میں بڑھاپے کی شادی کے لئے یہاں آنے سے قاصر رہے۔
یہ تو تھی حکمرانوں کی جنگ کی ا یک جھلک، دوسری وہ جہنم کی کیفیت جس کے شکار مظلوم عوام بھیڑ بکریوں کی طرح سو رہے تھے اور آہیں بھی نہیں بھر سکتے، ہمارا یہ کمبخت ضمیر حکمرانوں کی جنت سے نکال کر اس دوزخ میں جلتے ہوئے عوام تک بھی لے جاتا جو اس جنگ کی بھٹی میں جل رہے تھے اور اس ظلم کی چکی میں پس رہے تھے ان کی آوازیں صرف ان کے ساتھی ہی سن سکتے تھے جو کہ خود انہی جیسے حالات کا شکار تھے ان آوازوں کو ایسے میڈیم ویو فریکوینسی میں رکھا جاتا جہاں سے حکمرانوں کی تعمیر کی ہوئی دیواروں کو پار نہ کرسکیں۔
ان کے بڑے بڑے محل تمام آسائش گاہوں کو دور دور تک کنٹینر یا دیواریں تعمیر کردی جاتی، درمیان میں سیکیورٹی کے لئے بھرپور سرکاری فوج اور ذاتی گارڈوں کے جتھے موجود ہوتے۔ حکمران صرف ان محفوظ سڑکوں پر بکتر بند نما آرام دہ گاڑیوں میں بڑے سے اسکواڈ میں چلتے ان کو فکر عوام سے زیادہ اس بات کی ہوتی کہ کہیں ان کے ساتھی حکمراں سے کم وی آئی پی پروٹوکول کم نہ پڑ جائے۔ جہازوں کی سیٹوں کے لئے آپس میں جھگڑتے، چاہے پرواز گھنٹوں لیٹ ہو جائے، ایک بار ایسا بھی ہوا کہ صوبائی وزیر اور وفاقی سیکریٹری میں اس بات پر تکرار ہوئی کہ اس کی سیٹ پر دوسرے نے قبضہ کرلیا پھر ان میں بھی بڑوں نے بیچ میں پڑ کر معاملہ کو گھنٹوں انتظار کی اذیت میں گزارنے پڑے۔ نیوز چینل بریکنگ نیوز چلاتے رہے، وہ گنتی کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے کہ شہر میں عوام میں سے کتنے لوگ درندگی کا شکار ہوئے، مزے لے لے کر ماہرین اور اینکرز اپنے اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے میں جت جاتے۔ ایک ایک وقت میں درندگی کا شکار ہونے والے اور کھیلوں کا اسکور بریکنگ نیوز بنا کر بتاتے۔ اعلان کرتے بڑھتی ہوئی روٹی کی قیمت ایسے ہی بتاتے کہ آج کتنے لوگ مارے گئے پھر ٹاک شو میں مرغے لڑانے میں لگ جاتے تاکہ ان کی ریٹنگ بڑھے، وہ حسین اشتہارات کے مناظر آتے رہتے جن کے لئے ان میں مقابلہ آرائی ہوتی رہی کیونکہ ان کے مالکان اور اینکر دولت سمیٹ کر اس حکمراں طبقہ میں شامل رہتے جن کے لئے ایک الگ جنت تعمیر کی گئی تھی۔ بالادستوں نے اپنی مرضی کے مطابق جنت تعمیر کردی تھی۔ اپنے اپنے ذاتی اخراجات بڑھاتے رہتے اور محکوم عوام کے لئے مہنگائی۔
مظلوم اور محکوم عوام صبح سے شام تک اپنے بچوں کے لئے روٹی کی تلاش میں جتے رہتے، شام کو اگر ان کی قسمت نے یاوری کی تو زندہ سلامت بچوں تک پہنچ گئے یا اس جنگ کا شکار ہو گئے جو ان حکمرانوں نے بیرونی آقاﺅں سے امداد کےنام پر ڈالروں کی رقم بٹورنی تھی اس دولت سے وہ اپنی جنت کو خوبصورت سے خوبصورت بناتے رہے اور عوام کے لئے ایسی دوزخ بنا رہے تھے جہاں ہر لمحہ ایک نیا عذاب ہو، مجھے یقین ہے کہ ہمارے یہ مظلوم عوام اس عارضی جہنم سے نجات پا کر ایک ایسی دائمی جنت میں ہمیشہ کے لئے چلے جائیں گے جس کا اس عارضی جنت کے شدادوں کو تصور ہی نہیں اور خود شداد وہ اس سے بڑی دوزخ میں ہمیشہ کے لئے جھونک دیئے جائیں گے جہاں سے وہ کبھی نکل نہ پائیں۔ یہ اللہ کا انصاف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں