84

دُم پر پیر

سبحان اللہ جب اپنی دُم پر پیر پڑتا ہے تو پھر چیخیں نکلتی ہیں اپنے دور میں جو کچھ کر چکے ہیں وہی اگر ان کے ساتھ ہوتا ہے تو پھر انصاف یاد آتا ہے اور اسی مکافات عمل سے آج نواز شریف اور زرداری گزر رہے ہیں۔آج جو لوگ حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ایک متعصبانہ سیاست کررہی ہے تو جناب والا کل کو یہی لوگ اس سے بھی گندی اور بری سیاست کر چکے ہیں یہی نہیں بلکہ یہ اپنی زرخرید میڈیا کے ذریعہ خود کو معصوم اور آب زم زم سے دھلا ہوا ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ رانا ثناءاللہ جیسا قاتل اور مجرم کو ایسے نہیں کہا جارہا ہے کہ وہاں تو ایک ایسا فرشتہ ہے جس پر الزام لگانا گویا آسما پر تھوکنا ہے۔ رانا ثناءاللہ سے متعلق مسلم لیگ کی مریم کا کہنا ہے کہ اس پر ایک جھوٹا الزام لگایا گیا ہے مگر وہ یہ بات بھول جاتی ہے کہ عوام رانا ثناءاللہ جیسے دریدہ دہن کی بے ہودہ زبان سے اچھی طرح واقف ہے اس طرح مریم نواز (جو اپنے شوہر کے نام سے شرماتی ہے اور باپ کا لاحقہ ساتھ لگا رکھا ہے) نے ایک پریس کانفرنس میں جس میں اس کا چچا ایسا منہ بنائے بیٹھا ہے گویا بہت کڑوی گولی اس کے منہ میں رکھی ہے اور ساتھ میں مسلم لیگ کے وہ نمک خوار ہیں جو چور کے ساتھی گرہ کٹ کھلائے جاتے ہیں اس پریس کانفرنس میں اس نے ایک ویڈیو کلپ دکھلائی جس کے متعلق اس کا کہنا تھا کہ اس کے ڈاکو لٹیرے باپ کو سزا دباﺅ ڈال کر دلوائی گئی ہے اور جیل میں ڈالا گیا ہے۔ پاکستان کے عوام یہ پوچھتے میں حق بجانب ہیں کہ تین دفعہ وزیر اعظم کی باریاں لینے والا نواز شریف نے جو دباﺅ ڈالے اور مخالف جماعتوں کو اپنے انتقام کا نشانہ بنایا اس پر اب تک بہت کم لکھا گیا ہے۔ اس کا شکار پاکستانی عموماً مہاجر خصوصی طور پر تھے ان دباﺅ کو ظاہر کرنا تاریخ کو درست کرنا ہے۔ جسٹس شمیم حسن شاہ نے یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ ججوں پر دباﺅ ڈال کر بھٹو کو سپریم کورٹ سے پھانسی کی سزا سنوائی گئی اور یہ سپریم کورٹ کی بہت بڑی غلطی تھی اور انہوں نے کھل کر کہا کہ یہ دباﺅ نواز شریف کے معانوی باپ ضیاءالحق تھا جس نے اس سنپولے کو پال کر ملک کے لئے ناگ بنایا تھا۔ ضیاءالحق کو بھی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مریم کے باپ کی سیاسی تربیت اور پرورش جنرل جیلانی نے کی تھی اور ضیاءالحق کی اس بات سے بھی لوگ واقف ہیں کہ 88ءکے الیکشن کے بعد نواز شریف جب پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا تو نواز شریف نے کس کے کہنے پر بے نظیر پر دباﺅ ڈالا اور نواز شریف نے پہلی مرتبہ وزیر اعظم بننے پر کس نے دباﺅ ڈالا کہ کراچی میں 92 کا آپریشن شروع کیا جائے اور یہ تو مریم شاہد جانتی ہو کہ جناح پور اور ”را“ کے ایجنٹ ایم کیو ایم کیسے دباﺅ میں آکر بنے اور آصف زرداری نے گیارہ سال کی سزا ہوئی اور جیل میں گزارے یہ بتلاﺅ کہ تمہارے باپ پر کس کا دباﺅ تھا؟ مریم تم پہلی بار ججوں کے بارے میں ایسا نہیں کہہ رہی ہو اس سے پہلے پی پی بھی ججوں کے بارے میں ایسے ویڈیو بنوا چکی ہے جس میں تمہاری مسلم لیگ براہ راست ملوث تھی۔ ایم کیو ایم کے ساتھ تمہارے والد نے جو سلوک کیا وہ 92 کے آپریشن پر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ تمہارے والد پر ”کسی“ کا اس قدر دباﺅ تھا کہ ایک شخص پر سو سے زائد ایف آئی آر کٹوائی گئیں لیکن اس پر بھی صبر نہیں آیا، دباﺅ پھر بھی کم نہیں ہوا اور پھر 2013ءکا آپریشن شروع ہو گیا، آپ کا وزیر داخلہ میڈیا کے سامنے آکر کہتا ہے کہ کراچی آپریشن اس نے شروع کروایا تھا۔ کم بخت وہی دباﺅ، مریم نواز، اس دباﺅ کے طفیل تو پھر بانی ایم کیو ایم الطاف حسین آصف زرداری، فریال تالپور سب کے سب بے قصور ہیں، تمہارے والد کے دور حکومت می ان سب پر مقدمات بنے اور اب وہ جیل میں ہیں اور الطاف حسین پر پابندی نواز شریف کے دباﺅ پر، عوام آخر اب کس سے شکایت کریں کیونکہ اب تم میڈیا پر بیٹھ کر جج پر دباﺅ کی ویڈیو دکھا رہی ہو، مریم عوام موجودہ حکومت سے تنگ آچکی ہے مگر آپ کے پاس یا بلاول بھٹو زرداری کے پاس کو بہتر راستہ نہیں ہے تو بتاﺅ ”ابو چھڑاﺅ تحریک“ تم چلاﺅ یا بلاول، اب اس میں کوئی جان نہیں ہے اب تم ایکسپوز ہو چکی ہو اور تمہارا بھرم کھل چکا ہے، آج اپوزیشن اس وجہ سے ناکام ہے کہ ان کے پاس صرف اقتدار کی خواہش ہے، عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور یہ دونوں جماعتیں جو ہیں ان میں مسلم لیگ (ن) میں موروثیت کا جھگڑا بھی عوام طے کریں کہ مسلم لیگ مریم چلائے یا شہباز شریف، جھگڑا اس اقتدار کا ہے جب کہ پیپلزپارٹی نے تو ثابت کردیا کہ بھٹو کی بیٹی، بھٹو کا داماد اور اب بھٹو کا نواسہ، ہم پاکستانیوں کے 32 سال ضائع ہوئے لیکن یہ لوگ اپنے گھر کی پارٹی پر لوگوں کو مسلط کرتے رہے اب تو ان سے بہتر ایم کیو ایم نظر آتی ہے۔ الطاف حسین پر تو پابندی ہے تو الطاف حسین کا کوئی بھائی پارٹی چلا لیتا اچھا وہ نہیں تو کوئی نہیں اور وہ بھی نہیں تو اپنی صاحبزادی افضاءکو ہی آگے کر دیتے مگر ایم کیو ایم موروثیت نہیں ایک منشور، تنظیمی نظم و ضبط ہے اور یہاں کنوینر بانی ایم کیو ایم کاکوئی سگا نہیں، کوئی خون کا رشتہ نہیں وہ تو APMSO کا ایک سابق چیئرمین خالد مقبول صدیقی ہے جو کنوینر ایم کیو ایم ہے۔ اور ایم کیو ایم آج پھر مہارت کے ساتھ چل رہی ہے۔ رابطہ کمیٹی کنوینر کے ساتھ چلتے ہیں اور منشور پر قائم ہے اور پوری رابطہ کمیٹی کنوینر کے ساتھ ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکن شہید بھی ہوئے، لاپتہ بھی ہوئے، دفاتر سیل بھی ہوئے اور کارکنان قید و بند کی آزمائشوں سے بھی گزرے اور گزر رہے ہیں اور آپریشن بدستور چل رہا ہے۔ حیرت انگیز اور خوش کن بات ہے کہ سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سندھ حکومت کو مسلسل بتا رہے ہیں کہ جو کراچی اور شہری آبادی کے ساتھ متعصبانہ سلوک کررہی ہے اس کے باوجود سندھ حکومت آپریشن کی ماری ایم کیو ایم سے ظلم کی انتہا پر ہے وہ تمام جماعتیں جو حکومت کے خلاف محض اپنے ذاتی مفادات اپنے اپنے لٹیرے قاتل اور خائن باپوں اور ساتھیوں کی رہائیوں کے لئے متحد ہوگئیں ہیں ان میں سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ سندھ کے مظلوم مہاجروں اور شہری آبادیوں کے عوام کے لئے ایک جملہ بھی کہنے کے روادار ہوں۔ مریم نواز اپنے باپ کی رہائی کے لئے تحریک چلانے کی ضد پر ہے، یہ شہر کراچی جو منی پاکستان ہے اس کے لئے نہ مریم بولتی ہے نہ ہی بلاول بولتا ہے۔ یہ مفاد پرست سیاسی شعبدے باز کبھی بھی اپنی ذات سے نکل کر مظلوموں کے لئے آواز نہیں اٹھا سکتے کیونکہ یہ سب سمجھتے ہیں کہ یہ ملک ان کے باپ دادوں کی جاگیر ہے اور یہاں بسنے والے وہ حقیر جانور ہیں جن پر حکمرانی کرنا ان کا حق ہے مگر اب گردش دوران ان غاصبوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کا عمل شروع کر چکی ہے اور یہ سب کیفر کردار کو پہنچیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں