Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 89

زنجیر

ہم جس صدی میں رہ رہے ہیں وہاں ہمارے جیسے غریب ممالک بھوک، افلاس ،ہنگامہ آرائی ،بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت سے گزررہے ہیں۔ملک کے تمام وسائل پر ابھی تک نئے پاکستان میں بھی صرف چند لو گوں کا قبضہ ہے۔عوام اس سے کوئی استفادہ حاصل نہیں کررہے ہیں۔کھربوں روپے غیر ممالک میں جاچکے ہیں اور واپسی کی فی الحال کو ئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔اور یہی لوگ ابھی تک مزید دولت کی ہوس میں جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری قوم کے زیادہ تر افراد بے حس ہوچکے ہیں جو صحیح اور غلط کا فرق کھوچکے ہیں۔ نہ ہی ان کو حق نا حق کی تمیز رہی ہے اور نا ہی راہ حق تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں ہر شخص من مانی میں لگا ہوا ہے۔اپنی ذات کے گرد ایک حصار قائم کیا ہوا ہے جس سے باہر نہ وہ دیکھتا ہے نہ سوچتا ہے اور نہ ہی اسے سوچنے کی فرصت ہے اس لئے کہ ہم صحت مند معاشرے کے دائرے سے باہر ہوچکے ہیں ،راہ سے بھٹک چکے ہیں حالانکہ راہ سے بھٹکنے اور واپس آنے کا عمل صدیوں سے جاری ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جب جب لوگوں نے صحیح راستے پر آنے کی پورے خلوص اور دل سے کوشش کی انہوں نے منزل پا ئی ہے۔موجودہ صدی میں ایسے ایسے واقعات نے جنم لیا جس کے باعث پوری دنیا کا نظام ہی بدل گیا۔یہ واقعات تاریخ کا جزو تو ضرور بنیں گے لیکن اس میں سوائے شرمندگی کے اصلاح کا کوئی پہلو نظر نہیں آئے گا گزشتہ صدی میں جدوجہد کی کئی داستانوں نے جنم لیا اور اتنی بڑی بڑی کامیابیاں رقم ہوئی ہیں کہ آج کے دور میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہم نے کبھی ان وجوہات پر غور نہیں کیا جس کے باعث یہ کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں۔ ان بڑی بڑی کامیابیوں میں روس کے تسلّط سے آزاد ہونے والی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ہندوستان پر انگریزوں کا سو سال حکومت کرنا اور آخر کار خیر آباد کہہ جانا۔ ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کا قیام اور اس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت آپ کیا سمجھتے ہیں کیا یہ گڈّے گڑیوں کا کھیل تھا ۔ہم تو بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ انگریز ہندوستان سے چلا گیا اور پاکستان بن گیا لیکن ان تمام عوامل پر غور کریں اور سوچیں کہ یہ سب کس طرح ممکن ہوا۔آج جس کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔آزادی کی تحریک کوئی معمولی کھیل نہیں تھا بے شمار انسانوں کا لہو بہا ، قید و بند کی صعوبتیں جھیلی گئیں ،کئی خاندان تباہ ہوئے لوگ گھر سے بے گھر ہوئے تب کہیں جاکر تحریک آزادی کامیاب ہوئی اور یہ کام کوئی ایک دن میں نہیں ہوا تھا برسوں پر یہ کام محیط ہے۔ہندوستان کو انگریز کے پنجے سے آزاد کروانا اور اور بر صغیر ہند و پا ک کی تقسیم یہ صرف اسی دور کے لوگ کرسکتے تھے آج کے دور میں تو ملک پر زبردستی کوئی غاصب حکومت کررہا ہو تو اسے ہٹانے کی کسی میں بھی ہمّت نہیں ہے کیوں کہ ہماری قوم کوئی قوم نہیں ہے قوم بنتی ہے نسلوں کونسلوں سے جوڑنے کے بعد جہاں پچھلی نسل نے رسّی چھوڑی ہوتی ہے وہاں سے نئی نسل نے اس رسّی کو تھامنا ہوتا ہے ۔ایک زنجیر کی طرح کے جس کا ہر کڑا اپنی جگہ مضبوط ہو۔پچھلے دور میں کامیابی کی وجہ ہی یہی تھی۔اور آج کی بربادی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان بن جانے کے بعد اپنے بزرگوں کو بھلادیا۔نئی نسل اپنے آپ کو اتنا قابل گردانتی ہے کہ اس کے نزدیک عمر رسیدہ لوگ ایک بے کار شے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں لیکن جب حالات خراب ہوتے ہیں تو راہ فرار اختیار کرنے کے لئے اپنی قابلیت سے نئی نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجے میں زندگی کی بھول بھلیّوں میں الجھتے چلے جاتے ہیں۔امریکہ جیسے ترقّی یافتہ ملک کو چلانے کے لئے پس منظر میں جو ایک گروپ بیٹھا ہوا ہے اس میں تمام کے تمام 70 سال سے اوپر کے ہی لوگ ہیں۔اور ہمارے یہاں 70 سالہ غلامانہ ذہن کے لوگ پرانے زمیندار اور سیاسی لیڈران کی نکمّی اولادوں کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔آزادی کی تحریک ہمیشہ غربت میں جنم لیتی ہے اور ہنڈیا پک جانے کے بات امارت کے ہاتھوں اغواءہوجاتی ہے۔ اس تحریک میں خون غریبوں کا بہتا ہے ان پر ہی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور اس وقت تمام امراءصرف تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اور بہت سے تو اسے ناکام بنانے کی کوششوں میں لگے ہوتے ہیں اور جب خون میں رنگی ہوئی یہ تحریک کامیابی کے قریب پہونچنے لگتی ہے تو امراءاپنی تجوریوں کے منہ کھولتے ہیں تحریک کے اصل جانثاروں کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔مال و دولت سے خون میں رنگی تحریک کا خون دھودیا جاتا ہے اور اس پر چاندی کا ملمّع چڑھاکر اپنے نام کا جھنڈا لگادیا جاتا ہے۔تحریک آزادی ہندوستان کا بھی یہی معاملہ ہوا۔تحریک پاکستان کا تحریک آزادی ہندوستان سے بڑا گہرا تعلق ہے۔تحریک پاکستان کی کامیابی تحریک آزادی کے متوالوں کی جدو جہد اور قربانیوں کا ثمر ہے۔جو گمنامی کے اندھیروں میں کھوگئے اور آج کسی کو ان کا نام تک معلوم نہیں ہے۔ہم نے دیکھا ،سنا، اور پڑھا پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے بانیوں کی جو تصویریں شائع ہوئیں اور آج تک ہوتی ہیں ان میں شائید ہی کوئی غریب آدمی ہو کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جس نے اس کامیابی کے بدلے بھوک ،افلاس اور غربت پائی ہو سب نوابوں اور نواب زادوں کی تصویریں ہیں ۔جب کہ ہندو پاک میں رہنے والی تمام قومیں ان نوابوں اور نواب زادوں کے کردار سے بہت اچھی طرح واقف تھیں۔گاو¿ تکیے سے ٹیک لگائے ،حقّے کی نے منہ میں ،قہوے کا گلاس ہاتھ میں اور سامنے خوبصورت دوشیزہ کے مدھر نغمے۔یہ بھلا تپتی دھوپ میں ننگے پاو¿ں آزادی کا پرچم اٹھائے ہوئے سڑکوں پر کیسے آسکتے تھے یا جیل کی تاریک کوٹھری میں کیسے سوسکتے تھے۔بہرحال اس کے بعد جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔تحریک آزادی کے وہ جیالے جنہیں ہم نے گمنام کردیا ، بھلادیا ان کے تجربے اور مشورے کا ان کے بعد آنے والی نسلوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔آج ہم بھگت رہے ہیں۔تحریک آزادی کیوں اور کیسے کامیاب ہوئی اور کس طرح انگریز بے دخل ہوا اور پاکستان نقشے پر ظاہر ہوا۔کیوں کہ تحریک آزادی کے یہ جیالے اپنی پچھلی نسلوں سے جڑے ہوئے تھے ان کے نقش قدم پر چل رہے تھے اس لئے کامیاب ہوگئے کیا ہم ان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ نہیں جانتے کیوں کہ آنے والی نسلوں سے ان ناموں کو چھپالیا گیا۔شیخ ولایت علی 1884ءمیں پیدا ہوئے، 22 سال کی عمر میں وکالت شروع کردی تھی مسلم لیگ کونسل اور کانگریس کمیٹی کے سیاسی لیڈروں اور قوم پرست نوجوانوں کی مقبول شخصیت تھے جس وقت مولانا محمّد علی جوہر اور شوکت علی جوہر نے 1914ءمیں انجمن خدّام کعبہ کی بنیاد ڈالی اس وقت ولایت علی اس کے فعال کارکن تھے کافی عرصے سی۔آئی۔ ڈی ان کے پیچھے لگی رہی اور ان کو تنگ کیا جاتا رہا۔ممکن تھا کہ 1918ءمیں ان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جاتا لیکن وہ ہیضے کی بیماری سے اسی دوران انتقال کرگئے۔ولایت علی چودھری خلیق الزّماں کے قریبی دوست اور تحریک آزادی کے متوالے تھے۔دوسرا نام رفیع احمد فدائی کا ہے 18 فروری 1894ءمیں پیدا ہوئے تحریک آزادی میں حصّہ لینے کی پاداش میں 13 سال جیل میں گزارے جائیداد نیلام ہوئی گھر سے بے گھر ہوئے مختلف اوقات میں جیل جاتے رہے بے شمار تکالیف اٹھائیں۔ 1945ءمیں جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی کسی نے پوچھا اب تو آپ کو جیل جانے سے چھٹکارا مل جائے گا اب آپ کیا کریں گے تو کہنے لگے اب ہم آپس میں لڑیں گے ۔کتنی سچّی بات کہی تھی رفیع احمد فدائی نے واقعی ہم ابھی تک آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار نام ہیں حسرت موہانی نے قید بامشقّت کافی عرصے جھیلی۔علی احمد صدّیقی اور ان کے کئی ساتھیوں کو کالے پانی کی سزا ہوئی۔مولانا محمود حسن اور حضرت مدنی کو مالٹا میں قید کیا گیا۔ کیا کسی نے ان لوگوں کے بارے میں بچّوں کو بتایا ان کی قربانیوں سے روشناس کرایا کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آج ان لوگوں کی اولادیں کہاں اور کس حال میں ہیں۔انگریزوں کے وفاداروں اور جہادیوں سے غدّاری کرنے والوں اور اس کے بدلے زمینیں جائیدادیں حاصل کرنے والے ہی ہم پر حکومت کرتے رہے اور ان کی اولادیں حکومت کر تی رہی ہیں۔جو قومیں اپنے بزرگوں اور محسنوں کو فراموش کردیتی ہیں بلاشبہ تباہی ان کا مقدّر بن جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں