142

عمران خان کا دورئہ امریکہ

جس وقت یہ شمارہ لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچے گا، عمران خان اپنا دورئہ امریکہ مکمل کرکے پاکستان کے لئے واپس روانہ ہو چکے ہوں گے۔ وزیر اعظم کا یہ دورہ ہر لحاظ سے تاریخی ثابت ہوا۔ جس قدر پذیرائی عمران خان کو ملی وہ کافی عرصہ کے بعد کسی پاکستانی سربراہ کے حصہ میں آئی ہے۔ عمران خان کا اعتماد بھی قابل دید تھا۔ انہوں نے پاکستان کے موقف کو بہت دلیرانہ طریقہ سے پیش کیا۔ انہوں نے ان تمام مسائل پر بات چیت کی جو برسوں سے التواءمیں پڑے ہوئے تھے اور ہمارے حکمران بھارت کی ناراضگی کے ڈر سے ان ایشوز پر بات چیت کرنے سے کتراتے تھے مگر عمران خان نے پاکستانی عوام کی صحیح ترجمانی کرکے نہ صرف عوام کے دل جیت لئے بلکہ انہوں نے کشمیریوں کو بھی یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ ”عمران خان ہی وہ پہلا رہنما ہے جس نے کھل کر مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے“ ٹرمپ عمران ملاقات بھی حیرت انگیز طور پر بہترین رہی۔ صدر ٹرمپ غیر متوقع طور پر خوشگوار موڈ میں رہے اور پاکستانی صحافیوں کے سولاات پر مسکراتے رہے۔ انہوں نے عمران خان کو ایک اچھا، کامیاب اور سچا لیڈر قرار دیا جب کہ عمران خان نے بھی صدر ٹرمپ کو سچا اور کھرا انسان قرار دے دیا۔
سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ عمران خان کے اس دورہ سے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آئے گی اور پاکستان پر لگائی کئی پابندیاں بھی ہٹالی جائیں گی۔ صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر بھی ثالث بننے کی پیشکش کی جسے عمران خان نے تو قبول کرلیا مگر بھارت انہیں ثالث ماننے پر تیار نہ ہوگا۔ تاہم یہ عمران خان کی بڑی کامیابی ہے۔ عمران خان نہایت سچائی کے ساتھ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کو عافیہ صدیقی کی رہائی سے مشروط کردیا۔ یوں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مستقبل میں واضح بہتری آتی دکھائے دے رہی ہے اور پاکستانیوں اور امریکیوں کے درمیان عرصہ دراز کے بعد مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے دکھائی دیئے۔ یوں عمران خان کا یہ دورہ پاکستان کے مسائل کے حل کے علاوہ کشمیر کے مسئلہ، افغانستان کے معاملات اور طالبان سے مذاکرات اور پاکستان کی معیشت کے حوالہ سے بڑے بریک تھرو کا سبب بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس پہلے دورہ امریکہ کو نہ صرف امریکی حکومت کی جانب سے پذیرائی ملی بلکہ پاکستانی کمیونٹی نے بھی ان کے ساتھ مثالی اظہار یکجہتی کیا جس کی تاریخ امریکہ میں نہیں ملتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں