92

فوجی حکمراں اور سیاستدان

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت جتنے مستحکم انداز میں چل رہی تھی، تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ وہ اگلے انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرکے مزید پانچ سال اپنی حکمرانی میں با آسانی گزار دیں گے لیکن انتخابات کے بعد ان کے خلاف جو تحریک چلی جس نے نہ صرف ان کی حکومت کو اکھاڑ پھینکا بلکہ اس کے شاخسانہ میں ذوالفقار علی بھٹو کو بھی تختہ دار پر چڑھنا پڑا۔ بھٹو صاحب کی حکومت مضبوط ہونے کے باوجود اس تحریک کی زیادہ مدت تک مزاحمت نہ کرسکی جس کو بعد میں نظام مصطفیٰ کی تحریک کا نام دیا گیا۔ جس میں نہ صرف مذہبی جماعتیں بھی شریک تھیں بلکہ اس میں وہ جماعتیں بھی شامل تھیں جو کہ سیکولر جماعتیں سمجھی جاتی تھیں۔
1970ءسے پہلے چلنے والی تحریکوں کا مرکز کراچی ہوا کرتا تھا یا ڈھاکہ۔ بعد میں پاکستان کے دوسرے شہر بھی ان تحریکوں میں شامل ہو جاتے تھے۔ بھٹو صاحب کے خلاف چلنے والی تحریک جو کہ اس وقت کے پاکستان کے ہر شہر کے لوگوں کی شمولیت کی وجہ سے ملک گیر تحریک کہلائی اور بھٹو صاحب کی حکومت کو بہا کر لے گئی۔ یہ تحریک جن نیک مقاصد کو سامنے رکھ کر چلائی گئی تھی کہ جس میں ملک میں ایسا نظام قائم ہوگا جہاں سب کو انصاف میسر ہو گا جس طرح اسلامی اصولوں میں بیان کیا گیا ہے مگر اس تحریک کے نتیجے میں اسلام کا نظام انصاف تو نہ قائم ہوسکا۔ نتیجے میں ضیاءالحق کا فوجی نظام نافذ ہوگیا۔ یہ وہ فوجی نظام تھا جسے ضیاءالحق کے اقتدار کو توانا کیا جا سکتا تھا جس کا اسلام کے حقیقی شرعی اصولوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ضیاءکے اس فوجی نظام نے ملک کی جو اینٹ سے اینٹ بجائی کہ جو رہا سہا نظام معاشرت تھا وہ تک تباہ و برباد ہو گیا۔ ضیاءکا نظام ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے اس عہد کی معاشرت کو تباہ و برباد کرکے ملبہ کا ڈھیر بنا دیا بلکہ اس ملبہ کو تیس برس گزرنے کے باوجود کسی اور فوجی حکمراں کو اٹھانے کی جرات نہ تھی کیونکہ ضیاءکے فوجی نظام نے بہت سے ایسے قوانین اسلام کے نام پر بنا دیئے گئے جن کو بدلنے کی آنے والی حکومت میں ہمت نہ تھی۔ ضیاءکی گیارہ سالہ فوجی حکومت کو ختم ہوئے تقریباً تیس سال گزر گئے مگر اس کے مہلک اثرات پاکستان کی نظام معاشرت میں سرائیت کرچکے ہیں کہ ان ہی کے ادارے کے دو جنرل پرویز مشرف اور راحیل شریف بھی ان اثرات کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جنرل ضیاءکی فوجی حکمرانی کا دور ان دو فوجی حکمرانوں کا ایک تسلسل تھا جس کا آغاز ایوب خان کے فوجی اقتدار سے ہوا۔ یعنی ایوب خان اور یحییٰ خان کی فوجی حکمرانی کے نقصانات فوری نوعیت کے تھے جب کہ ضیاءکی فوجی حکمرانی کے مضر اثرات تیس سال گزرنے کے باوجود مہلک انداز میں قائم ہیں۔
اگر پاکستان میں فوجی حکمرانی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے، فوجی حکمرانی کے اوّلین دور کو ایوب خان، یحییٰ خان کے ساتھ ضیاءالحق کا دور کہا جا سکتا ہے۔ جو پاکستان کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوئے حالانکہ ان کے دور کے سیاستدان موجودہ دور کے سیاسی حکمرانوں کے مقابلہ میں بہت بہتر تھے۔ یعنی جتنے مخلص سیاستدان پاکستان کے اس دور کے تھے جو ایوب خان سے ضیاءالحق کا دور کہا جا سکتا ہے جب کہ مرزا اسلم بیگ، وحید کاکڑ، جہانگیر کرامت، پرویز مشرف اور جنرل راحیل شریف کے فوجی اختیارات کا دور اس دور کے مقابلہ میں بہت بہتر ثابت ہوا جب کہ ان کے دور کے سیاسی حکمراں ان حکمرانوں کے مقابلہ میں مختلف الزامات کے باعث اپنی ساکھ کو خراب کرنے کے درپے رہے۔
جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے اس سلسلے کو جاری رکھنے کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کا تسلسل رہا ہے جو ضیاءکے دور کے خاتمہ پر ان کی پالیسیوں میں تبدیلی کا آغاز تھا۔ جنرل راحیل کے لئے حالات بہت مواقف تھے کہ وہ ایک بار ملک کا اقتدار سنبھال کر ان پالیسیوں کو تبدیل کردیں جس میں اقتدار و اختیار کا مرکز ایک بار پھر فوج کو بنا دیا جائے۔ جنرل راحیل کے دور میں سول حکمراں یا سیاستداں اپنی حیثیت کو بہتر بنانے میں یکسر ناکام ثابت ہوئے جب کہ فوجی حکمرانوں نے عوام میں بے انتہا مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا ان حدود کو پچھلے فوجی حکمرانوں نے ضیاءکے بعد وقت کے ساتھ ساتھ محدود کرنا شروع کردیا تھا جیسا کہ ضیاءطیارے کے حادثہ میں ہلاک ہونے کے بعد مرزا اسلم بیگ نے وہ ہی تمام اختیارات کے ساتھ فوجی حکمران بننے کے بجائے اختیارات اس وقت کے آئین کے مطابق سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان کے حوالے کر دیئے۔ فوج کی پالیسیوں کو اپنی حدود میں رکھنے کا سلسلہ جنرل وحید کاکڑ نے بھی قائم رکھا حالانکہ ان کے دور میں نواز شریف جو کہ وزیر اعظم تھے اور غلام اسحاق خان کے درمیان شدید اختلافات بھی وحید کاکڑ کو اقتدار پر قبضہ کا بھرپور موقع حاصل تھا، جنرل آصف نواز جنجوعہ کو بھی اقتدار پر قبضہ کا موقع قدرت نے فراہم نہیں کیا ان کی یکایک موت نے فوجی اقتدار جہانگیر کرامت کے حوالے کردیا جو فوج کی تاریخ کے واحد جنرل تھے جو خود سے فوج کی سربراہی وقت پہلے چھوڑ کر رخصت ہوئے حالانکہ اس دور کی سیاسی قیادت اپنی نا اہلی کے باوجود اقتدار پر بدستور براجمان رہی۔ یہ قیادت نہ صرف اپنے آپ کو اہل ثابت کرنے میں ناکام ہوئی بلکہ ایک دوسرے پر بھی نا اہلی اور کرپشن کے الزامات لگاتی رہی۔ نوبت یہ آگئی کہ لوگ فوج کو بار بار اقتدار سنبھالنے کی دعوت دیتے رہے۔ مگر فوج نے اپنے آپ کو اقتدار سے دور رکھنے کی پالیسی کو قائم رکھا حالانکہ فوج کے اندر بھی ان سیاسی حکمرانوں کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا تھا۔ یہ سیاسی حکمراں جو اس وقت حکومت میں تھے، ہر طرف سے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے تنہا ہو چکے۔ فوج کے ساتھ ساتھ ان کی مخالف سیاسی جماعتیں بھی ان کے خلاف شدید احتجاج جاری تھا کہ ان سیاسی حکمرانوں نے اپنی نا عاقبت اندیشی سے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ فوجی سربراہ کی ملک میں عدم موجودگی کے باوجود فوج اقتدار پر قبضہ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ یوں ضیاءکے بعد فوج کی جو عدم مداخلت کی پالیسی کو سیاسی حکمرانوں کی بدولت تبدیل کرنا پڑا۔ جب جنرل مشرف نے ملک میں واپس پہنچ کر اقتدار حاصل کیا تو تین سال تو براہ راست فوجی حکمرانی جاری رکھی پھر آہستہ آہستہ اقتدار میں سول یا سیاستدانوں کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ ایک حقیت ہے پرویز مشرف کا دور اقتدار تو فوجی تھا مگر اس فوجی اقتدار میں زیادہ سے زیادہ سول آزادیاں حاصل تھیں جو بعد میں سیاسی حکمرانوں کے دور میں بھی ایسی آزادیاں میسر نہیں تھیں۔ پاکستان میں گزشتہ ستر سال کے حکمرانوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے پاکستان کے ابتدائی دور کے سیاستداں اس زمانے کے فوجی حکمرانوں کے مقابلہ میں ملک کے لئے زیادہ مخلص تھے جب کہ موجودہ دور کے فوجی حکمراں سیاستدانوں کے مقابلہ میں ملک کے مفاد کو زیادہ بہتر انداز میں مقدم رکھتے ہیں۔ پچھلے دور کے سیاستداں موجودہ سیاستدانوں کے مقابلہ میں ملک کے لئے بہت بہتر تھے جب کہ موجودہ فوجی حکمران ابتدائی دور کے فوجی حکمرانوں کے مقابلہ میں بہتر ثابت ہوئے۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی قیادت کے لئے اوّلین شرط ملک سے مخلص ہونا ہے نہ کہ اپنے اقتدار کی ہوس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں