Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 111

نظریہء ارتقاء

کہا منصور نے خدا ہوں میں
ڈارون بولا بوزنا ہوں میں
سن کر کہنے لگے میرے ایک دوست
فکر ہر کس بقدر ہمّت اوست
ڈارون کا نام سن کر مجھے دور قدیم کا دور جدید سے موازنہ کرنے اور اس کے بارے میں کچھ لکھنے کا خیال آیا ڈارون کے نام سے ساری دنیا واقف ہے۔ ڈارون 12 فروری 1809ءکو برطانیہ میں پیدا ہوا چونکہ تمام خاندان طب کے پیشے سے وابستہ تھا لہذا اس کے والد نے جو کہ خود بھی طب کے پیشے سے وابستہ تھے ڈارون کو اس کے بھائی کے ساتھ 1825ءمیں میڈیکل کالج میں داخل کرایا لیکن ڈارون کو طب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس نے جلد ہی کالج سے کنارا کرلیا اور ایک دوست کے ساتھ ایک ایسے گروپ میں شامل ہوگیا جو تاریخ طبیعات پر تحقیق میں مصروف تھا ۔اس نے ایک لمبا سمندری سفر بھی کیا اور سمندری اور خشکی کے جانوروں پر تحقیق کرتا رہا اس نے اپنی تحقیق پر بے شمار کتابیں بھی لکھیں اور ماہر حیاتیات کی حیثیت سے پہچانا گیا اس کا کہنا تھا کہ درختو ں پودوں اور جانوروں میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کا عمل ہوتا رہا ہےاور نئی نئی شکلیں وجود میں آتی رہی ہیں یہاں تک کہ انسان کی موجودہ شکل بھی اسی تبدیلی کی پیداوار ہے سیدھے سادھے لفظوں میں اس کے نظریے کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ انسان پہلے بندر تھا یا بن مانس یا گوریلا کہہ لیں ۔ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمین کی ہئیت میں تبدیلیوں اور آپس میں ایک دوسرے کے ملاپ سے ایک مکمل انسانی شکل اختیار کرلی۔ڈارون کے اس نظریے کو سننے اور پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ بندر بن مانس کی نسل تو ابھی تک قائم ہے اب یہ انسانی شکل کیوں نہیں اختیار کررہے ہیں۔اس کا جواب بھی ڈارون نے کہیں نہ کہیں ضرور دیا ہوگا جس سے ہوسکتا ہے کہ میں واقف نہیں ہوں۔یا ہوسکتا ہے کہ آج کے انسان کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے بندروں نے انسان بننے سے توبہ کرلی ہو۔بہرحال ڈارون کے اس نظرئیے کو کافی شہرت ملی اور تمام دنیا کے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیز کے نصاب میں ڈارون کے نظریئے کو شامل کیا گیا۔لیکن ایک صدی کے بعد ابھی کچھ عرصہ پہلے نئی تحقیق نے ڈارون کے اس نظرئیے کو باطل قرار دے دیا۔جبکہ ایک ایمان والے کے لئے جس کو اپنی مقدّس کتاب پر مکمّل یقین ہے یہ نظریہ روز اوّل سے ہی باطل قرار دے دیا گیا تھا نئی تحقیق کے مطابق انسان اپنی مکمّل شکل میں ہی وجود میں آیا تھا یعنی نئی تحقیق نے صدیاں گزرجانے کے بعد ہمارے مذہب کے مطابق ہی فیصلہ دیا ہے ،لیکن ہمارے لئے تو اس میں حیرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہمارے مذہب نے ہمیں ہماری تحقیق کے بغیر ہی حقائق سے آگاہ کردیا تھا۔نئی تحقیق کے بعد مغرب کے کئی اسکولز،کالجز اور یونیورسٹیز کے نصاب سے ڈارون کے نظرئیے کو خارج کردیا گیا۔یہ اتنی بڑی بات تھی جس پر ساری دنیا میں تہلکہ مچ جانا چاہئے تھا۔لیکن کتنی خاموشی سے یہ کام کیا گیا اوربعد میں اس پر عالمی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا اور مکمّل خاموشی اختیار کرلی گئی۔ ڈارون کی حیثیت آج بھی اسی طرح ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب میں کوشش یہی کی جاتی ہے کہ اپنے ہیروز کو دنیا کے سامنے نیچا نہیں دکھایا جائے ۔معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی تحقیق یا ایجاد سے انسانیت کو فائدہ پہونچتا ہے۔ یا وہ لوگ ہیں جو ملک اور قوم کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں۔اگر چند غلطیاں یا خامیاں ہوں یا کردار میں بھی تھوڑا سا جھول ہو تو اسے اجاگر نہیں کیا جاتا اور ضرورت نہیں محسوس کی جاتی کہ اسے عام کیا جائے ۔کیونکہ اس کے ذاتی کردار سے نہیں بلکہ اس کے کام سے مطلب ہوتا ہے۔ایک مرتبہ جو ہیرو قرار پاگیا تو وہ ہیرو ہی رہتا ہے اور اگر بعد میں وہ انسانیت کے لئے خطرہ ہو یا نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہو تو اس کے لئے بہت خاموشی سے کارروائی کی جاتی ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔لیکن ہمارے یہاں تو کسی کو ہیرو قرار دیتے ہی کچھ لوگ میدان میں کود پڑتے ہیں اور اس کو نیچا دکھانے کے لئے جان کی بازی لگادیتے ہیں۔خاص طور پر سیاست میں تو یہ ہورہا ہے کہ اگر کسی اچھے اور قوم کے ہمدرد لیڈر کے متعلّق کوئی بد عنوانی کوئی چوری فراڈ ثابت نہ ہو تو پھر اس کی ذاتی زندگی پر حملے شروع ہوجاتے ہیں اور اس کے لئے ہر ممکن جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اپنے محسنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا بہتّر سال گزرجانے کے بعد بھی لوگ قائداعظم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ان کے بارے میں بھی منفی باتیں کہی اور لکھی جاتی ہیں۔جب کہ غیر اقوام میں ان کی قابلیت اور کردار کو سراہا جاتا ہے مجھے انڈونیشیا کے ایک طالبعلم نے بتایا کہ اس کے اسکول میں قائد اعظم کی شخصیت ان کی قابلیت اور کردار کے بارے میں طالب علموں کو بہت تفصیل سے پڑھایا جاتا ہے ان کو بھی بدنام کردینے کے بعد ہمارے پاس کون سے ہیرو رہ جاتے ہیں۔بہرحال ڈارون کے نظرئیے کے خاتمے کے بعد اس بات کو تسلیم کرلیا گیا کہ انسان اپنی اصلی حالت میں ہی وجود میں آیا تھا یہ پوری دنیا جنگل تھی جہاں انسان اور جانور ایک ساتھ رہتے تھے اور انسان جانوروں کو دیکھ کر سوچتا ہوگا کہ شائید یہی زندگی ہے اور وہ ان ہی کی طرح زندگی گزاررہا تھا بندر انسان سے کافی مشابہت رکھتا ہے دماغ اور خد وخال میں تھوڑا سا فرق ہے۔لہذا اس دور میں انسان بندروں کو دیکھ کر اسی طرح کی حرکات میں مبتلا تھا درختوں پر چھلانگیں لگانا ،اٹھنا بیٹھنا یہاں تک کہ اس کی جسمانی ساخت بھی بندر یاگوریلے سے مشابہہ تھی۔کہتے ہیں بندر انسان کی نقل کرتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے انسان نے بندر کی نقل کی تھی بندر سے آگے نکل جانے کے باعث اب بندر اس کی نقل کرتا ہے اللہ تعالی’ نے شائید اسی دور میں رہنمائی کے لئے پیغمبر بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو حالات اور زمانے کے لحاظ سے اپنے اپنے حصّے کی تعلیم دیتے رہے اور انسان کو تہذیب و تمدّن کی طرف مائل کیا پیغمبروں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی تہذیب و ترقّی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے اور کاررواں بنتا گیا طرز زندگی میں بھی تبدیلی آئی اور آہستہ آہستہ انسان جانوروں کی زندگی سے ہٹ کر خالص انسانی ماحول میں آنا شروع ہوا۔اب ذرا پچھلے دور سے آج کے دور کا موازنہ کیا جائے۔طرز زندگی بدلنے میں لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی نئے نئے لوگ شامل ہوتے رہے اور انسان تیزی سے ترقّی کی طوف گامزن ہوا۔ ایک دور ایسا آیا جب تہذیب و ترقّی کی شمع کو جلائے رکھنے والے کم ہونا شروع ہوگئے اور نئے شامل ہونے والے افراد کی تعداد گھٹنا شروع ہوگئی اور اب صورت حال یہ ہے کہ انسان سب کچھ وہی کررہا ہے جو ایک وحشیانہ دور میں ہوتا تھا صرف طریقہءکار تبدیل ہوگیا ہے پہلے انسان کمزور کے ہاتھ سے کھانا چھین کر اسے روتا چھوڑ کر کھاجاتا تھا اب چونکہ کھانا پیسوں سے آتا ہے لہذا پیسے چھین کر اسے روتا چھوڑ دیتا ہے۔ پہلے غاروں میں رہنے والے کسی کمزور کو غار سے باہر نکال کر غار پر قبضہ کرلیتے تھے۔اب مکان سے نکال کر اس کے مکان اور زمین پر قبضہ کرلیتا ہے ۔پہلے قبیلوں کی صورت میں آنے کے بعد دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنے کے لئے لکڑی اور پتھروں کے ہتھیار استعمال کرتا تھا آج وہی کام جہازوں اور بموں سے لیا جاتا ہے جانوروں اور پرندوں کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے بچّوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے تک سہارا دیتے ہیں اور جب بچّے بڑے ہوجاتے ہیں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے کہ ماں باپ کس حال میں ہیں ۔جب انسان ان کے ساتھ رہتا تھا تو اسی طرح کرتا تھا مذہب اور تہذیب نے انسان کو یہ سکھایا کہ بوڑھے ماں باپ کا سہارا بنو لیکن آج کا دور آپ کے سامنے ہے کہ اولاد جوان ہوکر بوڑھے ماں باپ کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے کیا ہم دوبارہ اسی غیر تہذیب یافتہ دور کی طرف نہیں جارہے ہیں ؟ میں نے کسی مصوّر کی بنائی ہوئی دو تصویریں اپنے سامنے رکھیں ایک زمانہ قدیم کی اور ایک جدید کی آج کے دور کی تصویر سے میں نے عمارتیں اور سڑکیں وغیرہ ہٹاکر درخت اور جھاڑیاں بنادیں اور لباس کی جگہ پتّے پہنادئیے دونوں تصویروں میں انسانوں کے چہروں پر ایک جیسی وحشت تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں