95

امپائرز بھی ڈالرز کی برسات میں دل کھول کر بھیگنے لگے

ممبئی: آئی سی سی امپائرز بھی ڈالرزکی برسات میں دل کھول کر بھیگنے لگے۔
کرکٹ میں آنے والی دولت سے صرف کھلاڑی ہی فیض یاب نہیں ہورہے بلکہ امپائرز بھی دل کھول کر اس سے لطف اندوز ہورہے ہیں، یہ معاوضے عام شائقین کو چونکانے کیلیے کافی ہیں۔
ایک بھارتی ویب سائٹ کے مطابق آئی سی سی ایلیٹ پینل امپائرز کو 35 سے 45 ہزار ڈالرز سالانہ رقم ملتی ہے۔ ایک ٹیسٹ میں ذمہ داری انجام دینے کے 3000 ڈالرز الگ سے ملتے ہیں، اسی طرح ایک ون ڈے میں ذمہ داری انجام دینے کی فیس 2200 جبکہ ٹی 20 مقابلے میں امپائرنگ کے 1000 ڈالر الگ سے دیے جاتے ہیں۔
اس طرح اگر ایک امپائر سال میں 10 ٹیسٹ اور 10 سے 15 ون ڈے میچز میں ذمہ داری انجام دے تو صرف فیس کی مد میں 46 ہزار ڈالر تک مل جاتے ہیں جبکہ سالانہ فیس اس کے علاوہ ہے۔ یہ میچ آفیشلز بزنس کلاس میں سفر کرتے جبکہ قیام مہنگے ترین ہوٹلز میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کھیلی جانے والی ٹوئنٹی 20 لیگز امپائرز کے بینک بیلنس میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
صرف انڈین پریمیئر لیگ میں امپائرز کو فی میچ 2500 ڈالر فیس ملتی ہے۔ اس میں سفر بزنس کلاس اور قیام لگڑری ہوٹلز میں ہوتا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اگر کسی نے پروفیشنل کرکٹ نہیں بھی کھیلی تو بھی وہ امپائر بن سکتا ہے،پلیئرز ریٹائرمنٹ کے بعد بطور امپائر دوسرا کیریئر اختیار کرسکتے ہیں، اسی طرح ایک امپائر کے پاس ریٹائر ہونے کے بعد میچ ریفری بننے کا بھی موقع موجود تاہم اس کیلیے کچھ ٹیسٹ پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
امپائرز کو باقاعدگی سے میڈیکل ٹیسٹ دینا پڑتے ہیں تاکہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ میدان میں سخت ذمہ داری انجام دینے کیلیے مکمل طور پر فٹ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں