99

سعودی حکومت کی خواتین کو سرپرست کے بغیر بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت

جدہ: سعودی حکومت نے پہلی مرتبہ خواتین کو مرد سرپرست کے بغیر بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔ سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کے مطابق سعودی خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے یا بیرون ملک سفر کرنے کے لیے مرد سرپرست کی اجازت حاصل نہیں کرنی پڑے گی۔
احکامات کے بعد سے اب خواتین اکیس سال کی عمر کو پہنچنے پر پاسپورٹ بغیر کسی مرد سرپرست کی اجازت کے حاصل کر سکیں گی۔
واضح رہے کہ سعودی ویژن 2030ءکے تحت سعودی حکام خواتین کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور خواتین کو کسی پابندی کے بغیر بیرون ملک جانے کی اجازت دینا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
شاہی حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ ہر درخواست جمع کروانے والے سعودی شہری کو پاسپورٹ جاری کر دیا جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق حکم نامے میں کسی مخصوص صنف کا حوالہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی خواتین پر لگائی گئی پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
خواتین کا آزادانہ سفر کرنے کا معاملہ کچھ عرصے سے شوریٰ کونسل میں زیر بحث تھا۔ شوریٰ کی رکن ڈاکٹر اقبال دارنداری خواتین پر بیرون سفر پابندیاں ہٹانے کے حوالے سے بات کرتی رہی ہیں۔
ڈاکٹر اقبال دارنداری سمجھتی ہیں کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کے بعد سعودی حکومت کا یہ فیصلہ درست سمت میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں انصاف پسند ہوں۔ اور روایات اور طور طریقوں کی غلط ترجمانی اور مذہب کی محدود سمجھ کی وجہ سے کچھ خواتین کے ساتھ بے حد ناانصافی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں عورتوں کا نقصان ہوتا ہے۔‘
سعودی حکومت کے اس فیصلے کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین بے حد خوشی کا اظہار کر رہی ہیں اور ٹوئٹر پر’سرپرست کے بغیر خواتین کا سفر‘ کے عنوان سے ہیش ٹیگ بھی چل پڑا ہے۔
سعودی کاروباری خاتون منیٰ ابو سلیمان نے ٹویٹ میں کہا کہ خواتین کا بیرون ملک زندگی گزارنے، پڑھنے یا نوکری کرنے کے خواب سفری پابندی کی وجہ سے ٹوٹ گئے تھے۔
’اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ ایک طرح سے خواتین کو اب اپنی قانون سے جڑی قسمت پر پورا اختیار ہے۔‘
سعودی حکومت کی حالیہ اصلاحات سے خواتین کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری اور نقل و حمل میں آزادی ملی ہے۔
سعودی ویژن 2030 متعارف کرانے کے بعد سے، سعودی حکومت نے ان تمام خامیوں کو دور کیا ہے جو خواتین کے لیے محفوظ اور آزادانہ زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا باعث تھیں۔ ویڑن کے تحت خواتین کو وہ حقوق حاصل ہو رہے ہیں جو انہیں پہلے میسر نہیں تھے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گذشتہ برس جون میں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو کار چلانے کی اجازت دی، خواتین کو سٹیڈیم میں جاکر مردوں کے ساتھ بیٹھ کر فٹ بال میچز دیکھنے کی اجازت دی، ان کی کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی اور خواتین کو ایسی نوکریاں کرنے کی اجازت دی جو صنفی امتیاز کی وجہ سے انہیں نہیں مل پاتی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں