151

کشمیر لہو لہو! ٹرمپ اور مودی کے قہقہہ کشمیریوں کے منہ پر طمانچہ

ٹورنٹو/شکاگو (پاکستان ٹائمز) جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم مودی کی ہونے والی ملاقات اور اس کے سیاق و سباق کو نہایت سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب کہ کشمیر لہو لہو ہے اور کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کردی گئی ہے۔ دونوں حکمرانوں کی ملاقات میں کہیں سنجیدگی دکھائی نہیں دی بلکہ یوں محسوس ہوا کہ جیسے سب کچھ طے شدہ ہے اور صرف وقت کا انتظار ہے۔ امریکی صدر نے اپنے بیانات میں ضرور کہا ہے کہ پاک بھارت کو خطہ کے امن کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ ملاقات کے دوران مودی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان اور بھارت کا معاملہ ہے اور دونوں آپس میں حل کرلیں گے انہوں نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی ثالثی ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ جب آپ کی ضرورت ہوئی بتا دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق فرانس میں ہونے والے G-7 کے اجلاس میں امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظمکی ملاقات ہوئی۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اُن کی مودی سے کشمیر کے مسئلہ پر بات ہوئی ہے۔ مودی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سے مذاکرات کریں گے اور اس مسئلہ کو حل کریں گے۔
فی الحال انہیں کسی کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ مودی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ باہمی تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کو غربت اور جہالت کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے بتایا ہے کہ کشمیر میں معاملات کنٹرول میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ یہ مسئلہ حل کرلیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں حکمرانوںکی ملاقات کے دوران کوئی سنجیدہ صورتحال نظر نہیں آئی جسے دیکھ کر کہا جاتا کہ امریکی صدر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارتی وزیر اعظم سے سنجیدگی سے بات کررہے ہیں بلکہ یوں محسوس ہوا کہ تمام معاملات طے شدہ ہیں اور بات چیت اور ثالثی کا کردار بھی خانہ پری ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملات پر فکرمند نہ ہوں اور پاکستان اور بھارت کو بات چیت کرنے دیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق مودی نے مذاکرات کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کا عندیہ دیا جسے نجانے کیوں بغیر پس و پیش کے قبول کرلیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں