66

۔۔۔ وہ آگیا بذریعہ ”ٹوئیٹ“

”تو“ لوگو خبردار ہو جاﺅ کہ قیامت قریب ہے اور گردوں سے صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ وقت معلوم کی آمد آمد ہے۔ جب دنیا میں فتنہ و فساد حد سے بڑھ جائیں تو معلوم ہونا چاہئے کہ اب یوم حساب نزدیک سے نزدیک تر ہے تو لوگو اب تمہارے سامنے وہ نشانیاں آچکی ہیں جس کے بعد حشر برپا ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جائے گا۔ اس سے قبل بڑی تباہی آئے گی، بے شمار لوگ قتل ہوں گے، اور یہ بھی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگی کہ نہ قاتل کو معلوم ہوگا کہ کیوں قتل کررہا ہوں اور نہ مقتول کو علم ہوگا کہ کیوں مارا جارہا ہوں۔ خون انسانی کی ارزانی ہوگی، لوگ فتنوں سے پناہ کی تلاش میں بستیاں چھوڑ کر ویرانے اور جنگلوں میں پناہ لینے کے لئے دوڑیں گے، مگر موت سے انہیں راستگاری نہ ہوگی، زمین شق ہوگی، سمندر ابل پڑیں گے اور سورج سوا نیزے پر آجائے گا، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح فضا میں بکھر جائیں گے، آسمان سرخ ہو جائے گا اور گردش زمیین تیز ہو جائے گی، سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا، آسمان سے خون کی بارش ہوگی تو سمجھ لو کہ اب حساب کا دن آن پہنچا ہے مگر اس سے قبل زمین پر نازل ہونے والے فتنوں سے ہر نفس زندگی سے زیادہ موت کا طلب گار ہوگا۔ اور موت بھی ایسی آئے گی کہ شاید و باید۔ وہ جس کا تذکرہ کہانیوں اور داستانوں سے ملتے تھے اب ان کے سامنے رونما ہونے جارہا ہے۔ جو لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اب اس کا ظہور ہونے کا وقت آن پہنچا ہے، اب محشر کا میدان سجنے والا ہے، جہاں کوئی کسی کا ناصر و مددگار نہ ہوگا۔ نفسانفسی کا دور دورہ ہوگا، ماں اپنی اولاد کو نہ پہچانے گی، بھائی بھائی کا مددگار نہ ہوگا اور پھر ایک آواز گونجے گی کہ اب بتاﺅ کہ کس کی بادشاہی ہے؟ قیامت سے قبل ہر مذہب کے لوگ کسی آنے والے کے منتظر ہیں، وہ جس کے آنے سے دنیا جو فتنہ و فساد سے بھری ہوگی، امن کا گہوارہ بن جائے گی، وہ اپنی قوت و طاقت سے ان فسادوں کا قلع قمع کردے گا، جس سے دنیا میں خوف و دہشت اور بربریت کو وطیرہ بنا لیا ہے، وہ خدا برگزیدہ بندہ آکر دنیا کو چین و راحت کی آماجگاہ میں تبدیل کردے گا، ہر مذہب کسی آنے والے کا منتظر ہے۔ وہ جو کسی کے لئے آسمان سے اترے گا۔ وہ جو شاید پردہ میں ہے اور ظہور فرمائے گا۔ وہ جو پیدا ہو چکا ہے، مگر وقت معینہ پر ظاہر ہو کر مظلوموں اور بے کسوں کی مدد کرے گا مگر اس کے ظہور سے قبل ایک دجال کی آمد کی خبر بھی دی جارہی ہے۔ جو مادی دولتوں سے ایک طاقتور اور قوت کا حامل ہوگا اس کے متعلق جو کہا جاتا ہے کہ وہ گدھے پر سوار یک چشم کا ہو گا اس کے گدھے کے ایک طرف سونے کے سکے ہوں گے اور دوسری طرف روٹیوں کے ذخیرے ہوں گے، جو وہ ان لوگوں میں تقسیم کرے گا جو اس کے ماننے والے ہوں گے۔ وہ اس قدر طاقتور ہو گا دنیا کے لوگ اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔ وہ جس کو چاہے اپنی قوت اور دولت سے سب کو خریدے گا اور جو لوگ اس کی بات نہیں تسلیم کریں گے ان کو وہ نیست و نابود کرنے کی قوت کا حامل ہوگا۔ یہ دجال وہ اسرائیل کے ربی فورس کے ہیڈ کوارٹر لدھ کے مقام پر خروج کرے گا۔ آج وہ وقت آگیا ہے کہ اس دجال نے خروج کرلیا ہے اور امریکہ کے صدر نے یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ یہودیوں کے دوسرے خدا ہیں۔ وہ اسرائیل کے سب سے بڑے ربّی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس سے قبل ان کے دو نمائندوں نے ملاقات کی تھی اور دریافت کیا تھا کہ وہ جو آنے والا ہے اور ساری دنیا جس کی منظر ہے وہ کب آئے گا؟ اور اس ربی نے بتایا ہے کہ وہ آنے والا بہت جلد ظاہر ہونے والا ہے اور وہ آنے والے ہیں، اعلان کردیا ہے کہ وہ وہی شخصیت ہیں جس کو خدا نے منتخب کیا ہے اور وہ یہودیوں کے دوسرے خدا ہیں۔
”دجال وقت“ ایک وفد سے سوال کے جواب میں جو چینی تجارت کے مسئلہ کے بارے میں تھا، آسمان کی طرف منہ کر کے کہا کہ وہ ہی خدا کے منتخب ہیں اور یہودی ربی کے مطابق وہ جلد ظاہر ہونے والے ہیں جو خدا کے منتخب ہیں۔ ان کے منہ سے جو الفاظ نکلے ہیں وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں پر بھی بجلی بن کر گرے ہیں کیونکہ وہ بھی ایک دجال کے منتظر ہیں۔ اب اگر ان حالات پر نظر ڈالی جائے تو امریکہ کا صدر آج دنیا کا طاقتور ترین شخصیت ہوتا ہے اور وہ دنیا کو تہہ و بالا کرنے کی قوت رکھتا ہے، مادی طور پر وہ آج دنیا کا سپر سپر ترین شخصت ہے جو اپنی چشم و ابرو سے دنیا کو تہہ و بالا کرسکتا ہے اور کررہا ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ ایک ایسی تباہ کن ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے دنیا قیامت سے قبل کے حالات برپا کرنے کا پس چشم ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اس ”دجال وقت“ کی مصاحبت کون کون کررہا ہے، آج ان کے سب سے بڑے مقلد خادمین حرمین شریفین سعودی عرب کے حکمران میں ہی نہیں بلکہ پوری عرب کے مسلمان ان کے کاسہ لیس ہیں اور یہ سب اس دجال کے کٹھ پتلی ہیں جو اس کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں اور اس طرح قرب قیامت سے قبل جس تباہی اور قتل و غارت گری کی پیش گوئی کی ہے اور اب پوری ہو رہی ہیں۔ مسلمان مسلمان کا گلہ کاٹیں گے اور وہ یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام کریں گے اور دنیا ان کی جولان گاہ بن جائے گی اور اس کے بعد مسلمانوں کے مطابق امام مہدیؑ کا ظہور ہو گا اور وہ دنیا کو امن و امان سے بھر دیں گے مگر اس سے قبل دجال وقت کے فتنوں سے بچنے کے لئے مسلمان اور عیسائی کیا لائحہ عمل طے کرتے ہیں یہ دیکھنے کی بات ہے اور سب اب اس کے منتظر ہیں کہ دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ اللہ ساری دنیا اور بالخصوص مسلمانوں پر اپنا رحم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں