Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 23

بغل کی چھری دُنیا کے امن کیلئے خطرہ

”بغل میں چھری، منہ پر رام رام“ کا زہریلہ فلسفہ پہلے بھارت کی سیکولر تشخص کو لے ڈوبا اور اس کے بعد اب یہ جموں و کشمیر کے لئے قانون سازی کرنے کی صورت میں بھارت کی جمہوریت کو بھی نگل گیا اور ”بغل میں چھری منہ پر رام رام“ کا فلسفہ بھارت کے ٹکڑے بخرے ہونے کا بھی سبب بنے گا جب کہ جنوبی ایشیاءمیں بالخصوص اور پوری دُنیا میں بالعموم جنگ کے بادلوں کی شروعات بھی بھارت کے اس ہندو ذہن ”بغل میں چھری منہ پر رام رام“ کی وجہ سے ہوچکی ہے اور اس میں سنجیدگی گزشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی وجہ سے پیدا ہوگئی۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ”بھارت نسلی نظریات کا ملک ہے جس نے تمام ملکی اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کردیا۔ تحریک آزادی کشمیر اب مزید شدت اختیار کر جائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر سے پلواما جیسے حملے ہو سکتے ہیں جس کا الزام بھارت پاکستان پر دھرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جو بھارت نے کیا وہ ہم مانیں گے نہیں۔۔۔ اب ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں اگر دونوں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراﺅ ہوا تو اثرات پوری دُنیا تک جائیں گے“۔
وزیر اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے خطاب اور اسی روز کور کمانڈر کے اجلاس اور اس کے جاری کردہ اعلامیہ کو پوری دُنیا سنجیدگی سے لے رہی ہے اس لئے کہ پاکستان کی جانب سے اس طرح کے زوردار ردعمل کے آنے سے ہی اب دونوں ایٹمی ملکوں کے درمیان فی الحال روایتی جنگ چڑھ جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اس لئے کہ غیر ملکی مبصرین کو پاکستان کے ردعمل کا ہی انتظار تھا۔ چین جو اس سارے معاملے میں ایک طرح کا فریق ہے اس کا ردعمل بھی گزشتہ روز آگیا، جس میں چین کا کہنا ہے کہ اسے مقبوضہ کشمیر کی حالت پر بے حد تشویش ہے۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ پہلے ہی دونوں ملکوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ امریکا کا بھی ایک رسمی سا بیان سامنے آیا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”کیا بھارت نے اتنا بڑا قدم خود سے اُٹھایا ہے یا پھر وہ کسی کے کہنے پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس لئے کہ جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران یہ پیشکش کی تھی کہ وہ کشمیر کے معاملے میں ثالث بننے کو تیار ہیں اس کے بعد سے بھارت کے ہندوﺅں میں ایک ہیجان برپا ہوگیا تھا اور ”بغل میں چھری منہ پر رام رام“ کا زہریلہ فلسفہ تیزی سے حرکت میں آگیا تھا اس کے بعد سے ہی ہندو ذہن کو سمجھنے والوں نے یہ پیشن گوئی کردی تھی کہ اب ہندو کسی نہ کسی طرح سے دھوکہ دہی کی کوئی بڑی واردات کرنے والا ہے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا جموں و کشمیر کے لوگوں سے 1947ءمیں کئے گئے وعدے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اپنی عددی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر ایک قانون کے ذریعے جموں و کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کرکے اسے بھارت کا حصہ بنا دیا گیا۔ سوال وہی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا بھارت اتنا بڑا قدم خود اُٹھا سکتا ہے۔۔۔؟ جس دُرست جواب تو نریندر مودی ہی دے سکتے ہیں لیکن ہندوﺅں کی بہادری اور جرات کو جاننے والوں کا جواب کچھ اور ہو گا بہرحال اس سارے معاملے میں امریکہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ امریکہ کی خاموشی کی وجہ سے اس پر خودبخود سوال کھڑا ہوتا جارہا ہے۔ جس کے بعد یہ سوال بنتا ہے کہ کون ایٹمی جنگ کا خواہ ہے۔ کیا یہ ساری کشیدگی ایٹمی جنگ کے لئے پیدا کی جارہی ہے یا پھر مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔ اس لئے کہ پس پردہ تو جموں و کشمیر پر قبضہ کرنے کے معاملے میں دو بڑی طاقتیں امریکہ اور چین ہی دلچسپی رکھتی ہیں۔ امریکہ اس شرط پر افغانستان سے کوچ کرنا چاہتا ہے کہ اسے اس کے نعم البدل کے طور پر کشمیر میں اپنا فوجی بیس مل جائے تانکہ وہاں سے بیٹھ کر وہ بیک وقت چین، روس اور پاکستان پر نظر رکھ سکے۔ محض اپنے لئے فوجی اڈہ بنانے کے واسطے وہ بھارت کا استعمال کررہا ہے۔ یہ میرا اپنا خیال ہے اور ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو، ممکن جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے یہ سب کچھ اپنے ہی تہی کیا ہو اس لئے کہ بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں پچھلے ایک سال سے سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں پراکسی وار کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کی بھارت کی ساری کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور ان کے دہشت گردوں کا پورے کا پورا نیٹ ورک پکڑا جا چکا ہے۔ ایک بڑے جاسوس کلبھوشن پہلے ہی کال کوٹھری میں ہے اس لئے بھارت کی ”را“ پاکستان اور افغانستان میں پوری طرح سے ناکام ہونے کے بعد اب مودی کے ذریعے جموں و کشمیر میں یہ سیاسی دہشت گردی کروا دی، غرض اس موجودہ کارروائی کے ذریعے بھارت بند گلی میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے پاس اب جنگ کے سوا کوئی آپشن نہیں رہا جب کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت اب جموں و کشمیر میں گوریلا وار کے شروع ہونے کے امکانات بڑھ چکے ہیں جہاں خودکش حملوں اور بھارتی فوجیوں پر حملوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چاہئے کہ سفارتی محاذ پر اپنا نقطہ نظر دُنیا کو بتائیں اور بھارت کی درندگی اور ان کے جنگی جنون کی کیفیت سے دُنیا کو آگاہ کریں اور بتائیں کہ پاکستان اپنے دفاع میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اگر بھارت نے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی غلطی کی تو پاکستان اس کو اس کے توقع سے بڑھ کر جواب دے گا جب کہ وزیر اعظم عمران خان ملک پر آئے اس نازک ترین موقع پر اپوزیشن کو ساتھ لے کر یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور دُنیا کو ہندو ذہن کی عیاری اور مکاری سے آگاہ کریں کہ اصل دہشت گرد یہ لوگ ہیں جو بغل میں چھری رکھ کر رام رام کرکے دنیا کے امن سے کھیل رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں