27

کشمیر۔۔ چڑیا چُگ گئیں کھیت؟

شاید آپ کو یاد ہو کہ ہم نے گزشتہ ہفتہ کی تحریر میں امریکہ کو ہمارا تمہارا بادشاہ قرار دیا تھا۔ یہ صرف پاکستان کے تناظر میں تھا۔ بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے کبھی بھی امریکی بادشاہت کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور اپنے مفادات کے فیصلے کئے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت بھارت کا تازہ ترین دھماکہ خیز اعلان ہے، جس میں اس نے اپنے آئین کی اہم شق میں ردو بدل کردیا جس کے تحت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی اہمیت دی گئی تھی۔ اس پر ابھی گفتگو کرتے ہیں۔
اس اعلان کا اہم ترین پہلو ایک طرح سے امریکہ اور پاکستان کو جواب ہے، اور پاکستان کی امیدو ں اور اس کے امریکہ پر انحصار کا انہدام ہے۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ گزشتہ دنو ں خانِ خاناں عمران خان کی ایک نیم سرکاری امریکہ ےاترا میں، گپ باز امریکی صدر ٹرمپ نے یہ شوشا چھوڑا تھا کہ ”وہ بھارت اور پاکستان میں کشمیر کے معاملہ پر ثالثی کر سکتے ہیں“، اور انہیں یہ عندیہ خود بھارت کے وزیرِ اعظم مودی نے دیا۔ اس پر عمران خان نے خود کو ایک فاتح قرار دیا اور پاکستان میں جشن کا ایک شور اٹھا کہ گویا، ’ہم نے بھارت اور کشمیرکو فتح کر لیا ہو‘۔ ہمارے بہت ہی ’باخبر‘ میڈیا گپ باز، اور ڈان جیسا سنجیدہ اخبار بھی خانِ خاناں کی جے جے پکارنے لگا۔ بھارت نے تو فوراً ہی اپنی وزارتِ خارجہ کے ذریعہ امریکی صدر کی ’گپ‘ کو خام خیالی قرار دے دیا۔
اس کے فوراً بعد یہ خبریں آنے لگیں کہ بھارت کشمیر میں کوئی بڑی کاروائی کرنے جارہا ہے۔ اس نے کشمیر سے ایک اہم ہندو یاترا کے یاتریو ں، اور غیر ملکی اور مقامی زائرین کو کشمیر سے فوری نکل جانے کی ہدایت کردی۔ اور یوں وہاں سے اچانک ہزاروں لوگوں کا انخلا شروع ہو گیا۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت نے وہاں کم از کم دس ہزار فوجی اور نیم فوجی دستوں کا اضافہ کر دیا۔ اور پھر چند ہی دنوں میں آئینی ترمیم کے ذریعہ پاکستان کی حکومت اور ’معزز اداروں‘ کو ہکا بکا کردیا، اور وہ چند نشستوں میں جمع خرچ کرتے رہے، ا ور اپنے میڈیا پر پابندیاں لگاتے رہے۔
اب ذرا یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر کہ بھار ت کے آئین میں کی ترمیم کی گئی ہے جس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کشمیر کے مہاراجہ نے برصغیر کی تقسیم کے وقت اپنا ریاستی استحقاق استعمال کرتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان نے اس فیصلے کو کبھی قبول نہیں کیا اور بارہا اسے جعلی قرار دیا۔ اس کے بعد وہاں کے اکثریتی کشمیری مسلمانوں نے شیخ عبداللہ کی قیادت میں مہاراجہ کی زیادتیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ شیخ عبداللہ بھارت کے کشمیری نژاد وزیرِ اعظم پنڈت نہرو کے دوست بھی تھے۔ پنڈت نہرو ایک سیکولر مزاج رہنما تھے اور ہر مذہبی طبقہ میں ہم آہنگی کے خواہاں تھے۔ انہوں نے کشمیر سے اپنے تعلق، سیکولر نظام کے پرچار اور کشمیر میں امن کے لیئے شیخ عبداللہ کی کوششوں کے بعد بھارت کے آئین کی شق 370 میں ترمیم کے ذریعہ کشمیر میں راجہ حکومت ختم کردی، اور کشمیر کو عارضی طور پر بھارت کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دے دیا۔ بعد میں شق 35 A بھی شامل کی گئی۔
ان ترامیم کے تحت کشمیری شہریوں کو بھارتی شہری قرار دیا گیا۔ بھارت وہاں کے دفاع، خارجہ، مال، اور مواصلات کا ذمہ دار بنا۔ اور کشمیریوں کو اپنی اسمبلی کے ذریعہ مقامی قوانین بنانے کا حق دیا گیا۔ جو اہم منصب راست کو ملا وہ یہ تھا کہ ریاست جائیدا د کی خرید و فروخت کو صرف کشمیری شہریوں تک محدود کر سکتی تھی، اور دیگر بھارتی شہریوں کا اس حق سے محروم رکھ سکتی تھی، ریاست کو خوف تھا کہ اگر غیر کشمیریوں کا جائیدا د کا حق ملا تو کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی اپنی اکثریت کھو سکتی ہے۔
کشمیر کے ہندو مراعات یافتہ طبقے بالخصوص وہان کے پنڈت اس کے خلاف تھے۔ اسی طرح بھارت کو ایک ہندو ریاست کے طور پر دیکھنے والی جماعتیں جنَ سنگھ اور بعد میں بی جے پی ریاست کے خصوصی استحقاق کے خلاف تھے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ کشیر کے اکثر وزرائے اعلیٰ جن میں شیح عبداللہ کا خاندان اور سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں، ہمیشہ بھارت سرکار کی حمایت سے ہی حکومت کرتے تھے۔ اب سے دو سال پہلے خود محبوبہ مفتی، بی جے پی کی مخلوط حمایت سے وزیرِ اعلیٰ بنی تھیں۔ پھر ان کی حکومت توڑ کر وہاں بھارتی صدارتی نافذ کردیا گیا۔
اب ان اہم ترامیم میں تبدیلی کرکے کشمیر کی مزید تقسیم کی گئی ہے۔ جموں اور کشمیر کے علاقہ کا ریاستی استحقا ق برقرار رکھا گیا ہے، گو اس کی جغرافیائی حدیں سکیڑ دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہاں غیر کشمیریوں کو جائیداد کی خرید و فروخت کا حق دے دیا گیا۔ یہ وعدے ہمیشہ سے بی جے پی، اور ہندوتوا کی پر چارک دیگر جماعتوں کے منشور میں شامل رہے تھے۔ اس بار بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہی اس پر عمل درآمد کر دیا۔ حیران ک±ن طور پر کانگریس کے علاوہ، حزبِ اختلاف کی چند اہم جماعتیں ا س فیصلے کی حامی ہے، یوں مودی کو اسمبلی کی بھاری اکثریت اصل ہے۔ وہاں کے ایوانِ بالا نے تو اسے منظور بھی کردیا ہے۔ اب ایوانِ زیریں بھی ایسا ہی کرنے جارہا ہے۔
جہاں تک دنیا کا تعلق ہے، اس معاملہ میں پاکستان تنہا رہ گیا ہے۔ اسے اقوامِ متحدہ میں داد رسی نہیں ملے گی۔ اور اسلامی ممالک بھی پاکستان کی صرف رسمی حمایت ہی کریں گے۔ دوسری جانب امریکہ، روس، سعودی عرب، چین، ایران وغیرہ اس وقت بھارت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ جہاں تک پاکستان کی حمایت اور وہاں کے ’ معزز اداروں‘ کا تعلق ہے وہ حسبِ معمول زبانی جمع خرچ اور دعوے کرتے رہیں گے۔ اب گاڑی نکل چکی ہے۔ کیا خبر کے اسامہ بن لادن کے معاملے کی طرح پاکستان کے اپنے سرکردہ لوگ بھارتی فیصلے کے خفیہ حمایتی بھی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں