40

۔۔۔ الفاظ ہی الفاظ

صاحبو! عجب ماجرا ہے، محسوس ہوتا ہے صدیوں بیت گئیں، قرنوں گزر گئے، کئی نسلیں جواں ہو کر راہی ملک عدم ہوئیں۔ بچے جوان، جوان بوڑھے اور بوڑھے اس جہاں فانی سے گزر گئے مگر اس ملک سے بے آمان میں کسی کو آمان نہیں ملی۔ غریب، غریب سے غریب تر ہو گئے۔ بیمار دواﺅں کے انتظار میں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ تھروں میں بچے پیدا ہوتے ہی اللہ کو پیارے ہوئے، طالبان انصاف کو انصاف نصیب نہیں ہوا اور جنہیں انصاف ملا بھی تو پتہ چلا کہ اسے انصاف کی اندھی دیوی کا دیدار ہی نصیب نہیں ہوا۔ اور وہ خود موت کے اندھیروں میں گم ہو گئے۔ وہ ملک جسے کبھی وہ امن نصیب نہیں ہوا جو کہ آزاد قوموں کو میسر ہوتا ہے یہاں ہر روز ایک نیا تماشہ اور ایک نیا شعبدہ روز بازی گری روز الفاظ کی گولہ باریاں، ہر لمحہ خوشحالی ے وعدے اور ہر لحظہ حالات بدل جانے کی نویدیں، لوگوں کو آس دلا کر انہیں مایوس کردینا، معمول کی بات، وعدوں کی طوطا مینائیں بنا کر انہیں اڑا لینا، کلچر کا حصہ پڑے ہوئے مریضوں کو صحت کاملہ عطا کرنے کی خوش کن طفل تسلیاں، دودھ اور شہد کی نہروں کی بشارتیں، دلاسے دینا اور پھر انہیں پورے نہ کرنا، روایات کہنہ مگر ایک ایسا گروہ بھی جسے وہ تمام نعمتیں میسر ہیں جس کا تصور ایک بے چارا کر بھی نہیں سکتا، یہ اعلیٰ و ارفع مخلوں اس ملک کی مقتدر ترین نسل ہے یہ مقدس گائیں ہیں، کوئی ان کی طرف پہلی نظر سے دیکھ نہیں سکتا، یہ وہ اعلیٰ نسل ہے جسے اللہ نے اپنے دست قدرت سے تخلیق کیا ہے، یہ بغیر پَر کے فرشتے ہیں جو ان ہواﺅں میں پرواز کرتے ہیں جہاں اس ملک سے کروڑوں کیڑے مکوڑے خیال بھی نہیں کرسکتا۔ ان کے بچے بچے نہیں ہیں بلکہ وہ نورانی مخلوق ہیں جن کے پاس سے گناہ گزر نہیں سکتا۔ یہ اسے پاک و پاکیزہ افراد ہیں جہاں گھٹیا عوام کی نجاست کا ذرہ بھر گرز نہیں ہے۔ یہ منہ میں سونا کے چمچے نہیں بلکہ پوری کٹلری لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے منہ ان طلائی ظروف سے چر کر رہ گئے ہیں ان کے منہ چمچے سیدھے نہیں بلکہ آڑے لگائے گئے ہیں جن سے یہ گول گپے ایک عجیب شکل کی مخلوق بن گئے ہیں ان کے اہل خانہ، کیا بات ہے ان کی ایک سے ایک اعلیٰ صفات کے مالک اربوں کھربوں میں کھیلنے والے ان تک پہنچنا انسان تو انسان فرشتوں کا پہنچنا مشکل ہے۔ یہ شکل و صورت میں انسانی کی طرح ہیں مگر یہ وہ خاص تخلیق ہے کہ ان کی ہمسری کا دعویٰ کوئی نہیں کرے گا۔ یہ افراد جنہیں اس ملک کے بدقسمت لوگوں پر حکمرانی کا حق حاصل ہوتا رہا ہے اور اس شکارگاہ میں انہوں نے وہ وہ شکار کئے ہیں کہ اس کے آگے قارون، فرعون اور شداد بھی بوے معلوم ہوتے ہیں انہوں نے اس ملک کے کروڑوں افراد کو کیڑے مکوڑوں کی طرح تصور کرکے ان کے منہ کے نوالے چھین لئے، بچوں کا دودھ، خود پی گئے، مریضوں کی دواﺅں میں زہر گھول کر انہیں فروخت کیا۔ انہوں نے یتموں کا حق کھایا، بیواﺅں کے مال پر ہاتھ صاف کیا انہوں نے زکوٰة کو شیر مادر سمجھ کر پیا اور اس خدائی مال پر اپنے باپ دادا کا حق سمجھ کر اسے سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا، یہ وہ گروہ آدم خور تھا جس نے لوگوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا، ہر آدم خور پوری نسلوں کو کھا گئے۔ ہاں یہی وہ قاتل، لٹیرے، ٹھگ اور غداران قوم ہیں جن کے سارے کرتوت لوگوں کے سامنے کھل کر آگئے ہیں۔ ان کی ایک گھناﺅنی اور گھٹیا حرکت طشت ازبام ہو چکی ہے ان پر الزامات ثابت ہو کر انہیں مجرم بنا چکے ہیں مگر وہ رے اس ملک کے عدالتی نظام، سرخ فیتے اور وہ بدکار عمال حکومت جو ان بدمعاشوں کی بدولت اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں ان کے خلاف بہت کچھ ثابت ہونے کے باوجود یہ بدمعاش قانونی موشاگافیاں کرکے ہزیان بکتے پھرتے ہیں۔
دنیا کا کون سا قانون ہے کہ مجرم، چور، ڈاکو اور مملکت کے دشمنوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ ٹی وی ریڈیو اور میڈیا کے سامنے آکر جو کچھ ان کے منہ میں آئے بکتے چلے جائیں؟ عدالتوں کے سزا یافتہ مرد اور عورتیں انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور تف اس ملک کے ان افراد کو ہر جواب بھی ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر ان کی طرف داری کررہے ہیں یہ مملکت کے دشمن ملک سے باہر اپنے سرمائے کے بل بوتے پر حکومت کو نہیں بلکہ ریاست کے خَاف سازشیں کررہے ہیں اور قانون اندھا، قانون اب بہرہ بھی ہو گیا۔ ان کے زرخرید قانون دان کروڑوں روپیہ فیس لے کر انہیں معصوم اور بھولا ثابت کرنے کی تگ و دو کررہے ہیں آج اس شرارتی کوٹ نے جن میں سیاہ کار، سیاست دان اور منافق مذہبی لٹیرے بھی شامل ہیں، ملک میں انارکی پھیلانے کی سازشیں کررہے ہیں آج یہ سب اپنی جان بچانے کے لئے ملک کو داﺅ پر لگا رہے ہیں اور مملکت کے بنیادی دشمنوں کے ساتھ مل کر ملک کی اساس پر کاری ضرب لگانے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ دوسرے ممالک میں اپنے ایجنٹوں اور غیر ملکی لابسٹ کے ساتھ مل کر مملکت اور اپنی مسلح افواج کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ وہ نام نہاد سیاستدان ہیں جو امریکہ سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کی حفاظت کے لئے وہ اپنے فوجی دستے پاکستان بھیج دیں کیونکہ وہاں کی فوج سے انہیں خطرات لاحق ہیں، یہ بدکردار لوگ فوج اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے لئے دشمنوں سے سازباز کررہے ہیں اور ٹھوس، ثبوت ہونے کے باوجود یہاں کا اندھا اور بہرہ قانون انہیں تحفظ دے رہا ہے۔
جب کہ یہ ابن الوقت پوری قوم کو تباہی کے دہانے پر لانے کے باوجود صرف اپنی اور اپنے خاندان کے مفاد کی بات کررہا ہے، یہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی غصب شدہ دولت جس نے ملک کو دیوالیہ کردیا ہے کو انہیں ڈکارنے دیا جائے اور وہ ایک مرتبہ پھر ملک سے باہر جا کر اپنی آئندہ باریوں کا راستہ صاف کرسکیں کیونکہ یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ اس ملک کے 22 کروڑ عوام آج بھی ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آسکتے ہیں، ایک مرتبہ پھر ان کے گلوں میں پھولوں کے ہار ڈال کر اپنے گلوں میں لعنت کے طوق ڈال لیں گے۔ کیونکہ 70 سال سے یہی سب کچھ ہو رہا ہے مگر اب حکومتوں کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ اب اس ملک کا جغرافیہ ہی تبدیلی ہونے کی کوشش ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں