35

آستین کا سانپ

دنیابھر کے مسلمان ممالک سمیت نام نہاد حقوق انسانی کے علمبردار آج ایران کے خلاف امریکہ کی انتہائی جارحانہ پالیسی اور اسے تباہ کرنے کی کوششوں پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔ دوسرے تو خیر ”غیر“ ہیں مگر ”اپنے“ تو ان سے لاکھ درجے بہتر ہیں جو نعرہ مسلمان ہونے کا لگاتے ہیں مگر ان کا کردار اسرائیل، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک سے بھی بہتر ہے بعض مسلمان ممالک تو ایران دشمنی میں بادشاہ سے زیادہ بادشاہ کے وفاداروں کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سعودی عرب تو خیر سے ہی یہودیوں کی پیداوار اور امریکہ کا زرخرید غلام جو امریکہ میں امریکیوں سے زیادہ ٹیکس کی دولت سے زائد اسے فوجی تحفظ دینے پر ہر سال ادا کرتا ہے اس کے علاوہ اس کے تیل پر مکمل اجارہ داری امریکہ کی ہے ادھر ایک نظر ”شیعہ“ ایران کے ”جرائم“ پر ڈال لی جائے جس کی سزا آج دی جارہی ہے۔ شہنشاہ ایران کے دور میں ایران اس علاقہ کا پولیس مین تصور کیا جاتا تھا جس کا برملا اظہار ایک مرتبہ بھٹو نے لاہور ایئرپورٹ پر شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کو پاکستان کے دورے کے بعد واپس ایران روانہ ہو رہے تھے وہاں موجود صحافیوں کے سامنے شہنشاہ کو گالی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ شاہ کو علاقے کا تھانے دار بنانا چاہتا ہے۔ ویسے جس طرح آج سعودی تیل پر مکمل اجارہ داری امریکہ کی ہے اسی طرح شاہ کے دور میں ایران کا 80 فیصد تیل امریکہ کے قبضے میں تھا جو امریکہ اور برطانیہ کے لئے مختص تھا۔ امام خمینی نے قم میں پہلی مرتبہ امریکہ کے خلاف بیان دیا جس سے ایران اور امریکہ کے ایوان اقتدار میں زلزلہ آگیا۔ شہنشاہ نے تلملا کر کہا کہ یہ کون ہے جو میرے اور امریکہ کے تعلقات کے خلاف بات کرنے کی جرات کی اور اس کے بعد امام خمینی کو جیل میں ڈال دیا گیا۔
جس کے بعد انہیں نجف اشرف (عراق) میں جلاوطن کردیا گیا۔ وہاں اس وقت عراق کے آمر صدام کو امام سے خطرہ لاحق ہوا تو انہیں پیرس بھیج دیا گیا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد اسی مرد قلندر خمینی نے امریکہ کے سب سے بڑے پٹھو اور ایشیا کے پولیس مین شاہ کو اٹھا کر ایران سے باہر بھیج دیا جس کے بعد اسے دنیا میں پیر رکھنے کی کوئی جگہ میسر نہیں تھی۔ ادھر ایران میں انقلابیوں نے امریکہ سفارت پر قبضہ کرکے وہ ساری دستاویز اپنے قبضے میں لے لیں جو دہشت گردی اور جاسوسی کے ثبوت تھے۔ ایران مسلمان ایران پر امریکہ، سعودی عرب، اسرائیل اور نام نہاد مسلمان ممالک نے مل کر حملے کئے جس میں امریکی جہاز اور میزائل استعمال ہوئے اور اس آٹھ سالہ جنگ میں ایران کے دو لاکھ سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں 72 ہزار کرد اور برادران اہل سنت ایران شامل تھے، باقی شیعہ العقیدہ افراد تھے۔ جنگ کے بعد دنیا میں پہلی مرتبہ سپرپاور امریکہ کا سفارت خانہ ایران میں میں ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا کہ امام خمینی نے امریکی سفارت خانوں کو جاسوسی کے اڈے قرار دیا تھا۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی منتخب اور پاپولر حکومتوں کے خلاف بغاوتیں ہوئی ہیں ان سب میں امریکی سفارت خانے ملوث پائے گئے ہیں۔ آج امریکہ ایران کو تباہ کرنے کے لئے ایران پر لگاتار اقتصادی پابندیاں لگا رہا ہے جو اب تک 114 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ ایران بدترین مہنگائی کا شکار ہے۔ ایرانی ریال تاریخ کی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ایرانی تیل پر پابندی، تجارت پر پابندی، ایئر میل ڈاک پر پابندی، شخصیات پر پابندی، بینک اکاﺅنٹس پر پابندیاں اور ایران کے تقریباً ایک ارب 70 کروڑ ڈالر امریکہ نے اپنے قبضے میں لے لئے۔
امریکہ جس نے مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ القاعدہ اور طالبان بنائے جب کہ سنی اور شیعوں نے مل کر انہیں ختم کردیا اور اب اس نے داعش تشکیل دی جس کا ثبوت ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”داعش کو ہمنے بنایا جس کا مقصد مشرقی وسطیٰ کے مسلم ممالک کو تباہ کرنا تھا“۔ یہ وہی داعش ہے جس نے مقدس مزارات کو منہدم کیا، عورتوں کو بے عزت کیا اور جہاد کے نام پر ڈاکوﺅں اور قاتلوں کو قتل اغواءاور لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ کیا اب بھی نام نہاد مسلم ممالک سعودی عرب کو اپنا والی وارث اور مسلمانوں کے پیشوا کے طور پر تسلیم کریں گے؟ محض اس بناءپر کہ اس نے ان ممالک کو اپنی دولت کے ذریعہ مادی طور پر اور مقدس مقامات اور حج جیسے اہم رکن دین کی بناءپر اسیر بنا رکھا ہے۔ آج سعودی عرب مسلمانوں کے دشمنوں اسرائیل اور ہندوستان کو جو مقام دے رہا ہے وہ اس نے مسلم ممالک کو کبھی نہیں دیا۔ بلکہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کی شہہ پر ہمیشہ مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کیا۔ جس میں ایران کے خلاف اپنی مادی اہلیت کو استعمال کیا اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا اور اب اپنی سرزمین پر دنیا کا سب سے بڑا بت خانہ قائم کرکے اور ہندوستان کے ظالم وزیر اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین اعزاز عطا کرکے کشمیر کے 80 ہزار مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذمہ دار نام نہاد اسلامی ملک کا دعویدار آج یہودی، نصرانیوں اور ہندوﺅں سے بڑھ کر مسلمانوں کا دشمن ثابت ہو رہا ہے مگر ایک دن یہ بھی چہیتوں کی زد میں آئے گا اور اس کے مقدس ترین مقامات بھی بیت المقدس کی طرح اسرائیل کے قبضے میں ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں