88

دو ایٹمی ممالک میں کشیدگی سے دُنیا خطرہ میں

ٹورنٹو / شکاگو (پاکستان ٹائمز) وزیر اعظم عمران خان نے گورنر ہاﺅس لاہور میں سکھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں میں کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ہارنے اور جیتنے والوں کے مسائل بڑھ گئے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ 28 دنوں سے 80 لاکھ کشمیریوں کو بند کردیں۔ کوئی خبر بھی نہ آنے دیں، یہ قابل قبول نہیں۔ صرف مسلمان نہیں بلکہ اس غیر انسانی عمل کی مذمت تمام مذاہب کے لوگوں نے کی ہے۔ دونوں ایٹمی ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے دنیا کو خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے سکھوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے لئے پاکستانی ویزہ کو آسان بنایا اور پرانے کلچر کو تبدیل کیا ہے۔ Multiple and On Arrival ویزاہ دینے کے لئے ویزہ پالیسی کی تبدیلی کے لئے کام کررہے ہیں۔ میں پاکستان کے قیام کے بعد پہلی نسل سے ہوں۔ والدین غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے، میں نے آزاد پاکستان میں آنکھ کھولی۔ ہمیں تقسیم کے وقت کی بہت خوفناک داستانیں سنائی گئیں مگر جب پہلی بار بھارت گیا تو بالکل مختلف ملک پایا اور احساس ہوا کہ بھارت دشمنوں کا نہیں دوستوں کا ملک ہے۔ ہمارے وہاں بڑی دوستیاں ہیں۔ بڑی عزت ملتی ہے۔ میں وزیر اعظم بنا تو پہلی اوّلین ترجیح بھارت سے بہتر تعلقات استوار کرنا تھے۔ بھارت کو دوستی کا پیغام دیا اور کہا کہ بھارت ایک قدم بڑھے گا تو ہم دوستی میں دو قدم بڑھیں گے۔ نریندر مودی سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ غربت اور بے روزگاری دونوں ملکوں کا مسئلہ ہے۔ برصغیر میں ماحولیاتی تبدیلی کا بہت بڑا عذاب آنے والا ہے۔ ہمارے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اگر ہم نے باہمی تعاون سے مل کر کچھ نہ کیا تو دریاﺅں کا پانی کم ہوتا جائے گا۔ دونوں ممالک کے کروڑوں لوگ دریاﺅں کے پانی پر زندگی گزارتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ 72 برسوں سے کشمیر ہے۔ جسے سنجیدگی سے حل نہیں کیا جارہا ہے۔ شرائط عائد کی جارہی ہیں، بھارت ہم سے سپرپاور کی طرح بات کرتا ہے۔ ہم نے مل کر انگریز کی غلامی سے نجات حاصل کی تو ہندو نے ہم پر مسلط ہونے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجہ میں قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت میں آر ایس ایس جو کچھ کررہی ہے یہ انسانیت نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا کوئی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے؟ قائد اعظم محمد علی جناح نے سیکولر پاکستان کی بنیاد رکھی جہاں تمام مذاہب کو آزادی سے رہنے کا حق دیا۔ آج کے بھارت میں ہندو کے علاوہ کسی اور کے رہنے کی جگہ نہیں۔ 20 کروڑ مسلمان خوفزدہ ہیں۔ نسل پرست نظریہ سے بھارت کے لوگوں کو خطرہ ہے۔ کیونکہ آر ایس ایس میں برداشت نہیں، جو ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے، آر ایس ایس کے لوگ وہاں پہنچ جاتے ہیں اور وہ غدار ٹھہرتا ہے۔ انہوں نے سکھوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ننکانہ صاحب آپ کا مکہ ہے اور ہم کسی کو اُس کی مذہبی رسومات اور عبادات سے کیسے روک سکتے ہیں۔ ہم بابا گرونانک کی 550 ویں سالگرہ مل کر منائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں