36

طوفان زدہ مسافر

جہاز نے جیسے ہی اڑان بھری، کچھ ہی دیر میں عملے کے افراد جہاز کے ہر حصے میں نمودار ہوئے، ان کے ہاتھوں میں جہاز کے ایمرجنسی کے موقع پر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے چند مخصوص قسم کی چیزیں تھیں، جہاز کے اسپیکر سے ہدایات کا سلسلہ شروع ہوا، ساتھ ہی ساتھ عملہ ان ہدایات کے تحت ان آلات کا استعمال کرنے کے طریقہ سب کے سامنے عملی مظاہرہ کررہا تھا۔ یوں ایک ایک ہدایت کے تحت ہر موقع کے اعتبار سے ہر آلے کو استعمال کرنے کا طریقہ کرکے دکھایا گیا تاکہ وقت ضرورت کسی کو بھی ان حالات کے مطابق آلات کو استعمال کرنے میں دقت محسوس نہ ہو۔ جہاز میں سفر کرنے والے مسافر ہر طرح کے حالات سے نبردآزما ہونے کے لئے تیار رہتے ہیں اس طرح ہنگامی صورت حال میں وہ تمام مراحل سے با آسانی گزر جانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اس ہی طرح وطن کی حفاظت پر معمور افراد کو بھی جنگی صورت حال سے نمٹنے کے لئے باقاعدہ تربیت یا جنگی ٹریننگ دی جاتی ہے، بعض ملکوں میں تو فوجی خدمات دینے والے باقاعدہ اداروں کے عملے کے ساتھ ساتھ غیر فوجی یا سویلین کو بھی فوجی تربیت لازمی طور پر اختیار کرنا پڑتی ہے۔ اگر کوئی شہری کسی فوجی ادارے میں شمولیت کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ قریبی فوجی بھرتی کے مرکز پر جا کر شمولیت اختیار کرتا ہے۔ بھرتی ہونے کے بعد سب سے پہلے اس سے وطن کی خاطر قربانی دینے کا حلف اٹھوایا جاتا ہے کہ وہ اپنے وطن کی سرزمین کی حفاظت کے لئے جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ یوں وہ کسی بھی فوجی خدمات کے ادارے میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرتا ہے۔ فوجی وردی پہن کر وہ اپنے وطن کو سلامی پیش کرتا اور عوام اس فوجی جوان کو۔
اس ہی طرح کسی مذہب میں شامل ہونے کے لئے چند بنیادی چیزوں کو اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر مذہب کے الگ الگ طریقے ہوتے ہیں ان کی تعلیمات بھی مختلف ہوتی ہیں مگر مقصد ایک ہی ہوتا ہے اس میں شمولیت اختیار کرنے والے فرد کو بہت سی ہدایات پر بھرپور انداز میں عمل کرنا ہوتا ہے یعنی مذہب کی تعلیمات یا ہدایات پر عمل کرنا لامزی ٹھہرتا ہے تاکہ وہ ایک اچھا انسان بن سکے اور مذہب میں شمولیت کے بعد اس کی ہدایات یا تعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہو سکے۔
دین اسلام کی تعلیمات صرف دنیا کے لئے ہی نہیں بلکہ آخرت کے لئے بھی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کو دین کہا جاتا ہے۔ اس میں کلمہ پڑھتے ہی آپ کی آن جاب ٹریننگ شروع ہو جاتی ہے کیونکہ اس کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو کر دین کی ہدایت کو پورا کیا جاتا ہے۔ پیغمبروں نے دین کو سب سے پہلے اپنے آپ پر مکمل طور پر نافذ کرکے دکھایا اور ان کے صحابہؓ نے ان کی پیروی کو اپنا فرض اولین سمجھا یعنی ہمارے پیغمبروں نے اپنی ذات کو نمونہ بنا کر امت کے سامنے پیش کیا صرف تعلیمات ہی نہیں پیش کی گئیں بلکہ ان تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو کر امت کے سامنے ایک نمونہ پیش کیا گیا۔
ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ کی حیات مبارکہ کا ایک ایک گوشہ امت کے سامنے ہے جو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ایک مکمل نمونہ ہے۔ میرے آقا کی حیات کا ایک ایک حصہ چاہے وہ جنگ کے موقع پر ہو یا گھر میں ایک شوہر کی حیثیت سے، والد کی حیثیت سے، دوست کی حیثیت سے، ایک ایک روشن مثال ہے۔ آج کے زمانے میں جب دوسرے مذاہب کی تعلیمات مکمل طور پر بدل دی گئیں ہیں مگر ان کے پیروکار جیسی بھی تعلیمات ان پر مکمل عمل پیرا ہو کر دنیا میں کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کررہے ہیں جب کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم نے ان تعلیمات کو یا تو یکسر فراموش کرلیا ہے یا ان پر اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق عمل کررہے ہیں۔ ہر وہ کام کیا جاتا ہے جو ہمارے دین کی تعلیمات کو جھلٹلا کر اختیار کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دین سے دور تو ہو گئے دنیا بھی ہم سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اربوں مسلمان دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں مگر نہ دین کی تعلیمات کو پورا کررہے ہیں نہ ہی دنیا کو اس کے مطابق برت رہے ہیں بحیثیت قوم بھی ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں، انفرادی طور پر بھی پستی کی جانب رواں دواں ہیں۔ افسوس یہ ہی جتنی آفاقی تعلیمات دین اسلام کی ہیں ان پر عمل نہ کرکے امت تمام تر اخلاقی حدود سے گرتے چلے جارہے ہیں۔ غفلت کی انتہا یہ ہے کہ بار بار عبرت کی نشانیاں ظاہر ہونے کے وہ مستقل غلط راستوں کو اختیار کررہے ہیں۔ یعنی ہم مسلمان دین کی نعمت کو جھٹلا کر کفران نعمت کے مرتکب ہو رہے ہیں، نہ اپنے دین سے مخلص ہیں، نہ اپنی ذات سے، نہ دوسروں سے۔ دین کی تعلیمات سے دن بدن دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ وہ ہر دو جانب سے خسارہ اختیار کرتے جارہے ہیں، اس کی مثال جہاز کے ان مسافروں کی ہے جو آلات کو استعمال کرنے کے طریقے جاننے کے باوجود ہنگامی حالات میں اپنے اپنے طریقوں سے جان بچانے کی جدوجہد میں اپنی جانوں کو بھی اور جہاز کے دوسرے مسافروں کو خطروں سے دوچار کررہے ہوں جب جہاز لمحہ بہ لمحہ طوفانوں میں گھر کر خطروں میں آچکا ہے مگر مسافر ہوش میں آنے کو تیار نہیں۔ یہی آج کے دور کے مسلمانوں کا المیہ ہے۔ تمام تر تعلیمات اور ہدایات کو فراموش کرکے دین کو اپنے طریقوں سے گزار کر اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں اور دوسروں کی عاقبت بھی۔
دنیا بھر کے مسلمان وہ جس ملک کے بھی باشندے ہوں وہ بحیثیت مسلمان جس طرح سے ذلت اور رسوائی کا شکار ہو رہے ہیں اس کا اندازہ اب با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ عرب ممالک دولت مند ہونے کے باوجود مغربی ملکوں کے آگے سر اٹھانے کی جرات تک نہیں کر سکتے وہ ان ممالک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپس میں دست و گریبان ہیں۔ آج مسلمان ہی مسلمانوں کا دشمن بنا دیا گیا ہے۔ دولت مند عرب ممالک ایران کی مخالفت میں اسرائیل کے ہمنوا بن چکے ہیں۔ ایران بھی بہت سے عرب ملکوں میں ان کے اندرونی امور میں مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس طرح مسلمان دو گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے سب سے پہلے بوسنیا کے مسلمانوں کی منظم طریقہ سے نسل کشی کی گئی اور لاکھوں مسلمانوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے بعد فلسطین کے مسلمانوں پر بے تحاشہ مظالم ڈھائے گئے۔ روہنگیا کے مسلمانوں کا قتل عام کرکے ان کو اپنے اپنے علاقوں سے بھاگ کر دربدر ہونے پر مجبور ہوئے اب کشمیر کے مسلمانوں پر ایک نئی طرح کی مصیبت نازل کردی گئی ہے۔ جب کہ بھارت اس وقت بہت سے عرب ملکوں کے ساتھ ساتھ ایران کی بھی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے۔ سوائے کچھ مسلمان ملکوں کے سب کی آنکھیں کشمیر کے مسلمانوں کی طرف سے بند نظر آتی ہیں۔ صرف پاکستان جس کی اندرونی حالت بھی نہایت ناگفتہ بہ ہے وہ ہی کشمیر کے لئے اپنی کمزور سی آواز بلند کررہا ہے اس وقت مسلمانوں کا درد رکھنے والے دلوں سے یہ ہی آواز بلند ہو رہی ہے۔
اے رحمت باری کے خزانے والے
اسلام پہ ہنستے ہیں زمانے والے
ہوا ہے مسلمان کا مسلمان دُشمن
اے دُشمنوں کو دوست بنانے والے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں