38

مسلم مخالف آسٹریلوی سینیٹر کو انڈا مارنے والے نوجوان کیلیے نیا اعزاز

سڈنی: مسلم مخالف شرپسندانہ بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر فریزر اینیگ کے سر پر احتجاجاً انڈا مارنے والے نوجوان کی تصویر کو معروف میگزین نے اپنے سرورق پر چھاپا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر 17 سالہ نوجوان ویل کونولی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ آسٹریلیا کے معروف میگزین ’ایلی ‘ میں ایک کالم ’بغاوت ایک مقصد کے لیے ‘ شائع ہو رہا ہے جس میں آسٹریلوی سینیٹر کے متعصبانہ اور نسل پرستی پر مبنی بیان پر میرے ردعمل کو سراہا گیا میگزین ایلی اکتوبر کے شمارے میں اپنے سرورق پر میری تصویر بھی شائع کر رہا ہے۔
17 سالہ نوجوان نے پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلوی سینیٹر کے سر پر موقع دیکھتے ہی انڈا مارا تھا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی تھی جس کی پاداش میں آسٹریلوی سینیٹر نے نوجوان کو مکے رسید کیے اور دھکا دے کر فرش پر گرا دیا تھا، سیکیورٹی اہلکاروں نے نوجوان کو حراست میں لے لیا تھا تاہم پورے واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی۔
ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی نوجوان سوشل میڈیا پر ہیرو بن گیا تھا جہاں صارفین نے اس کی رہائی کے لیے فنڈ ریزنگ پیجز بھی بنائے اور نوجوان کی رہائی کا مطالبہ کیا، عوامی دباﺅ پر نوجوان کو رہا کردیا گیا، اس دوران فنڈ رائزنگ پیجز کے ذریعے ایک لاکھ ڈالر جمع ہوئے جو نوجوان نے نیوزی لینڈ مساجد کے شہدا کے فنڈ میں جمع کرا دیئے تھے۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر سفید فام آسٹریلوی شخص نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 50 نمازیوں کو شہید اور 38 کو زخمی کردیا تھا تاہم آسٹریلوی سینیٹر فریزر اینیگ نے واقعے کی مذمت کرنے کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور مسلمان پناہ گزینوں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں