100

کشمیر ایک نظریہ ہے

کشمیر کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ بھارت نے اپنی فوج کے کشمیر میں اضافہ کے باوجود حالات بھارت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ بھارت مستقل جھوٹ کا سہارا لے کر دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کررہا ہے مگر اس بار کشمیر کی عوام نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ جیتیں یا ہاریں مگر اپنی آئندہ نسلوں کو ایک آزاد وطن میں زندہ رہنے کا حق دلا کر رہیں گے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور دنیا کے تمام ممالک کے عوام کی زبان پر کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کی داستانیں ہیں۔ تحریک حریت میں حصہ لینے والوں کو بھارت کی فوج نے سزائے موت سنا دی ہے۔ مگر کشمیر کی آزادی اب ایک نظریہ بن چکی ہے اور آپ انسانوں کو مار دیں۔ اٹھنے والی آوازوں کو دبا دیں مگر نظریہ کبھی نہیں مرتا بلکہ جس قدر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جائیں گے۔ تحریک مزید زور پکڑے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ کو حل کرنے میں دونوں ممالک نے تاخیر سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔ ہمارے سابقہ حکمرانوں نے بھی بھارت سے پینگیں تو بڑھائیں مگر انہیں مذاکرات کی ٹیبل پر لانے میں ناکام رہے۔ آج کا کشمیری نہ پاکستان پر بھروسہ کرتا ہے اور عالمی طاقتوں پر۔ وہ جان چکا ہے کہ وہ اپنی آزادی اپنے ہی زور بازو کے ذریعہ حاصل کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک روز بروز زور پکڑتی جارہی ہے اور عالمی طاقتیں بھارت اور پاکستان کے درمیان تناﺅ بڑھا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ اب جنگ زمین کے لئے ہے۔ اس خوبصورت وادی میں عالمی طاقتوں کو انسان نہیں بلکہ وہ قدرتی خوبصورتی پر قابض ہونا ہے جو کشمیر کی اساس ہے۔ اُن خوبصورت وادیوں میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنا قابل مذمت ہے۔ افسوس صد افسوس کہ اب مذہب کی بنیاد پر فیصلہ اور مدد نہیں ہوتی بلکہ ذاتی مفادات کو ہر چیز پر ترجیح حاصل ہے۔ چنانچہ بھارت سے جن ممالک کے کاروباری روابط ہیں وہ بھارت کے ساتھ ہیں۔ اُن کی وہاں پر انویسٹمنٹ ہیں اور کون چاہے گا کہ بھارت جیسے بڑے ملک کو جس کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک بھی اس خوفناک کھیل میں شامل ہیں، سے اپنے تعلقات خراب کریں۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے اور نہ صرف غیر مسلم بلکہ مسلمان ممالک بھی اس معاملہ کو حل کرنے کے بجائے طول دے رہے ہیں اور کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے۔ وجہ صرف ایک ہے کہ ہمیں انسان نہیں زمین چاہئے۔ اب خواہ وہ عراق ہو، شام ہو، فلسطین ہو یا پھر کشمیر۔ ہمارے رسول اور قرآن کی پیشن گوئی سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ اور دنیا اُس صورتحال کی جانب بڑھ رہی ہے جس کا ذکر اور پیشن گوئی ہمارے آخری نبی کر گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں