41

ارضِ وطن

درندگی و سیہ کاریوں کے نقشِ قدم
گلی، محلہ و بازار کی ہو راہ کوئی
یہ کاروانِ ہوس کی کہیں سے درآمد
یہ میری ارضِ وطن ہے کہ قتل گاہ کوئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں