22

اکثریت اقلیت

بھارت میں انتہا پسندی کا سہارا لے کر بی جے پی نے کانگریس کو زبردست شکست سے دوچار کردیا۔ بی جے پی کے نریندر مودی نے پورے بھارت کے ہندوﺅں کو اپنے انتہا پسند نعروں سے فتح کرتے وقت ہندوستان کے اس سیکولرازم کا پردہ چاک کرکے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کردیا تھا۔ ہندوستان کے اس سیکولرازم کا پردہ ان کے رہمناﺅں نے اس وقت سے قائم رکھا تھا جب سے انگریز نے تقریباً سو سال حکومت کرنے کے بعد ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ہندوستان کی آبادی کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ گاندھی جی اور پنڈت جواہر لعل نہرو نے پورے ہندوستان پر ہندوﺅں کا تسلط قائم رکھنے کے لئے سیکولر ازم کا نعرہ بلند کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال کر ہندو اکثریت کو ان پر مسلط کردینا تھا۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم نے اس موقع پر ان ہندو رہنماﺅں کے عزائم کو بھانپ لیا۔ قائد اعظم نے اس موقع پر جداگانہ انتخاب کا نعرہ بلند کیا کہ مسلمانوں کی آبادی کی بنیاد پر ان کے کوٹے کے مطابق اسمبلیوں اور حکومت اور اس کے سرکاری اداروں میں متناسب طور پر مخصوص کیا جائے۔ قائد اعظم کو معلوم تھا کہ اگر ایسا نہیں ہو سکا تو یہ ہندو رہنما مسلمانوں کو بہکا کر پورے ہندوستان پر قبضہ کرکے اپنی اکثریت کے بل پر مسلمانوں کا ہر ہر شعبہ ہائے زندگی میں استحصال کریں گے۔ یوں مسلمان ہندوستان میں رہ کر پستی میں جا گریں گے۔ بہت عرصہ تک تو قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کی خاطر اپنے متناسب نمائندگی کے مطالبہ پر قائم رہے مگر جب انہوں نے محسوس کیا کہ ہندو رہنما ان متناسب نمائندگی کے مطالبے کو ماننے کو تیار نہیں تو انہوں نے مایوس ہو کر علیحدہ مملکت کا نعرہ بلند کیا جو ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے دل کی آواز بن گیا۔ اس طرح ہندوستان کے تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں متحد ہو کر تحریک پاکستان میں شامل ہو گئے۔
اس کے جواب میں گاندھی جی اور پنڈت جواہر لعل نہرو نے سیکولرازم کا نعرہ بلند کیا، ہندوستان کے مسلمان یہ جانتے تھے کہ ایک بار وہ اس سیکیولرازم کے نعرہ سے متاثر ہو کر ہندوستان کی ہندو آبادی کے ساتھ رہنے پر تیار ہو گئے تو وہ اپنی اکثریت کے سہارے ان کے حقوق کو پامال کرتے رہیں گے کیونکہ پورے ہندوستان کے مسلمان ہندوﺅں کے ساتھ صدیوں سے رہتے رہے تھے اور جانتے تھے کہ ان کے انتہا پسند ہندو منہ میں رام رام کرتے بغل میں چاقو رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک حصہ آخر تک متحدہ ہندوستان کا حامی رہا جن میں مولانا ابوالکلام آزاد حسین احمد مدنی اور مولانا مودودی کے ساتھ پنجاب کے اکثر رہنما اور صوبہ سرحد کے خان برادر بھی شامل تھے۔ یعنی ان علاقوں کے رہنما آخر تک پاکستان کی مخالفت کرتے رہے جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت تھی سوائے بنگال کے جن میں مولانا عبدالحق اور حسن شہید سہروردی بنگالی مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کے زبردست حامی تھے جب کہ پنجاب سے علامہ اقبال تو پاکستان کے تصور کے خالق تھے مگر باقی اکثر رہنما پاکستان کے مخالف تھے۔ یہی حال صوبہ سرحد میں تھا جس کی وجہ سے وہاں پر ریفرنڈم کروانے کی نوبت آئی، سندھ کے رہنما پاکستان کے حامی تھے مگر جاگیردار اور وڈیرے زبردست مخالف تھے جو وہاں کے عوام پر بھی قابض تھے۔ جس کی وجہ سے وہ بے بس تھے کہ اپنی آزادانہ رائے کے لئے کوئی موثر ذریعہ سیدھے سادھے سندھی عوام کے پاس نہیں تھا، سندھ میں بڑے وڈیرے ہندو تھے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ تقسیم ہو اس لئے انہوں نے مسلمان وڈیروں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا، جس کی وجہ سے وہاں کے عوام بے اختیار تھے کہ پاکستان قائم ہو یا متحدہ ہندوستان رہے۔ یہ ہی صورت حال بلوچستان کی تھی جہاں پر عوام سرداروں کے رحم و کرم پر تھے۔ یہ تو پاکستان کے علاقوں کے مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے ساتھ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی کاوشوں سے پاکستانی علاقے آزاد ہوئے۔ مگر ہندوستان کے ان علاقوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں تھے وہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے ساتھ رہنے پر مجبور تھے۔ یوں پورے ہندوستان میں سیکولر ہندوستان کے نام پر پورے ہندوستان پر انتہا پسند ہندوﺅں نے اپنا تسلط قائم کرلیا۔ اس طرح اقلیتی علاقوں کے مسلمان ہندو اکثریت کے ساتھ رہنے پر مجبور رہے جب کہ پاکستان میں سب سے موثر حصہ ان ہی اقلیتی مسلمانوں کا تھا، آزادی کے بعد ہندو اکثریت دن بہ دن مسلمانوں کو دباتی رہی ان کو اپنا محکوم بنا کر انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق وہاں کا نظام اس طرح سے بنانا شروع کردیا کہ وہاں کے مسلمان پستی میں گرتے چلے گئے۔ یہ اس بات کی سزا تھی کہ انہوں نے پاکستان کے لئے نہ صرف اپنا تن من دھن تک لٹا دیا بلکہ ان اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی تاریک سے تاریک کردیا۔
نریندر مودی کے وزیر اعظم کے بعد مسلمانوں پر جس طرح مظالم کے پہاڑ تورے جارہے ہیں وہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں دنیا کے سامنے آچکے ہیں وہ اکثریت کے مظالم کا مسلسل شکار بنے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی یہ رہی پاکستان کے مسلمان بھی اکثریت کے ستم کا شکار ہو گئے۔ بنگالی مسلمان کو پاکستان کے قیام کے بعد ہی صورت حال کو جان کر ہی اپنے علاقے کو موجودہ پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر باقی علاقے کے مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی اکثریت کے تحت رہنے پر مجبور تھے۔ جس طرح ہندوستان کے مسلمان ہندو اکثریت کے محکوم رہنے پر مجبور تھے مگر پاکستان میں بھی مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی اکثریت کے تحت زندگیاں گزارتے رہے یہ ہی وجہ تھی کہ سندھ، سرحد جو کہ بعد میں کے پی کے بن گیا وہ بھی اکثریت کی زیادتی کی شکایت کرنے پر مجبور تھے۔ بلوچستان کے لوگ تو اپنی آزادی کے مطالبہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ پنجاب کے عوام جو پاکستان میں اکثریت میں تھے وہاں کا جاگیردار ان پر بھی اپنا تسلط مضبوط کرتا رہا، جواب میں وہ باقی علاقے کے اپنے مسلمان بھائیوں کی ناراضگیوں کا سبب بنتے رہے۔ یعنی ان کی اکثریت سے اقلیت والے نالاں ہوتے رہے، یوں چھوٹے صوبے پنجاب کی اکثریت کو اپنے مسائب کا ذمہ دار سمجھتے۔
اس ہی طرح کی اکثریت کا سہارا لے کر سندھ کا وڈیرہ بھی شہری علاقوں کے رہنے والے نئے سندھیوں پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے کا مرتکب رہا یعنی صوبے کی آدھی شہری آبادی اس وجہ سے اپنے جائز حقوق حاصل نہ کر پائی کہ ان کی آبادی صوبے کی آدھی ہونے کے باوجود اسمبلیوں میں آبادی کی بنیاد پر متناسب نمائندگی نہ ہونے کے سبب اپنے ہی صوبے میں محکوم تھے۔ یہاں بھی وہ اسمبلی میں اکثریت میں اپنے نمائندے نہ بھجوانے کے سبب اپنا وزیر اعلیٰ تک نہیں بنا سکے تھے یہی صورتحال کراچی میں لیاری کے عوام کی تھی وہ بھی کراچی کی اکثریت والی آبادی کے طبقہ کے رویہ سے نالاں نظر آتے ہیں یعنی ہندوستان سے پاکستان کے پاکستان میں پنجاب سے باقی صوبوں تک سب اکثریت کے رویہ سے نالاں ہیں۔ اور اکثریت کو ہی اپنے مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں