Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 97

جھوٹے انقلاب

انّیسویں صدی سے پہلے دنیا بھر میں مصیبتیں ،آفتیں اور تباہیاں آتی رہی ہیں کچھ قدرتی اور کچھ انسان کی اپنی پیدا کردہ۔طاقتور کمزوروں پر حاوی تھا۔لہذا موقعہ ملتے ہی حھپٹ پڑتا تھا۔طاقتور ملک کسی بھی کمزور ملک پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا کرتے تھے۔کوئی اصول کوئی قانون نہیں ہوتا تھا۔نتیجے میں سینکڑوں جانوں کا ضیاع بھی تھا۔قدرتی آفتیں بھی آئیں۔کئی طوفان اور زلزلے اتنی شدّت کے آئے کہ پورے کے پورے شہر منوں مٹّی تلے دفن ہوگئے۔قدرتی آفتوں میں ایک طاعون کی وبائ پھیلی تھی جس نے پورے یوروپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔اور یوروپ کی تقریبا” آدھی آبادی اس کا شکار ہوگئی تھی۔اور اسے کالی موت کا نام دیا گیا کیونکہ یہ کا لے چوہوں کی وجہ سے آئی تھی جو کہ مال بردار جہازوں کے ذریعے چین سے یوروپ پہونچے تھے۔ یہ وباء1348 اور 1350 کے درمیان یوروپ میں پھیلی تھی۔انّیسویں صدی کے وسط میں یعنی دوسری جنگ عظیم کے بعد بے شمار انسانی جانوں کے ضائع ہونے اور تباہیوں کے بعد انسان نے شعور حاصل کیا اور ان تباہیوں سے یہ سبق حاصل کیا کہ دنیا کو امن کا مسکن بنانے کے لئے جنگ و جدل سے کنارا کرنا ہوگا۔کیونکہ صرف جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔اس کے لئے عالمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا اور لوگوں نے اپنے اپنے ملکوں میں اپنا معیار زندگی بلند کرنے اور ملک کو ترقّی دینے کے لئے جدو جہد شروع کردی دنیا کے کئی ملکوں نے اپنے اپنے وسائل کے مطابق نئے سرے سے ترقّی اور ملکی بقائ کے لئے کام شروع کردیا ،جن ملکوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص تھے انہوں نے اتّحاد اور محنت سے ملک کی ترقّی کے لئے کام کیا اپنی اور اپنی آئیندہ آنے والی نسل کو ایک بہتر زندگی دینے کا فیصلہ کیا۔ اور ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل دیا سخت محنت اور اتّحاد سے آج وہ ممالک ترقّی یافتہ ملکوں کے صف میں کھڑے ہیں۔نظام تبدیل ہورہے تھے لوگوں نے اپنے حقوق کے بارے میں بھی سوچنا شروع کیا۔دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی زندگی کو مزید غلامی کی نذر نہیں کرنا چاہتے تھے انہوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ غلامی اور ذلّت کی زندگی سے عزّت کی موت بہتر ہے لہذا اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔جس جس مقام پر لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ ان پر رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر ذیادتی اور ظلم ہورہا ہے تو انہوں نے آذادی کے لئے جدوجہد شروع کردی اور سو سال کے عرصے میں دنیا کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا۔لیکن صرف آزادی حاصل کرلینا ہی کا میابی نہیں تھی بلکہ اس آزادی کو ملک کے تمام عوام میں بلا کسی امتیاز کے تقسیم کرنے ملک کے ساتھ پر خلوص اور وفادار رہنے میں کامیابی تھی کئی ممالک بہت برے برے حالات سے گذرے لیکن انہوں نے خندہ پیشانی سے حالات کا مقابلہ کیا ،اور پھر اپنے آپ کو سنبھال لیا۔مثلا” اٹلی بارہویں صدی سے اٹّھارویں صدی تک مختلف حصّوں میں بٹا رہا ،کنگڈم آف سارڈینیا ،کنگڈم آف ٹو سسلی ،ڈچی آف میلان،لیکن اٹھارویں صدی کے وسط میں ان کو عقل آگئی اور سب ایک اٹلی میں ضم ہوگئے یہ ملک بے شمار غیر ملکی حملوں سے نبرد آزما رہا۔ 65 سال تک اسپین اور فرانس کے حملوں میں گھرا رہا جس سے لاکھوں اطالوی مارے گئے۔ 1348 میں طاعون کی وبائ سے اٹلی کی ایک تہائی آبادی لقمہئ اجل بن گئی۔یوروپ میں اس وباءسے 30 سے 60 فیصد آبادی موت کا شکار ہوگئی یہ طاعون 14 صدی سے 17 ویں صدی تک پلٹ پلٹ کر آتا رہا 1575 میں صرف دو سال کے عرصے میں اس وبائ سے وینس میں پچاس ہزار افراد موت کا شکار ہوئے جو بڑھتے بڑھتے اٹلی کی 14 فیصد آبادی یعنی سترہ لاکھ تیس ہزار تک جا پہونچے اس کے بعد 1913 میں اٹالین سوشلسٹ پارٹی کے برسر اقتدار آتے ہی لاکھوں افراد اٹلی سے ہجرت کرگئے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران اٹلی جنگ سے لاتعلّق رہنا چاہتا تھا لیکن اس وعدے کے بعد کے جنگ کے خاتمے پر بہت سارے علاقے پر اسے قبضہ حاصل ہوجائے گا۔اٹلی 1915 میں لندن معاہدے پر دستخط کرکے جنگ میں کود پڑا جنگ کے بعد یہ وعدے بھی وفا نہ ہوئے۔وہی غلطی آج ہم کررہے ہیں جھوٹے وعدوں پر ہم دوسرے کی جنگ میں کود جاتے ہیں جس کا بھاری خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔اٹلی اس جنگ میں اپنے 6 لاکھ پچاس ہزار افراد سے ہا تھ دھوبیٹھا اور اس کی معیشت بالکل تباہ ہوگئی اس کے بعد 1940 سے 45 تک اٹلی اندرونی جنگوں کا میدان بنا رہا۔ان جنگوں کے خاتمے پر اٹلی فوجیوں اور عام شہریوں سمیت 5 لاکھ مزید افراد سے محروم ہوچکا تھا۔بیسویں صدی تک اٹلی کی معیشت قابو میں نہ آسکی تھی لیکن حکومت اور عوام کی سخت محنت اور جدو جہد کے بعدمعیشت سنبھلنا شروع ہوگئی اور ایک مقام ایسا آیا جہاں یہ معیشت معجزانہ کہلائی ۔جب کہ اس کی حالت آج کے پاکستان سے زیادہ تباہ کن ہوچکی تھی لیکن آج اٹلی ترقّی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔اسی طرح جاپان ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ختم ہوچکا تھا۔بے انتہا محنت کے بعد ایک ترقّی یافتہ ملک ہے۔اگر کسی فیکٹری میں چلے جا ئیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجائے گا کہ ان مزدوروں کے درمیان میں مالک کون ہے کیونکہ وہ بھی مزدوروں کا لباس پہنے ان کے ساتھ کام کررہا ہوگاجب اس طرح کے تمام ممالک جو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کررہے تھے اس وقت دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک وجود میں آیا جسے پاکستان کا نام دیا گیا۔پاکستان بننے کے کئی سال بعد تک کچھ ملکوں کی یہ حالت تھی کہ وہاں کے لوگوں کو صرف ایک وقت کی روٹی میسّر تھی۔انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ آنے والی نسلوں کو یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔انہوں نے ایمانداری ، محنت اور حبّ الوطنی کے جذبے کے تحت کام کیا اور ایک ہی اصول اپنایا اتّحاد ،تنظیم ،یقین محکم اور اس پر پوری دیانت داری سے عمل کیا ہمارا ملک بھی ان ہی تین ستونوں پر قائم ہوا تھا۔لیکن اس پر عمل صفر بھی نہیں ہوا۔آج ہمیں پورے کا پورا ملک بد عنوانیوں میں ملوّت نظر آرہا ہے۔اور ہر شخص کسی دوسرے کو مورّد الزام ٹھہرارہا ہے کتنا بڑا المیہ ہے ایک عام آدمی سے لے کر حکومت کے اعلی’ عہدے داران اور سربراہان سب کرپشن میں ملوّث رہے ہیں۔اور سب کا اندرونی عذر یہ ہے کہ سب کررہے ہیں میں کیوں نہ کروں کیونکہ بد عنوانی تو ہمارے سسٹم کا حصّہ ہے اگر یہ ختم ہوگئی تو سارا نظام ہی بگڑ جائے گا۔اگر کوئی فوجی حکومت آکر بد عنوانی پر قابو پانے کے اقدامات کرے تو پوری قوم پریشان ہوجاتی ہے کہ کسی طرح اس کی چھٹّی کردی جائے فوجی حکومت تو دور کی بات ہے عوامی حکومت بھی اگر یہ اقدامات کرے تو اسے ہٹانے کی کوششیں شروع ہوجاتی ہیں جیسا کہ آج کل ہورہا ہے ۔72 سال گزر جانے کے بعد بھی ملک کی ایک بڑی آبادی اپنے فرائض سے ناواقف ہے۔انشورنس، ٹیکس کس چڑیا کا نام ہے ان کو نہیں معلوم محکمے موجود ہیں لیکن ایک بڑی تعداد کو متعارف ہی نہیں کرایا گیا ،توڑ پھوڑ جلاو¿ گھیراو¿ سے ہر شخص واقف ہے۔صرف ایک یہی سبق ہے جو ہمارے سیاست دانوں نے پورے خلوص سے قوم کو پڑھایا ہے۔ان کے ذہن میں صرف ایک لفظ ڈالا ہوا ہے انقلاب ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی کھڑے ہوکر انقلاب کا نعرہ لگادیتا ہے لیکن مخلص یہ بھی نہیں ہوتا ہے۔انقلاب لانے سے صرف چہرے بدلیں گے نظام نہیں بدلے گا ،انقلاب اگر لانا ہے تو قوم کو اپنے ذہنوں میں انقلاب لانا پڑے گا۔جب تک عوام خود نہیں سدھریں گے کچھ بھی نہیں بدلے گا۔بد عنوان حکومت صرف بد عنوان عوام کے ہاتھوں ہی آتی ہے۔ ایمان دار حکومت تو لوگوں سے ہضم ہی نہیں ہوتی ہے زرداری اور نواز کے سپورٹر وہی لوگ ہوں گے جو بدعنوان ہوں گے ورنہ کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کوئی شخص لٹیرے کو چوکیدار بنانے پر تل جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں