41

حمایت علی شاعر سے تجدید ملاقات

حمایت علی شاعر سے میری پہلی ملاقات کے وقت میری عمر تین یا چار سال کی ہوگی، ان کی صورت، اور ان کی شاعری اسی زمانے سے میرے ذہن پر نقش رہی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مجھے گ±ھٹّی میں غالب کا شعر ”دلِ نادان تجھے ہوا کیا ہے۔ آخر اس درد کی دوا کیا ہے“، چٹایا گیا تھا۔۔ یہ درد کا رشتہ ہی تو ہوتا ہے جو اہلِ درد کو اہلِ درد سے جوڑ کے رکھتا ہے۔
یہ ا±س زمانے کا ذکر ہے جب میرے والد خواجہ آشکار حسین ایک ہی وقت میں ، مولوی عبدالحق کے قائم کردہ ’اردو کالج‘ اور اس کے ساتھ ساتھ جامعہ کراچی میں فلسفہ اور نفسیات کے استاد تھے۔ ان دنوں اردو کالج اور جامعہ کراچی ، اس وقت کے کراچی میں مشن روڈ پر ملحقہ عمارتوں میں قائم تھے۔وہیں انجمن ترقی اردو کا دفتر بھی تھا۔ اولین اردو کالج تو اب بھی وہیں ہے لیکن جامعہ کراچی اب شہر سے بارہ میل دور چلی گئی ہے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب حمایت علی شاعر ہندوستا ن سے کراچی آگئے تھے۔
میرے والد اکثر مجھے اپنے ساتھ اردو کالج لے جاتے تھے۔ جس وقت وہ پڑھا رہے ہوتے ،میں احاطہ میں قائم ”وفا صاحب‘ ‘ کی کینیٹین سے چائے کے ساتھ ملائی کھاتا ہو انجمن ترقی اردو کی دوسری منزل پر بابا ئے اردو کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔حمایت علی شاعر کا تعلق بھی انجمن ترقی اردو اور اردو کالج سے تھا، اور وہ بھی مجھے اکثر وہاں نظر آتے تھے، اور میںکبھی کبھی پاپا اور دیگر اساتذہ اور طلبا کے ساتھ حمایت علی شاعر اور سب کی باتیں سنتا تھا۔ ہمارے گھر میں اردو کالج کی کئی طالبات جب بھی پاپا سے پڑھنے کے لیئے آتی تھیں ہمارے ہاں ”حمایت? بھائی “ کا چرچا رہتا تھا، اور میں بھی کہتا تھا کہ میں بھی حمایت بھائی کو جانتا ہوں۔ پاپا کا تعلق کالج اور جامعہ کے طلبا کی سرگرمیوں سے نگران کی حیثیت سے بھی تھا، او ر وہ اردو کالج کے جریدے ”برگِ گ±ل “ کے ،مشیر بھی تھے۔ اسی جریدے میں میں نے پہلی بار حمایت علی شاعر کی کچھ غزلیں بھی پڑھیں۔ جس بچے کو بچپن ہی سے غالب اور میر سے متعارف کیا گیا ہو اسے برگِ گ±ل بچوں کے لیے ایک کتاب کے طور پر بھی پڑھایا جاتا تھا۔ حمایت علی شاعر 1951ءمیں کراچی آئے تھے اور ان کے عزیز دوستوں میں عبدالرﺅف عروج بھی شامل تھے جن کا پاپا سے تعلق بھی تھا اور ہمارے گھر بھی آنا جانا تھا۔
حمایت علی شاعر پاکستان کے اپنے اولین زمانے ہی میں کراچی سے حیدر آباد چلے گئے ، اور پھر میری ملاقات ان سے ان کی معروف غزل ”ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ“ کی ذہنی گردان کے طور پر برقرار رہی۔ اس غزل کا مقطع ” شاعر ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ۔۔۔ ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ“ ، مجھے ہمیشہ انسانی رشتوں کی روایت اور نزاکت کے بارے میں درس دیتا رہا ہے۔
ان کے حیدر آباد چلے جانے کے بعد ان سے میری ذہنی ملاقاتیں ان کی شاعری ، ان کی کتابوں ، اور ان کے بنیادی نظریہ سے قائم رہیں۔ ان کا بنیادی نظریہ ” ترقی پسند فکر “ ہے، اور وہ جدید اردو ادب کی اہم ترین روایت ”ترقی پسند تحریک “ کے اہم لکھنے والوں میں مانے جاتے ہیں۔ یہ وہ فکر ہے جس نے نہ صرف اردو شعر و ادب کو نئی راہ دکھائی بلکہ اردو ادب اور سماج کے رشتہ کے وہ اصول مرتب کیئے جن سے اب اردو کا ہر لکھنے والا استفادہ کرتا ہے، اور کرتا رہے گا۔
ترقی پسند فکر اور ادب اور سماج کے تعلق سے منسلک ہونے کا ذکر وہ اپنے پہلے مجموعہ ”آگ میں پھول “ میں کرتے ہیں جہاں وہ بتاتے ہیں کہ ان کی ادبی ذہنی رہنمائی میں ان کے دوست ”کامریڈ افتخار “ کا اہم کردار رہا ہے، اسی طرح انہیں ’کامریڈ حبیب‘ اور ’گووند بھائی شراف“ کے ساتھ بھی قربت رہی۔ ترقی پسند فکر سے تعلق کی وجہہ سے انہیں ادبی زندگی کے اوائل ہی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زمانے میں ترقی پسند ادیبوں کو پولس کا سامنا بھی تھا اور ملازمتیں ملنے میں بھی دشواریاں ہوتی تھیں۔ ملازمت کی تلاش میں انہیں درد بدر بھی پھرنا پڑا ور کبھی کبھی مسجدوں میں بھی سونا پڑا۔ ایک رات ایک مسجد کے امام نے انہیں مسجد سے نکا ل دیا جس کا ذکر وہ خود اس طرح کرتے ہیں۔
کبھی میں رات کو مسجد میں جا کے سوجاتا
بہ فیضِ دربدری ہی’خدا کا ہوجاتا‘
مگر امام نے ’ہونے ‘ نہیں دیا مجھ کو
عشا کے بعد بھی سونے نہیں دیا مجھ کو
وہ بند کرگیا مجھ پر خدا کا دروازہ
(اور آج تک میں ادا کر رہا ہوں خمیازہ)
ملازمت کی تلاش کے اس زمانے میں انہیں حیدر آباد دکن کے ایک اخبار’جناح ‘ میں کالم نگار کی حیثیت میں ملازمت مل گئی،جہاں انہوں نے ”ابلیسِ فردوسی “ کے قلمی نام سے کالم نگار ِ شروع کر دی۔ بعد میں یہ قلمی نام بمبئی میں ’نردوش‘ اور کراچی میں ’ابنِ مریم ‘ ہو گیا۔بمبئی میں قیام کے دوران انہوں نے اپنی ایک دوست ’اوشا‘ کو ایک بھجن لکھ کر بھیج دیا، ”جس میں امریکی صدر ’ٹرومن‘Truman کی مورتی پوجا دکھائی تھی۔ اس مورتی کے ہزار ہاتھ تھے، اور ہاتھ میں نئے نئے ہتھیار تھے۔وہ مورتی ہیروشیما کے ملبے پر ایستادہ تھی۔ اور یہ ٹرومن دیوتا تھا جو ہندوستان کو کسی ’انقلاب‘ سے بچا سکتا تھا۔ اس بھجن کو ایک ڈرامے کی صورت میں بھی پیش کردیا گیا، اور حکومت کے جاسوسی ادارے ڈرامہ والوں کے گھروں پر چھاپے مارنے لگے۔ ان سارے واقعات کے بعد حمایت علی شاعر ہندوستان چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
پاکستان آنے کے بعد بھی ان کا مزاج وہی رہا جو بھارت میں تھا۔ نکہت بریلوی نے ان کی 1953ءمیں سکھر کے ایک مشاعرہ کی شرکت کے بارے میں لکھا ہے۔ جہاں انہوں نے اپنی نظم ’اجنبی مہمان ‘ سنائی تھی، جو امریکی وزیرِ خارجہ پاکستان آمد کے بارے میں لکھی تھی۔ یہ وہی وزیرَ خارجہ ہیں جنہوں نے ایران میں وزیرِ اعظم مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اور جن کے زمانے میں پاکستان امریکہ کے حلیف کے طور پر SEATO میں شامل ہوا تھا۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پاکستان کے وزیرِ اعظم ’لیاقت علی خان‘ کا تحفہ ہیں۔اس نظم میں ہماری تاریخ کی اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے۔ ’اجنبی مہمان ‘کے چند مصرعے یوں ہیں۔
یہ بہت د±ور، د±ور مغرب سے
ارضِ مشرق سجانے آئے ہیں
ایشیا کے امڈتے طوفاں سے
ایشیا کو بچانے آئے ہیں
تپتے جسموں کے پاﺅں کے نیچے
چھاﺅں اپنی بچھانے آئے ہیں
مصر کی طرح ارضِ پاک کو بھی
ایک ’ت±رکی ‘ بنانے آئے ہیں
اک دکاں کی بساط الٹا کر
ایک دوکاں جمانے آئے ہیں
اردو کے جن ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں نے حمایت علی شاعر پر اثر کیا ، بلکہ یوں کہیے کہ جن کی آوازوں میں خود ان کی آواز جاودانی اور تابانی سے شامل ہے ان میں مخدوم، جوش، نیاز فتح پوری، اختر حسین رائے پوری، فیض، ندیم، عصمت، منٹو، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری، سجاد ظہیر، اور احتشام حسین، جیسے مصنفین شامل ہیں۔
اگر حمایت علی شاعر کے ایک قلمی نام ”ابلیسِ فردوسی ‘ پر توجہہ دیں تو واضح ہو گا کہ نہ صرف ان کا ،بلکہ ساری ترقی پسند تحریک کا تعلق مغرب کی ایک اہم ادبی تحریک سے بھی ہے جسے ”رومانوی تحریک“ Romantic Movement کہتے ہیں۔ یہ دونوں تحریکیں سماج کی فرسودہ مذہبی رسموں کو ترک کرنے، انسانوں پر ظلم اور جبر کے خاتمہ ، اور انسانی تخیل کی آزادی کے احترام پر قائم تھیں۔ مغربی رومانوی تحریک کا زمانہ وہی ہے جس میں امریکہ اور فرانس جیسے انقلاب برپا ہوئے۔ اس تحریک کے سرکردہ لوگوں میں روسو، ملٹن، ورڈزورتھ، شیلی، کیٹس، بائےرن، اور ولیم بلیک جیسے اہم نام شامل ہیں۔ ان سب نے بھی انسانی آزادی کے حصول اور جبر کے خاتمہ کے لیئے، قید و بند، ظلم وستم اور دربدری برداشت کی۔ ’ابلیسِ فردوسی‘ کا تعلق رومانوی تحریک سے یوں ہے کہ ملٹن نے اپنی اہم تصنیف Paradise Lost میںابلیس کو ایک اہم کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ شیلی نے ملٹن کے ابلیس کے کردار کو ایسے کردار کے طور پر دیکھا، ہے جو کسی بھی نظامِ جبر کے خلاف مسلسل جدو جہد میں مصروف رہتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضرور ہے کہ’ رومانوی‘ شاعری اور’ رومانی‘ شاعر میں بڑافرق ہے۔ ادب کے عام قاری یہ فرق سمجھنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔
جبر کے خلاف جدو جہد اور مظلوموں کی حمایت میں لکھی گئی ان کی ایک نظم ’کامریڈ حسن ناصر‘ ہے۔ حسن ناصر کا تعلق بھی حیدر آباد دکن سے آئے ہوئے مہاجروں میں تھا، وہ پاکستان کے بیباک نوجوان عوامی رہنماﺅں کی صفِ فہرست میں شامل ہیں۔ حسن ناصر کو ایوب خان کی آمریت میں لاہور کے شاہی قلعہ میں تشدد کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا، اور پھر ا±ن کی بہ ع±جلت خفیہ تدفین کر دی گئی تھی۔ حسن ناصر کا نام اور لاہور کا شاہی قلعہ پاکستان میں مظلوموں اور ان پر ظلم کا استعارہ ہیں۔ اسی زمانہ میں میرے والد کے کچھ اور قریبی دوست بھی لاہور کے قلعہ میں قید کیئے گئے تھے۔
اس نظم کے یہ مصرعے اب بھی پاکستان میں جاری ظلم کا نوحہ ہیں کہ،
آج اخبار کی سرخی پہ نظر پڑتے ہی
میرے اندر سے کوئی مہر بہ لب، چیخ پڑا
میرے جذبات کی غیرت، مرے ہونٹوں کا سکوت
میرا فن چیخ پڑا، میرا ادب چیخ پڑا
یہ زمیں حق کی پرستار ہے، باطل باطل
سینہءحق سے صدا آتی ہے، قاتل قاتل
سالہا سال کی مسلسل ذہنی ملاقاتوں کے بعد حمایت علی شاعر سے میری دوسری بالمشافہ ملاقات 1992ء میں ہوئی جب میں کینیڈا میں نووارد تھا اور وہ یہاں کسی تقریب میں تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر مجھے سندھ کے عظیم اور پاکستان کے بہت اہم شاعر شیخ ایاز پر ان کی کتاب حاصل کرنے اور ان سے دستخط کروانے کا موقع ملا۔ اس کتاب کے مطالعہ سے نہ صرف شیخ ایاز کی عظمت کے بارے میں پتہ چلتا ہے بلکہ خود بہت سے لکھنے والوں کی کم آگاہی کا ادراک ہوتا ہیں ، جو مختلف تعصبا ت کے نتیجہ میں اپنے مشاہیر سے دور رہتے ہیں۔ خود شیخ ایاز نے ا±ن کی اس کتاب کی اشاعت سے سالوں قبل اپنی اہم کتاب ’ساہیوال جیل کی ڈائری‘ میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے حمایت علی شاعر کے ساتھ سندھ سے نکلنے والے اردو جرید ہ ’شعور‘ کی ادارت کی تھی۔انہوں نے حمایت علی شاعر کی ترقی پسند فکر کو بھی سراہا ہے۔ ابھی حال ہی میں کینیڈا میں شیخ ایاز کی یاد میں’رائٹرز فورم‘ اور’ سندھی ادبی سنگت‘ کے زیرِ اہتمام ایک تقریب میں شیخ ایاز کے صاحبزادے مونس ایاز اورسندھی زبان کے دیگر ادیبوں نے بھی حمایت علی شاعر کو محبت اور احترام سے یاد کیا۔
حمایت علی شاعر سے اس تجدید ِ ملاقات میں مجھے اس حقیقت کا بھی ادراک ہوا کہ سند ھ کے باشندے انسان دوست ہیں۔ انہوں نے جامعہ سندھ کے ایک شعبہ میں حمایت علی شاعر چئیر Himayat Ali Shair Chair بھی قائم کی ہے، اور جامعہ سندھ کے سندھیالوجی کے شعبہ میں ان کے نام پر ایک گوشہ بھی مختص کیا گیاہے۔ جامعہ سندھ ہی میں کئی طالب ان پر ڈاکٹریٹ کے لیئے تحقیق کر رہے ہیں۔
حمایت علی شاعر سے مسلسل تجدیدِ ملاقات اور ان کے فن سے آگاہی کے لیئے ہمیں اس اصول پر عمل کرنا ہو گا جو انہوں نے یہ کہہ کر خود ہی سمجھا دیا ہے کہ:
میں کہ میری خاک کی لو سے ہوا میرا ظہور
کاش ڈھونڈے کوئی میری خاک کے اندر مجھے
میں نے سوچا، میں نے سمجھا ، اور میں نے کہہ دیا
تم نے سوچا اور نہ سمجھا، کہہ دیا کا فر مجھے
میرا ہر نقشِ کفِ پا، صفحہءتاریخ ہت
تم مورخ ہو تو لکھو، ہر قدم پڑھ کر مجھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں