38

’سپر ایل نینو‘ سے بدترین عالمی تباہی کا خدشہ

واشنگٹن: ماحولیاتی ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے 1901 سے 2017 تک وقوع پذیر ہونے والے 33 ایل نینو واقعات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان خطرناک عالمی ماحولیاتی واقعات کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ 37 سال کے دوران ہمیں چار مرتبہ ’سپر ایل نینو‘ کا مشاہدہ ہوچکا ہے جن میں عام ایل نینو سے کہیں زیادہ تباہی پھیلی ہے۔
واضح رہے کہ ’ایل نینو‘ (El Nino)
(El Niño) سے مراد سمندری پانی کے درجہ حرارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والا اضافہ ہے جو ایک غیر معینہ مدت کے بعد، وقفے وقفے سے رونما ہوتا رہتا ہے۔ البتہ، ایل نینو میں وسیع پیمانے پر چلنے والی سمندری ہواو¿ں اور بحرالکاہل میں خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں میں بارشوں/ برف باری کا مخصوص انداز بدل جاتا ہے۔ نتیجتاً کچھ ملکوں میں شدید گرمی اور خشک سالی کی لہر آجاتی ہے تو دوسرے ملکوں میں شدید بارش، سیلاب اور برف باری سے تباہی پھیل جاتی ہے۔
یہ ایل نینو ہی ہے جس کی وجہ سے امریکا کے ساحلی شہروں کو شدید سمندری طوفانوں کا بار بار سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ افریقہ سے لے کر ایشیا اور آسٹریلیا تک، یا تو بالکل خشک سالی واقع ہوجاتی ہے یا پھر شدید بارشیں برسنے لگتی ہیں۔ دونوں ہی صورتیں انسانوں کےلیے تباہی کا پیغام ہیں۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ بیسویں صدی کی ابتدائ سے لے کر اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک، ایل نینو کے 33 واقعات ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے چار واقعات کی شدت بھی معمول سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ بالترتیب 1982 میں، پھر 1998 میں اور اس کے بعد 2015 تا 2016 میں رونما ہوئے۔ اسی شدت کی بنائ پر انہیں ”سپر ایل نینو“ کا نام دیا گیا ہے۔
پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ویب سائٹس پر اس بارے میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں سپر ایل نینو کے واقعات بڑھنے کا امکان بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کو گرمی کی نئی اور زیادہ شدید لہروں، زیادہ بھیانک قحط اور خشک سالی، بھیانک بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے علاوہ سمندری حیات اور ساحلی علاقوں کو تحفظ فراہم کرنے والی مرجانی چٹانوں (کورل رِیف) میں کمی کےلیے تیار رہنا چاہئے۔
ایل نینو اگرچہ ایک قدرتی مظہر ہے لیکن انسانی سرگرمیوں، بالخصوص زمینی فضا میں گرین ہاو¿س گیسوں کے مسلسل اور بے تحاشا اضافے کی وجہ سے ایل نینو کی شدت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم نے اب بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو ایل نینو سے جہاں سالانہ کھربوں ڈالر کا نقصان ہوگا، وہیں پوری انسانی نسل کی بقائ کو بھی بدترین خطرات لاحق ہوجائیں گے؛ اور اگر ماحولیاتی خرابی ایک خاص حد سے زیادہ ہوگئی تو پھر اسے سنبھالنا یا کنٹرول کرنا ہمارے بس سے مکمل طور پر باہر ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں