84

صحافت یا گراوٹ

صحافت کا پیشہ ایک ایسا مقدس پیشہ ہے کہ جو اپنی ذمہ داریوں کو بہ احسن خوبی نبھائے تو چیزیں ٹریک پر رہتی ہیں اور عوام کی صحیح ترجمانی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ ہر چیز اپنے مدار میں گردش کرتی رہے مگر ہوا کچھ یوں کہ جرنلزم نے جب سے بکنا شروع کیا ہے یا وہ لوگ جن کا جرنلزم سے دور دور تک کا واسطہ نہیں۔ میڈیا بن گئے او رپھر صحافت کی گراوٹ اس حد تک چلی گئی کہ اسے کسی بازاری عورت سے ہی تعبیر کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ صحافت میں لفافہ کی باگ دوڑ سنی جانے لگی۔ پلاٹوں کی بندر بانٹ میں صحافی اپنے ہاتھ رنگنے لگے پھر ملک ریاض اور کئی ایک پردہ نشین منظرعام پر آئے جنہوں نے پوری پوری روداد سنا دی کہ کس طرح انہوں نے کس کس صحافی کو کیسے کیسے نوازا اور اپنی مرضی کی خبریں چلائیں یوں صحافت میں گراوٹ بڑھتی چلی گئی۔ صحافی جو کسی کا نہیں ہوتا، کسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے مفادات نہیں ہوتے بلکہ وہ عوام کی آواز ہوتا ہے۔ معاشرے کی خرابیوں کی نشاندہی کرنے والا، چوروں اور لٹیروں کے چہروں سے نقاب ہٹانے والا تاکہ کمیونٹی ایسے درندوں سے محفوظ رہے جو کبھی سیاست، کبھی مذہب اور کبھی سوشل ورک کے لبادے اوڑھ کر معصوم لوگوں کو بے وقوف بنائیں۔ خبروں کو امانت سمجھ کر عوام تک پہنچائیں اور اس میں کوئی بددیانتی کے مرکتب نہ ہوں۔
صحافی کو جانبدارانہ طرز عمل سے پرہیز کرنا چاہئے، دوستیاں اور تعلقات کو مدنظر رکھ کر خبروں کی اشاعت، مختلف سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی وغیرہ صحافیوں کو زیب نہیں دیتا بلکہ انہیں تو صحیح صورتحال عوام تک پہنچانی چاہئے۔ اچھے کو اچھا اور بُرے کو بُرا ثابت کرنا بھی اور سچ کی آواز بننا بھی اس مقدس پیشہ کا تقاضا ہے۔
پاکستان کی بات کریں تو وہاں تو کچھ سیاسی، مذہبی اور عسکری دباﺅ کا سامنا رہتا ہے اور کام کرنا روز بروز مشکل ہوتا جارہا ہے مگر بیرون ممالک میں رہنے والے وہ افراد جو میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کا بیک گراﺅنڈ کچھ بھی رہا ہو، مگر جب وہ اس پیشہ کو اپناتے ہیں تو کیونکہ وہ صحافتی معاملات سے نابلد ہوتے ہیں تو ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں جن سے تمام میڈیا کی جگ ہنسائی ہوتی ہے اور کئی موقعوں پر لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ چند سو ڈالر دے دو تو یہ میڈیا کے لوگ دم ہلاتے ہوئے آجاتے ہیں۔ کس قدر افسوسناک بات ہے، قابل مذمت اور قابل شرم مگر جس طرح مختلف شعبوں میں کالی بھیڑیں گھس گئی ہیں بالکل اسی طرح میڈیا کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ اکثر اخباروں میں کام کرنے والے چند سو ڈالر لے کر کمیونٹی کی سالگرہ اور شادیوں کے صفحہ بنا کر ڈال دیتے ہیں۔ نجی محفلوں اور دعوتوں کی تصویریں خبرنامہ بنا کر معمولی سی رقم کے عوض صحافت کے مقدس پیشہ کو داغدار کررہے ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک تک نہیں کہ اُن کے اس عمل سے کمیونٹی میں کس قدر جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور صحافی اور صحافت کو لوگ کوڑیوں کا سمجھ کر جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا میں تو ہر چیز کی آزادی ہے۔ یہاں کوئی پابندی بھی نہیں مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں بھی زبان کی بنیادوں پر صحافیوں کی تقسیم، سیاست میں زبان کی سیاست عام ہوتی جارہی ہے۔ کمیونٹی ایک ہونے کے بجائے مختلف جرگوں اور گروپوں میں تقسیم در تقسیم ہو رہی ہے۔ جس کے سبب پاکستانی بیرون ممالک میںبھی کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔ ہر جانب سوشل میڈیا کا چرچا ہے، ہر شخص ویڈیو کیمرہ لئے یا موبائیل لئے میڈیا بنا ہوا ہے اور صحافت صرف فوٹو سیشن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہی حال ریڈیو، ٹی وی کا ہے۔ وہ لوگ جو کبھی اپنے بزنس کے اشتہارات دیا کرتے تھے، آج خود اپنے ریڈیو چلا رہے ہیں اور میڈیا کہلاتے ہیں۔ کچھ من چلے جب یہ سمجھ بیٹھے کہ یہاں سے (میڈیا) مال بنانا مشکل ہے تو پھر رئیل اسٹیٹ ایجنٹ بن گئے۔ اور پھر اشتہارات کے نرخ کہیں کے نہ رہے۔ جسے جو ملا پکڑ لیا۔ اپنے ہی اشتہارات چلا کر اپنے میڈیا کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اور یہ تماشہ شب و روز ہمارے گرد و نواح میں جاری ہے۔ ہر نیا دن ایک نیا میڈیا، نیا چینل اپنے دامن میں سمیٹے وارد ہوتا ہے اور یوں صحافت مچھلی بازار کا نظارہ پیش کررہی ہے اور وہ جو اصل صحافت سے وابستہ ہیں۔ اپنا منہ چھپائے زندگی کے شب و روز پورے کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں