58

لداخ میں بھارتی اقدامات، چین کو تشویش

ٹورنٹو/شکاگو (پاکستان ٹائمز) کشمیر میں بھارتی اقدامات اور در اندازی کے سبب ایشیا کا یہ خطہ مستقل بے چینی کی آماجگاہ بنا رہے گا۔ لداخ میں بھارتی اقدامات کو حکومت چین خود اپنے ملک کے لئے بھی ایک چیلنج قرار دے چکی ہے۔ جس کے باعث علاقائی اور عالمی امن کولاحق خطرات مزید بڑھ جائیں گے اور صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔ چین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ کو فوری طور پر اور مزید وقت ضائع کئے بغیر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہئے کہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ کشمیریوں کو بین الاقوامی وعدوں کے مطابق حق خودارادیت دلوائی جائے کیونکہ اس کے سوا تنازع کشمیر کا کوئی مستقل اور منصفانہ حل ممکن نہیں۔ دوسری جانب مودی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس مظلوم خطہ کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے مذموم منصوبہ پر عمل پیرا ہے جس کے تحت 21 اکتوبر تک لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے جموں اور کشمیر سے الگ کیا جانا ہے۔ یوں بھارت شدید ردعمل سے بچنے کے لئے حساس علاقوں میں مزید فوج بھیج رہا ہے۔ جب کہ کشمیری عوام گزشتہ ڈھائی ماہ سے بھارتی فوج کے محاصرے میں عملاً قیدیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کی خاطر آنے والے امریکی ارکان سینیٹ کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کا جائزہ لینے سے روک دیا گیا ہے جب کہ پاکستان نے انہیں آزاد کشمیر کا دورہ کرایا۔ امریکی سینیٹروں نے آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ امریکی وفد نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مودی سرکار سے کرفیو کے فوری خاتمہ اور زیر حراست کشمیریوں کی رہائی کے مطالبہ کے علاوہ امریکی وفد نے مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کی ضرورت کا بھی اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں