23

ٹک ٹاک امریکا کیلئے سیکیورٹی خدشات کا باعث ہوسکتی ہے، امریکی سینیٹرز

امریکا کے دو سینئر سینیٹرز نے اپنی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ٹک ٹاک’ ویڈیو ایپ چین کے لیے جاسوسی کے سلسلے میں امریکی صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر اور ری پبلکن سینیٹر ٹام کوٹن نے قائم مقام ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جوزف میگویئر کو ایک خط میں لکھا ہے کہ ٹک ٹاک کے مالک بیٹ ڈینس کو چینی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے صارفین کی معلومات دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں 50 کروڑ صارفین کے ساتھ ٹک ٹاک گزشتہ دو برس میں مقبولیت حاصل کرچکی ہے جس میں 60 سیکنڈ طویل ویڈیو تیار اور نشر کی جاسکتی ہے۔
امریکی سینیٹرز کو خدشات ہیں کہ ٹک ٹاک صارفین کے موبائل اور کمپیوٹر سے خاموشی سے رابطہ چینی خفیہ ایجنسیوں سے کرا سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے چینی ٹیلی کام کمپنی ‘ہواوے’ کے خلاف الزامات ہیں۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ‘صرف امریکا میں 11 کروڑ سے زائد صارفین اس ایپ کو ڈاﺅن لوڈ کر چکے ہیں اور ٹک ٹاک انٹیلی جنس خطرہ ہوسکتا ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں’۔ انٹیلی جنس حکام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ‘اس ایپ سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے’۔
سینیٹرز کو خدشات ہیں کہ ‘چینی قوانین اس کمپنی کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے زیر کنٹرول انٹیلی جنس کے لیے تعاون اور مدد کے لیے مجبور کرسکتے ہیں’۔ ایپ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک صارفین کی ذاتی معلومات زیادہ حاصل کرتی ہے جو سیکیورٹی رسک ہونے کا عندیہ دیتی ہے۔
دوسری جانب ٹک ٹاک نے اپنی ویب سائٹ میں جاری بیان میں واضح کردیا ہے کہ ‘ہمارے اوپر چین سمیت کسی بھی بیرونی حکومت کا کوئی دباﺅ نہیں ہے’۔ چین سے اپنا انتظام چلانے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا ڈیٹا سینٹر چین سے باہر واقع ہیں اور ‘ہمارے ڈیٹا کا چین کے قوانین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے’۔
امریکی سینیٹرز کے دعوو¿ں کو رد کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہمیں چینی حکومت کی جانب سے کبھی بھی کسی مواد کو ہٹانے کے لیے نہیں کہا گیا اور اگر ایسا کہا گیا تو ہم نہیں کریں گے’۔
ٹک ٹاک کے حوالے سے امریکی سینیڑز نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ ویڈیو ایپ اگلے برس کے انتخابات میں ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جس طرح 2016 کی مہم میں روس نے امریکی سوشل میڈیا پر گڑ بڑ کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں