151

معاشی بحران اور اندرونی خلفشار، پاکستان کو کہاں لے جائیں گے؟

ٹورنٹو / شکاگو (پاکستان ٹائمز) پاکستان گرداب میں دھنستا دکھائی دے رہا ہے۔ عمران خان کی حکومت مستقل، مستقبل میں معاشی استحکام کا دلاسہ دے کر عوام کو چپ کرا رہی ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ عوام مسلسل مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جارہے ہیں اور خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ دکھائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں عوام کو روڈ پر لانے کے لئے کوشاں ہیں مگر عوام سابقہ حکمرانوں سے عاجز ہو کر عمران خان کو اپنا مسیحا بنا بیٹھے تھے اور اب سخت کنفیوژن کی صورتحال ہے۔ میڈیا پر ایسی پابندی پہلے کبھی نہ تھی۔ پاک فوج پر تنقید گناہ کبیرہ، عدلیہ کے ججوں کی ویڈیوز بھی منظرعام پر آگئیں۔ ملک کے تمام ادارے مفلوج دکھائی دیتے ہیں۔ ان حالات میں سیاسی مبصرین بھی شدید ذہنی دباﺅ کا شکار ہیں اور آنے والے حالات سے پریشان ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے بعد ریکوڈک کا معاملہ بھی حکومت کی جڑوں میں بیٹھتا دکھائی دے رہا ہے اور سمجھ میں نہیں آرہا کہ ملک اس معاشی گرداب سے کیونکر نکل سکے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایک خاص پلاننگ کے تحت معاشی طور پر قلاش کیا جارہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ فوج اور سول حکومت کس طرح ان مسائل سے ملک کو نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں