Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 122

کھلاڑی بمقابلہ کھلاڑی۔۔۔

بعض واقعات حادثات اطلاعات یا تبدیلیاں اس طرح کی ہوتی ہیں کہ جسے کوئی عنوان دینا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ جس طرح سے ایک قانون و انصاف میں لپٹی ہوئی حالیہ سیاسی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اسے فوری طور پر کوئی نام یا عنوان نہیں دیا جا سکتا اس لئے کہ کوئی ایک بھی اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔۔۔ جی ہاں میں تذکرہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی دختر مریم کی سزا یفتہ ہونے کے باوجود نہ صرف رہائی بلکہ بیرون ملک جانے کے لئے پر تولنے کا کررہا ہوں۔ یہ کوئی معمولی واقعہ یا خبر نہیں ہے یہ ایک پورے سسٹم کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ سب کس طرح سے ہو گیا؟ ایک طرف عمران خان کی حکومت کے خلاف دھرنا چل رہا ہے تو دوسری جانب خاموشی لیکن انتہائی برق رفتاری کے ساتھ یہ دوسرا اہم ترین کام ہو رہا ہے ایسے لگ رہا ہے کہ نواز شریف پر مہربانی کرنے والے اس دھرنے اور اس سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کا انتظار کررہے تھے اور انہوں نے دھرنے کی حرارت کو اس برف کے چٹان کو پھلانگنے میں استعمال کیا جو نواز شریف کی رہائی میں حائل ہو رہا تھا۔ اس لحاظ سے تو نواز شریف اور ان کی پارٹی کو دھرنا دینے والوں کا احسان مند اور ممنون ہونا چاہئے کہ جو کام ان کے شیوخ دوست نہ کر سکے وہ ردی کے بھاﺅ بکنے والوں نے کردیا۔ غرض جو کچھ بھی ہوا اس نے این آر او نہ دینے کے نعرے کو خاک میں ملا دیا۔ میری ذاتی رائے میں وزیر اعظم عمران خان اب اپنے اس تکیہ کلام کو فوری طور پر دفعان کردیں کیونکہ اگر ابھی بھی انہوں نے اس کی راگ الاپی تو وہ خود اپنی رسوائی کا باعث بن جائیں گے۔ بلکہ اب تو عمران خان کو خود سنجیدگی کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے زیادہ با اختیار تھے؟ یا پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے؟ اگر انہیں اپنے اس سوال کا جواب ایمانداری سے مل جائے تو انہیں امور مملکت چلانے میں آسانی ہوگی اور نہیں تو کم از کم دعوے کرنے میں تو انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ وہ کون سا دعویٰ کرسکتے ہیں کہ جسے وہ عملی جامہ بھی پہنا سکیں۔ فی الحال تو این آر او نہ دینے کا ان کا دعویٰ یا تو ہوا میں کہیں تحلیل ہو گیا یا پھر راکھ بن کر زمین پر بکھر گیا۔ یہ ایک سبق اور ایک طرح کا نوشتہ دیوار ہے جسے عمران خان کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح کی صورتحال بنتی جارہی ہے اس سے تو میں یہ ہی نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ کوئی عمران خان سے استعفیٰ مانگے؟ یا نہ مانگے وہ خود ہی استعفیٰ دینے میں ہی اپنی عزت محسوس کریں گے جو لوگ عمران خان کی عادات و اطوار سے واقف ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگر عمران خان ایک طرف ضدی ہیں اور اپنے ہار پر یقین نہیں رکھتے تو دوسری جانب وہ ذلت رسوائی اور منافقت کے ساتھ سمجھوتہ بھی نہیں کرسکتے۔ اس لئے جان کر معاملات کو اس نہج پر پہنچایا جا رہا ہے کہ عمران خان خود ہی کوئی قدم اٹھائیں، وہ کون ہیں جو اس طرح سے چاہتے ہیں، اس کو بھی عنوان دینا گرچہ مشکل ہے لیکن بلاعنوان کے بھی لوگ انہیں با آسانی پہچان لیتے ہیں لیکن وہ اب ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں یہ ذرا مشکل سا سوال ہے جس کا جواب تو قیاس آرائیوں میں بھی دین امشکل ہے فی الحال جو سیاسی تبدیلی آئی ہے اس سے عمران خان اور ان کی حکومت سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے۔ بظاہر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اس معجزانہ رہائی اور بیرون ملک روانگی کا سارا ملبہ پاکستان کی اندھی بہری لنگڑی اور لولی عدلیہ پر گر رہا ہے جو اس سارے معاملے کو عدل و انصاف کا نام دے کر خود کو بری الزماں قرار دینے کی کوشش کررہی ہے لیکن یہ ایک اس طرح کی گولی ہے جسے قوم نہ تو آسانی سے نگل سکے گی اور نہ ہی تھوک سکے گی اور یہ سارے فیصلے پاکستانی عدلیہ کے ماتھے پر جھومر کی طرح سے چمکتے رہیں گے۔ اب قانون اور انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جس اخلاص اور انسانی ہمدردی کی بناءپر اعلیٰ عدالت کے ججوں نے نواز شریف کی سزا کو محض بیماری کی وجہ سے ختم کرکے انہیں رہا کروانے کا حکم دیا تو پھر پاکستان بھر کی جیلوں میں قید دوسرے بیمار قیدیوں کے ساتھ بھی اس طرح کا اخلاص اور ہمدردی کیوں نہیں کی جا سکتی۔ اگر ملکی اعلیٰ عدلیہ اس طرح کا سلوک دوسرے بیمار قیدیوں کے ساتھ نہیں کر سکتی تو پر اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں پر سوال اٹھیں گیں۔ جو بھی کچھ ہوا اس سے قانون اور انصاف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور اس طرح سے لگ رہا ہے کہ ملکی سیاسی اشرافیہ کے لئے قانون و انصاف کو ”نو گو ایریا“ بنا دیا گیا ہے یعنی اب سیاسی اشرافیہ پر ملکی قانون و انصاف کا کوئی اطلاق نہیں ہو سکے گا۔ اسی کو ”بنانا ری پبلک“ کہا جاتا ہے وہ ملک وہ معاشرہ جسے ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کے فارمولے پر چلایا جارہا ہے۔ عمران خان کے لئے موجودہ صورتحال لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔ انہیں اب اپنے اور پاکستان کے مستقبل کے لئے سوچنا چاہئے کہ جس طرح سے نظام مملکت کو نظر نہ آنے والے شراکت دار چلا رہے ہیں کیا اس طرح سے یہ مملکت خداداد مزید چل سکے گی؟ جو یوٹرن نوازشریف کے مقدمات کے حوالے سے لیا گیا ہے کیا اس یوٹرن کا ذمہ دار بھی سابقہ یوٹرن کی طرح سے عمران خان کو ہی ٹھہرانا مناسب ہوگا؟ عمران خان کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ وہ جس کشتی میں سوار ہو گئے ہیں یا پھر ان کی کشتی میں جو لوگ سوار ہو چکے ہیں ان کے ہوتے ہوئے وہ کنارے تک پہنچ سکیں گے؟ انہیں اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ اس دھرنے کی حقیقت کیا ہے اور مولانا کے نقاب کے پیچھے کون ہیں، کیا انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تبدیل نہ کرنے کی سزا دی جارہی ہے؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے، کچھ تو ہے جس سے طاقت کا توازن بگڑ کر گہ گیا۔ اس موجودہ صورتحال میں عمران خان ملک کے کمزور ترین وزیر اعظم کے طور پر ابھر رہے ہیں اور جس طرح کے الزامات اپوزیشن کی جانبسے ان پر لگائے جارہے ہیں، نادیدہ قوتیں اپنی حرکتوں سے وہ ثابت کرتی جارہی ہیں جس طرح کے فیصلے کئے جارہے ہیں اس سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ فیصلے کہیں اور سے ہو رہے ہیں۔ حکومت، عدلیہ اور دھرنے والے تو سب کے سب کردار کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں اور ریاست ایک اسٹیج کے سوا کچھ نہیں۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں