71

۔۔۔ گھر کے چراغ سے

لیجئے جناب بلیاں آہستہ آہستہ تھیلیوں سے باہر آرہی ہیں۔ اب صاف نظر آنے لگا ہے کہ دشمنوں کے آلہ کار کس ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ فضل الرحمن کا دھرنا اب سمجھ میں آنے لگا ہے۔ نواز شریف کا باہر جانے پر اصرار اور اس کی بیماری کا ڈھکوسلہ اب واضح ہو گیا ہے۔ لندن پہنچتے ہی اپنے آقاﺅں سے امریکہ میں ٹیلی فونک روابط اب واضح ہو رہے ہیں۔ اچانک 30، 35 سال بعد طلباءکی تحریکیں ابھرنے کی اصل حقیقت اب کھل رہی ہے۔ ادھر ہمارے نام نہاد دوستوں کے بھارت سے بڑھتے ہوئے روابط اور سینکڑوں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اصل بھی کھل رہی ہے۔ ایک امریکی تجزیہ نگار نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب پاکستان میں ڈک چینی کی ”شیوران“ اور ”ایکسون آئل“ کے دفاتر اسلام آباد میں قائم ہو جائیں تو سمجھ لو کہ پاکستان کا برا وقت شروع ہو چکا ہے۔ خاکم بدھن یہ دونوں امریکن تیل کمپنیوں کے دفاتر اسلام آباد میں قائم ہو چکے ہیں۔ ادھر خبریں ہیں کہ پاکستان میں 200 سال تک جلنے والے گیس کے ذخائر اور اربوں بیرل پیٹرول ملنے کی نوید سنائی جارہی ہے تو سمجھ لیں کہ اب پاکستان بھی عراق، لیبیا اور ایران کی صف میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ جہاں تیل اور گیس کے ذخائر ان ملکوں کے لئے رحمت کی جگہ زحمت بن رہے ہیں۔ امریکہ جو کہ خود کو ساری دنیا میں پیٹرول کی ملکیت کا دعویدار ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی چشم ابرو کے اشارے پر تیل اور گیس کے معاملات طے ہوں، کس طرح یہ برداشت کر سکتا ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی حکومت قائم ہوئی ہے جو کہ اس کے اشارے اور آشیرباد کی مرہون منت نہیں ہے اور جو کرپشن فری ہے بلکہ اس کے غلاموں کی دشمن بھی ہے۔ جنہوں نے اس ملک کو کھوکھلا کرکے امریکہ کے قدموں میں ڈال دیا تھا۔ لہذا اب اس نے اس ملک پاکستان کے خلاف اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے۔پاکستان جو ایک بڑا ملک اور ایٹمی طاقت ہے کو وہ لیبیا، عراق، اور شام کی طرح فوجی طاقت کے ذریعہ مغلوب نہیں کر سکتا لہذا اب اس نے اس سلسلے میں اسے کاسہ لیسوں کے ذریعہ اندرون ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے کی سازش کی ہے جس کے ذریعہ ملک کی سالمیت کو پارہ پارہ کرکے اسے اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ سر نہ اٹھا سکے۔ اس سلسلے میں اس کے ایجنٹ جو پشتون، بلوچی اور سندھی قوم پرستی کے چولے پہن کر حقوق کی باتیں کررہے ہیں کے ذریعے چاروں صوبوں کو وفاق کے خلاف کرکے انہیں خود مختاری کی طرف راغب کیا جائے۔ اس سلسلے میں امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی متعدد سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جو اس کے نئے ورلڈ آرڈر کی تکمیل میں اس کا ساتھ دے رہی ہیں ان میں بلوچستان، پختونخواہ اور سندھ میں بڑی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور بلوچستان میں سرگرم بلوچوں کی قوم پرست جماعت کے ساتھ ساتھ فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام اس کا ایجنڈا پورا کرسکتی ہیں مگر اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی مسلح افواج ہے جو پاکستان اور صرف پاکستان کا ایجنڈا سامنے رکھ کر ملک کے استحکام اور تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ کسی طرح پاکستانی فوج کو کمزور کرکے اپنے مقاصد حاصل کرسکے اور گزشتہ دنوں پاکستانی فوج کے سربراہ کی مزید تین سالوں کے لئے تقرری کے مسئلہ کو اس کے حمایتوں نے ایک سیاسی مسئلہ بنا دیا جس کا اس سے قبل کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں ہی نے اپنے عہد اقتدار میں امریکہ کی یہ خواہش پوری کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی فوج کو بے اثر اور اس کے ایٹمی اثاثوں کو رول بیک کردیا جائے مگر وہ اپنی ان کوششوں میں محض فوج کی ملک سے وفاداری کے باعث پورا نہ کر سکے۔ جب یہ وار ناکام ہو گیا تو اب امریکہ ایک ایسے منصوبے کو لے کر آیا ہے جس سے ایک طرف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردے دوسری طرف چین کے منصوبے سی پیک کو بھی ناکارہ بنا دے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر ایک مستحکم پاکستان اور چین کے درمیان اشتراک عمل بڑھتا گیا تو پاکستان کے راستے پائپ لائن کے قیام کے بعد چین کو براہ راست پیٹرول فراہمی یقینی ہو جائے گی اس ایجنڈے پر امریکہ، ہندوستان اور افغانستان کی مدد سے پاکستان میں پشتون علیحدگی پسندوں کے ذریعہ جس میں ایک مذہبی جماعت بھی شامل ہو گی، شدید ہنگامہ آرائی کرکے علیحدہ پشتون صوبہ جس میں افغانستان کا کردار بھی ہو گا پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پورا منصوبہ تیار ہے اور امریکہ اب افغانستان سے واپس جانے کو تیار نہیں ہے بلکہ افغان طالبان سے مذاکرات میں بھی وہ پاکستان کے کردار کو نظر انداز کررہا ہے جس کا ثبوت صدر امریکہ کی اچانک افغانستان آمد کے موقع پر پاکستان کو اعتماد میں نہ لینے سے واضح ہو جاتا ہے۔ لہذا اب معاملہ پھر گھوم پھر کر پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخائر ملنے کی اطلاع اور امریکہ ہندوستان اور افغانستان کے باہمی اتحاد سے خطے میں ایک نئی جنگ چھڑنے کی منصوبہ بندی پوری ہو چکی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہی امریکہ ایران کو پیٹنے کی تیاری کرچکا ہے۔ وہاں ہونے والے نام نہاد عوامی مظاہروں کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ یہ بات کھل چکی ہے جب کہ اب ہندوستان اور ایران کے درمیان بھی وہ گرم جوشی ختم ہو گئی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کے سلسلے میں جسے گوادر کے نعیم البدل کے طور پر قائم کیا جارہا تھا بھی سرد مہری کا شکار ہے۔ لہذا ان حالات میں اب ساری ذمہ داری پاکستان کی مسلح افواج پر آرہی ہے کہ وہ کس طرح ملک عزیز کو دشمنوں کی یلغار اور اندرونی منافقین کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ورنہ اس ملک کو گھر کے چراغ سے ہی آگ لگے گی اور پھر ہمارا نام بھی نہ ہو گا داستانوں میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں