87

بہادر بچہ

کہاوت ہے کہ ”زبان خلق کو نقارئہ خدا سمجھو“۔ دنیا بھر کی زبان پر یہ بات ہے اور یہ روز روشن کی طرح عیاں بھی ہے کہ راﺅ انوار نے ماورائے عدالت قتل کرائے۔ وہ پولیس کی وردی میں قانون کا رکھوالا نہیں بلکہ قانون کا وہ خونی تھا جس کی سفاکی کے قصہ خود اس کے اپنے ادارے کے لوگوں سے بھی ڈھکے چھپے نہیں مگر تمام لب خاموش ہیں۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق راﺅ انوار نے تقریباً 190 جعلی پولیس مقابلے کئے جن میں اس نے تقریباً 400 افراد کو لقمہ اجل بنا دیا اور دنیا بھر میں سینہ پھلا کر گھومتا رہا۔ ان 400 افراد میں زیادہ تر کراچی کی ایک تنظیم کے نوجوان تھے یا پھر وہ افراد جن کی زمینوں اور مکانوں پر قبضہ مقصود تھا۔ قدررت کی پکڑ میں راﺅ انوار اس وقت آیا جب اس نے کسی کراچی کے نوجوان کی نہیں بلکہ نسلی پٹھان نقیب اللہ محسود کی بلی چڑھائی۔ پورے ملک کا پٹھان اٹھ کھڑا ہوا اور یک زبان ہو کر راﺅ انوار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کردیا۔ ردعمل اس قدر شدید تھا کہ حکومت کو رائے عامہ کو رام کرنے کے لئے راﺅ انوار کو نہ صرف عہدے سے ہٹانا پڑا بلکہ اسے کٹھہرے میں بھی لانے کا ڈرامہ رچایا گیا مگر مقام حیرت ہے کہ بڑے سے بڑے سیاسی رہنما جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھجوا دیئے گئے مگر راﺅ انوار کو اس وقت کے مطلق العنان چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہایت عزت و احترام سے سپریم کورٹ میں بلوایا اور با عزت طریقے سے سوالات کرکے واپس روانہ کردیا۔ نہ جسمانی ریمانڈ لینے کی جرات ہوئی نہ ہی اسے چند لمحوں کے لئے بھی جیل بھجوا گیا۔ یوں بہادر بچہ جو نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا ثابت ہوا بلکہ حکومتی مشینری اور ہمارے سیاسی کرتا دھرتا بھی اسے سامنے لانے سے آج تک کترا رہے ہیں کیونکہ راﺅ انوار نے جن لوگوں کے لئے جو کچھ کیا۔ اس کے تمام ثبوت و شواہد وہ جمع کرتا رہا تاکہ جب کبھی اس پر ہاتھ ڈالا جائے تو وہ اکیلا نہ جائے بلکہ کئی ایک پردہ نشینوں کو سامنے لائے اور دنیا جان سکے کہ ملک میں قتل و غارت گری کے واقعات کے پیچھے بھی سیاسی عزائم پوشیدہ ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ آج تک بہادر بچہ کہاں چھپا ہے اور اسے اس کے کالے کرتوتوں کی سزا کیوں نہیں دی جاتی۔ وہ فوجی اور سول ادارے جو دن و رات عوام کے گھروں میں گھس جاتے ہیں اور پھر نوجوانوں کو اٹھا کر نامعلوم مقامات پر لے جاتے ہیں۔ کچھ تو واپس آ جاتے ہیں اور کچھ کی مسخ شدہ لاشیں ندی نالوں سے ملتی ہیں۔ ملک کی عدالتیں، میڈیا اور دیگر ادارے صرف اور صرف مخالفین کے نوٹس بنانے میں مصروف ہیں۔ کسی کو خیال نہیں، کسی کو فکر نہیں اور کسی کو اس بات کا ادراک نہیں کہ راﺅ انوار جیسے لوگوں کا جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ ہونا کس قدر خوفناک ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں مگر ہمارے اقتدار اعلیٰ کے لوگوں کی بصیرت کا اللہ حافظ ہے سو شکوہ بھی کوئی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں