Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 120

فیصلے بمقابلہ فیصلے

فیصلے فیصلے فیصلے۔۔۔ لگتا ہے ان دنوں پاکستان میں فیصلوں کا موسم چل رہا ہے جہاں نظر اٹھا کر دیکھیں، وہیں فیصلے ہی فیصلے اڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ فیصلے بھی اس طرح کے جو کسی بھی طرح سے دھماکوں سے کم نہیں۔ سابق آمر کو موت کی سزا کا فیصلہ ہو یا وزیر اعظم عمران خان کے کوالالمپور ملائیشیا کے اسلامی اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ ہو، کوئی معمولی فیصلہ نہیں۔ یہ فیصلہ ملک کی خارجہ پالیسی کے بدلنے اور کشمیر کاز پر اثر انداز ہونے کا باعث بنے گا۔ ان فیصلوں نے قانون اور ان کی دفعات کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا جس طرح سے ذوالفقار علی بھٹو کے فیصلے نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 اعانت جرم کو عوام میں مقبول کردیا تھا اسی طرح سے پرویز مشرف کے اس تاریخی فیصلے نے آئین کی سب سے خطرناک آرٹیکل 6 کے مردے گھوڑے میں جان ڈال دی ہے۔ آئین سے واقفیت رکھنے والوں میں آرٹیکل 6 کی اہمیت میں اضافہ کردیا اور انہیں یہ باور کرادیا کہ آئین کے اس آرٹیکل کی خلاف ورزی کے نتیجے میں جان بھی جا سکتی ہے۔ ورنہ پہلے تو یہ آرٹیکل مذاق بن گیا تھا۔ ان فیصلوں سے یہ بات بھی روز روشن کی طرح سے عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان کی عدلیہ آزاد ہے، عدالت کے جج سوائے اپنے ضمیر کے کسی اور کے بوجھ اور دباﺅ میں آکر کوئی فیصلے نہیں کرتے۔ نواز شریف کی رہائی اور ملک سے باہر بھجوانے سے لے کر زرداری اور دوسرے تمام سیاستدانوں کی رہائی عدالت کے اپنے فیصلے ہیں۔ ان میں حکومت سمیت کسی اور فریق کا کوئی کردار نہیں جب کہ ان فیصلوں میں سے پرویز مشرف کے متوقع فیصلے کی پیشگی اطلاعات تو خود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید کھوسہ پہلے ہی وکلاءکے کسی اجتماع سے خطاب کے دوران دے چکے تھے جس کا مقصد حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو خبردار کرنا تھا کہ اگر وہ اپنی دفاع میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ جس کے بعد پرویز مشرف کے وکلاءنے محفوظ شدہ فیصلے کو رکوانے اور اس میں تیکنیکی رکاوٹیں ڈالنے کی بہت کوششیں کی مگر وہ ناکام رہے اور بالاخر فیصلہ آگیا۔
عدالتوں کا کام فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور اس پر عمل درآمد حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انصاف کی پرچار کرنے والی عمران خان کی یہ حکومت عدالت کے فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کرتی ہے جب کہ کورٹ میں سرکاری وکیل تو پہلے ہی حکومتی عزائم کا اظہار کرچکے ہیں لیکن اس تاریخی فیصلے کے آنے کے بعد قوم کی نظریں حکومت پر لگ گئی ہیں کہ حکومت اب کیا کرتی ہے؟
میری ذاتی رائے میں عمران خان کے لئے مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس موقع پر وہ جو قدم بھی اٹھاتے ہیں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا حالانکہ اس فیصلے کے خلاف ابھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر اپیل کے مرحلے باقی ہیں جب کہ عدالتی فیصلے میں بہت ساری تشنگیاں موجود ہیں۔ بہت سارے خلاﺅں کو پُر کیے بغیر فیصلہ سنانے میں جلدبازی کی گئی ہے اس لئے اس فیصلے کے خلاف کئے جانے والے اپیل سے اصل صورتحال واضح ہو جائے گی۔ اس سے پہلے اس فیصلے پر کسی بھی طرح کا تبصرہ کرنا بے معنی ہوگا۔ اس لئے اس کے لئے انتظار کرنا ہوگا۔
میں بھی یہ کالم عجلت میں لکھ رہا ہوں، اس لئے کہ میرا موضوع کچھ اور تھا لیکن صبح ہی صبح اس خبر پر نظر پڑی تو میرے بھی ہوش اڑ گئے، موجودہ صورتحال کے تناظر میں ملک اس طرح کے فیصلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بڑی جہد کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر آچکی ہے۔ جس کے ثمرات بھی ملک کی ترقی کی صورت میں ریاست کو مل رہے ہیں اور ملک اپنے انفرادی حیثیت کو تیزی کے ساتھ اقوام عالم میں منواتا جارہا ہے۔ اس طرح کے بدلتے ہوئے پاکستان میں اس طرح کے فیصلے تو کسی ترقی کرنے والے شخص کے پیتروں تلے سے زمین کھینچنے کے مترادف ہے۔ تواتر کے ساتھ دو فیصلوں کے ذریعے اس گٹھ جوڑ پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس سے ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ اس طرح کے خیالات دفاعی تجزیہ کاروں کے ہیں جو اپنے اندازوں سے ان فیصلوں کو کسی سازش کی نطر سے دیکھ رہے ہیں۔ میں کیا کوئی بھی غیر جانبدار صحافی ان دفاعی تجزیہ کاروں کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرے گا لیکن یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ آرمی چیف کے ایکسٹینشن کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اختیارات سے تجاوز کیا اور پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کہہ کر پارلیمنٹ کی خودمختاری پر حملہ کرنے کی کوشش کی جو غلط ہے۔
پرویز مشرف کے خلاف آنے والے اس فیصلے کی حیثیت بھی چائے کی پیالی میں اٹھنے والے طوفان سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس فیصلے کے اثر کو زائل ہونے میں اتنا ہی وقت لگے گا جتنا وقت سگریٹ کے دعوئیں کو ہوا میں تحلیل ہونے میں لگتا ہے یا پھر سگریٹ کے راکھ کو زمینپر بکھرنے میں لگتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان اس طرح کے معاملات میں خود کوئی پوزیشن لے سکیں گے اس لئے کہ جو عمران خان اپنے دوست ملائیشین وزیر اعظم مفکر اسلام ڈاکٹر مہاتیر محمد کی درخواست اور فرمائش کے باوجود محض سعودی عرب کے فرمانرواں کے دباﺅ میں ملائیشیا میں ہونے والی اسلامی کانفرنس میں شرکت سے معذت کر چکے ہوں ان سے اب مزید اور کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟
عمران خان کے ملائیشیا نہ جانے کی وجہ کچھ بھی ہو لیکن اس سے ان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے، اس سے ملائیشیا جس نے کشمیر کے مسئلہ پر کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا وہاں نہ جا کر عمران خان نے پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو کس طرح کا پیغام دیا ہے جب کہ سعودی عرب جو کھل کر کشمیر پر بات کرنے کو تیار نہیں، عمران خان ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا کرنے میں بھی عمران خان نے ملک کے وسیع تر مفاد کو دیکھا ہوگا لیکن بظاہر اس کا تاثر بہت ہی غلط جارہا ہے۔ میں عدلیہ کے ان فیصلوں سے بہت خوش ہوں۔ کاش کے اس طرح کے فیصلے پہلے ہو جاتے تو ملک کا آج یہ حال نہ ہوتا۔ ملک میں ہر حالت میں انصاف اور قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عدلیہ کی پشتپر کھڑے رہنے کا اپنا وعدہ پورا کرے اور عدالتی احکامات پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرے۔ قانون کی حکمرانی ہی انسانوں اور جانوروں کے معاشرے میں فرق کا باعث بنتی ہے اور یہ ہی ایک بدلتے ہوئے پاکستان کا منشور ہونا چاہئے۔ اگر وہ واقعی ریاست مدینہ بننے کی خواہاں ہے تو۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں