Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 94

بے خودی میں قدم اُٹھ گئے۔۔۔۔۔

سیاست اور بلیک میلنگ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے اور نا مکمل ہیں۔ اپنے ملک کی سیاست پر نظر دوڑائیں یا عالمی سیاست پر ہر جگہ آپ کو بالواسطہ یا براہ راست طور پر بلیک میلنگ کا ہی ستارہ جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا۔ ملکی سیاست میں قومی ادارہ نیب ان دنوں یہ کارخیر خوبصورتی سے ادا کررہا ہے۔ ملکی سیاست میں ایک ہل چل سی مچ گئی ہے۔ نیب کے چھاپوں نے سیاست میں ایک ہیجان برپا کردیا ہے جس کی وجہ سے ہر کوئی انکھ بند کرکے بلا کسی تحقیق کے نیب پر یہ لیبل لگانے پر مجبور ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کررہا ہے وہ حکومت مخالف سیاستدانوں کو بلیک میل کررہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح سے عالمی سیاست کا بھی کچھ اسی طرح کا حال ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہمارے محبوب وزیر اعظم عمران خان نے ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ہونے والی اسلامی کانفرنس میں اپنی طے شدہ شرکت اچانک ملتوی کردی جس پر ایک ہیجان برپا ہو گیا۔ حالانکہ ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو پہلے سے عالم تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی شرکت ڈانواڈول ہے یعنی مشکل ہے۔ اور ان دونوں حکمرانوں کو اس کی وجہ بھی معلوم تھی لیکن وہ دونوں وہ وجہ ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اس لئے انہوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بظاہر عمران خان کا کسی طے شدہ اہم ترین اجلاس میں شرکت نہ کرنا عہد شکنی کے زمرے میں آتا ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ یہاں پر بھی بلیک میلنگ کا عمل دخل ہے ان صورتحال کو دیکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان بلیک میلنگ کا شکار ہو گئے تو غلط نہ ہوگا۔ ترکی اور ملائیشیا کے حکمرانوں کو تو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کون ہے جو کولاالمپور میں ہونے والی اس کانفرنس کے خلاف ہے اور وہ کون ہے جو نہیں چاہتا کہ پاکستان اس میں کوئی کردار ادا کرے۔
عمران خان اور اس کی حکومت کو ریمورٹ کے ذریعے کنٹرول کرنے کے لئے ہی پاکستان میں مقدمات کے فیصلوں کے ذریعے اسی طرح کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ یہ تمام اقدامات عمران خان کو غیر روایتی سیاستدان اور حکمران سے روایتی حکمران اور سیاستدان بنانے کے لئے کئے گئے اور ایسا کرنے والے اپنے مقصد میں ابھی تک کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔ ان اقدامات سے سب سے زیادہ نقصان عالم اسلام، ریاست پاکستان اور خود عمران خان کی ذات کو پہنچا۔
عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد ان کے اصول ان کی سچائی اور ایمانداری سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے جو خواب انہوں نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا دیکھا تھا۔ کیا وہ اس طرح کی عہد شکنی کرتے ہوئے اس خواب کی تعبیر حاصل کرسکیں گے؟ عمران خان بھی ترکی اور ملائیشیا کے حکمرانوں کی طرح سے پس پردہ قوتوں کے عزائم سے واقف ہیں مگر زمینی حقائق ان کی راہ کی دیوار بن رہے ہیں۔ جسے پار کرنا بحیثیت کرکٹر عمران خان تو انہیں آسان ہو مگر وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے انہیں اس دیوار کو پار کرنا صرف مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔ اس لئے وہ اور ان کی سیاست بلیک میلنگ کا شکار ہو گئی ہے اور ان کی حیثیت اب قائدانہ نہیں بلکہ ایک مہرے والی ہو گئی ہے۔
میں اتنے سخت جملے اپنے محبوب لیڈر کے بارے میں دل پر جبر کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں اس لئے کہ میرے محبوب لیڈر نے اپنی وہ امتیازی پوزیشن ہی ختم کردی ہے جو اسے دوسرے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے منفرد بنا رہی تھی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ عمران خان بھی دوسروں کی طرح سے راشی ہو گئے۔۔۔ مگر وہ وہی کام کرنے لگے ہیں جو نواز شریف اور زرداری کیا کرتے تھے۔ پھر عمران خان اوران میں فرق کیا رہا؟ کہاں گئی وہ تبدیلی جس کا خواب قوم کو دکھایا گیا تھا؟ مجھے معلوم ہے عمران خان نہ چاہتے ہوئے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ انہیں بھی اپنے وزیر اعظم بن جانے کے بعد اپنے کسی غیر ملکی اجلاس میں جانے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی ہو گی جتنا دُکھ اور افسوس انہیں ملائیشیا کولاالمپور کے اسلامی اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے ہوئی ہے۔ دیکھنے والے پس پردہ چلنے والی صورتحال کو نہ تو جانتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس میں کوئی دلچسپی ہے۔ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ عمران خان نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرکے مسلم امہ کے اتحاد کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ لوگ اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ عمران خان نے 40 لاک پاکستانیوں کو سعودی عرب سے بے دخل ہونے سے بچایا ہے۔ انہیں بے روزگار ہونے سے بچایا ہے اگر عمران خان سعودی عرب کی خواہش کو ٹھکراتے ہوئے ملائیشیا کی کانفرنس میں شرکت کرتے تو پاکستان کا دوست اسلامی ملک سعودی عرب اپنے اصل روپ میں سامنے آ جاتا کہ وہ کون ہے۔ میں اس طرح سے کوئی عمران خان کی وکالت نہیں کررہا بلکہ حقائق سامنے لا رہا ہوں کہ کس طرح سے کسی اچھے انسان اور اچھے نیک سیاستدان اور حکمراں کو بھی کتنی آسانی کے ساتھ بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔ پڑھنے والوں کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ سعودی عرب نے کشمیر کے معاملے میں کھل کر پاکستان کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔۔۔؟
سعودی عرب میں آج بھی پاکستانی مسلمانوں کے مقابلے میں بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ سعوی عرب کی نظر میں پاکستانی حکمرانوں اور پاکستانی لوگوں کی حیثیت بھکاریوں سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس لئے عمران خان کو چاہئے کہ وہ سعودی حکمرانوں کے سحر سے خود کو باہر نکالیں، وہ امریکا اور دس پردہ اسرائیل و انڈیا کے یار ہیں۔ ان سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، ان کی دوستی میں عالم اسلام کے حقیقی ہیروز طیب اردگان اور مہاتیر محمد سے فاصلے بڑھانے سے گریز کریں۔ خود کو بھی اس بلیک میلنگ سے نکالیں اور اپنے ملک میں اپوزیشن کو بھی بلیک میلنگ سے آزاد کروائیں اور اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کریں کہ نیب حکومت کی ایما پر سیاستدانوں کو گرفتار کررہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے احسن اقبال کی گرفتاری بلیک میلنگ کی کڑی بن کر اُبھر گئی ہے۔ اس لئے عمران خان کو چاہئے کہ وہ ملک میں انتقامی اور بلیک میلنگ کی اس فضا کا خاتمہ کروائیں اور صاف ستھری سیاست کی داغ بیل ڈالیں اور اختلاف رائے کو انا کے بائے اصلاح کا ذریعہ بنائیں یہ ہی ایک بدلتے ہوئے پاکستان کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں