18

کوئی بات نہیں

سال 2019ءکی ملکہ حسن اگلے سال کی نومنتخب حسینہ عالم کو امیدوں، چاہتوں، آرزوﺅں اور خوابوں کی تکمیل کا تاج پہنچا کر خاموشی سے رخصت ہو گئی۔
کس نے کیا کھویا کیا پایا۔ رشتوں کی ڈور کتنی مضبوط ہوئی، سانس نے کب روح سے تعلق منقطع کیا، وقت کی تبدیلی وقت ہی جانتا ہے۔ ہم سب اپنی اپنی زندگی کے دائرے میں کوہلو کے بیل کی طرح صبح سے شام تک رواں دواں رہتے ہیں، اچھے مستقبل کے خواب سجائے زندگی کے روزمرہ کاموں میں غلطاں و پیچاں رہتے ہیں۔ جو ادھورے کام گزشتہ سال پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے ان کو آئندہ سر انجام دینے کی دھن میں وقت کے گھوڑے پر سوار اندھا دھند بھاگتے چلے جارہے ہیں لیکن ہر سال کوئی خاص اہمیت کا حامل نظر نہیں آتا، وہی ملازمت کی مصروفیات، شادی بیاہ کے ہنگامے، کاروباری لین دین، بدائی ملاپ کی داستانیں ساتھ ساتھ محو سفر رہتی ہیں۔ کچھ نہیں بدلتا یہاں تک کہ ہم خود اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہماری جسمانی ساخت، چہرے، بال، چال ڈھال، لباس، اٹھنا بیٹھا، ملنا جلنا، طرز رہائش، بود و باش سب کچھ تبدیلی کا نقاب اوڑھ لیتا ہے، صرف ہمارے اندر کی تبدیلی پرانے زنگ آلودہ برتن کی طرح نہیں بدلتی۔ ہمارے ذہنوں کی کدورت، تعصب، بغض، ناراضگی، حسد، نفرت، تنقید، لاپرواہی جوں کی توں رہتی ہے۔ ہم کبھی کوشش نہیں کرتے کہ ان تمام ذہنی آلائشّں کو صاف مخلص نیت کے اچھے سے صابن سے دھونے کی کوشش کریں۔ بس یہ کہہ دیتے ہیں کہ میں کیوں پرواں کروں، مجھے کوئی سروکار نہیں، بڑا دل، بڑا حوصلہ، بڑی ہمت کے ساتھ کسی دوسرے کی کج روائی کو نظر انداز نہیں کرتے۔ جھک جانا اور صحیح ہوتے ہوئے بھی دوسرے کے سامنے صرف یہ بات کہہ دینا کہ ”کوئی بات نہیں“ بڑے دل گرے کا کام ہے۔ لیکن ہمارے جھوٹی انا، خودغرضی، تکبر بار بار اپنا خوبصورت چہرے لے کر ہمارے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ کسی کی غلطی کو درگزر کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ اس کی معافی میرے اللہ کو کتنی پسند ہے۔ اپنے اللہ کا شکر کرنا بھول جاتے ہیں، انسانوں کی غلطی پر پوری زندگی اس سے ناطہ ختم کرکے صبر و حوصلہ کی ہر تعلیم بھول جاتے ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ خدا بار بار ہمیں معاف کرتا ہے، ہماری غلطیوں پر سزا نہیں دیتا، مکافات عمل کی چھڑی سے ہمیں ڈراتا رہتا ہے، ہم کمزور ناتواں مخلوق خدا اپنی اکڑ زعم میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی پوری کوشش میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ دل میں کڑھتے رہتے ہیں، فلاں نے فلاں وقت میں فلاں بات کی تھی، میں اس کا بدلہ لوں گا حالانکہ بدلہ اور انتقام تو خود قدرت کب کہاں بڑے طریقے سے لے لیتی ہے، ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ دراصل ہمارا ایمان کمزور ہے، خدا کی بے نیازی پر توکل نہیں ہے، رات تکیے پر سر رکھ کر سونے سے پہلے اگر یہ جائزہ لے لیں کہ آج میں نے کس کی دل آزاری کی ہے اور کس کو الفاظ کی طاقت سے خوشی دی ہے تو میرا یقین ہے نیند کی دلیری بھی اسی طرح آپ کا استقبال کرے گی۔ کسی ایک رات کو سکون سے گزارنے کی خواہش کرتے ہوئے اگر پورے دن کو مثبت اور اچھے طریقے سے گزارا جائے تو ذہن، روح، جسم سب پرسکون ہو کر نیند کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔ فرق صرف اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنا ہے، کیونکہ اچھائیاں، نیکیاں، چھوت کے مرض کی طرح ہوتی ہیں، فوراً دوسروں پر اثر انداز ہوتی ہیں بشرطیکہ ان کو روح میں پیوست کرلیا جائے۔ اولاد باپ ماں کا احترام کرے، والدین اولاد کو عزت دیں، دوست دوست کو احترام دے غرض یہ کہ ہر رشتہ اپنے اپنے دائرے میں اپنا محاسبہ کرے اور محبت خوشی سکون کی قوس و قزح ہر طرف دکھائی دے۔ زندگی کی رعنائیوں پر ہر ایک کا حق ہے لیکن قسمت اگر ساتھ نہ دے تو دوسروں کی حوصلہ افزائی کریں، دولت کا انبار نہ سہی، الفاظ کی طاقت استعمال کریں، مسکراہٹ کے تبادلے کو رواج دیں۔ کسی کے لئے وقت نکالیں، رشتوں کی قدر کریں، اپنوں کو جوڑنے کی کوشش کریں، یہی نئے سال کا پیغام ہے اور یہی دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کے دُکھ درد میں ساتھی بنائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں