40

بدلتا ہے رنگ، آسمان کیسے کیسے

حسب سابق کی طرح زیر عتاب رہنے والی مہاجروں کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ مائنس الطاف کے بعد شاید بوٹوں والی سرکار بھی قبول کرلے۔ ایک بار پھر منظر عام پر آتی اور حکومت کی تبدیلی کے لئے اہم رول پلے کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی جانب سے کراچی کے مسائل پر آواز اٹھانا، سندھ کی گیس پر وفاق کی اجارہ داری سے اختلاف اور ملک ریاض سے حاصل ہونے والی رقم پر وفاق کے قبضہ جیسے اہم معاملات پر سوال اٹھانا، حکومت کی تبدیلی کی جانب پیش رفت ہے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے وفاق اور سندھ میں تحریک انصاف سے اپنا تعاون دراز رکھا ہے جس کے سبب پاکستان تحریک انصاف نے با آسانی کراچی سے کئی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے مگر متحدہ کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کراچی کے مسائل کی جانب توجہ نہیں دی جارہی۔ میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں اور ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے جارہے۔ سندھ حکومت تمام الزامات وفاق پر ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الزمہ ہو جاتی ہے۔ کراچی کی ملازمتوں کو دیکھیں تو سندھ دیہی کے رہنے والے آج کراچی کی تمام ملازمتوں پر براجمان ہیں اور کراچی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کوٹہ سسٹم کی لعنت نے کراچی سے نہ صرف اچھے اور پڑھے لکھے افراد کو ملازمتوں سے دور رکھا ہے بلکہ نا انصافی کا وہ سلسلہ شروع کیا ہے کہ کراچی کے عوام میں انتہائی درجہ مایوسی پھیل رہی ہے۔ سندھ حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ بھی وفاقی حکومت پر ڈال دیتی ہے اور یوں وفاق اور سندھ کی لڑائی کے درمیان سندھ اور کراچی کے عوام بری طرح پس چکے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے تحریک انصاف کی حکومت کا ساتھ اس امید پر دیا تھا کہ کراچی کے عوام کے مسائل کو نئی حکومت حل کرے گی مگر مایوسی ہوئی کہ کراچی کے حالات مزید بدتر ہوگئے۔ ایسے موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے عوض سندھ میں وزارتوں کی پیشکش کرنا موجودہ حکومت کی تبدیلی کی جانب پہلا قدم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کیا فیصلہ کرتی ہے اور پیپلزپارٹی کی پیشکش قبول کرنے کے عوض ہمیشہ کی طرح صرف زبانی دعوﺅں پر اکتفا کرتی ہے یا پھر کسی سنجیدہ معاہدہ کے ذریعہ حقیقت میں کراچی اور سندھ دیہی کے عوام کے مسائل حل کئے جاتے ہیں۔
لگتا یہی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سر پر لٹکی تلوار ہٹالی گئی ہے اور اپوزیشن کو سانس لینے کا موقع فراہم کردیا گیا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال واضح ہو گی کہ موجودہ سیٹ اپ، اپ سیٹ ہو رہا ہے یا پھر ابھی کچھ اور پردے گرنے باقی ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں