Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 67

نظریہ ضرورت

ایک ایسا نظریہ جس کا نام ”ضرورت“ ہے جس کے ایک نہیں لا تعداد عمل ہیں ورنہ سائنسی اصطلاح میں تو کسی بھی نظریہ سے کوئی ایک ہی عمل جڑا ہوا ہوتا ہے لیکن پاکستان کے سیاسی اور خاص طور سے راج نیتی کی دنیا میں موجود ”نظریہ ضرورت“ کی شان بان اور اس کے کرشمے ہی کچھ اور ہیں۔ ہر نہ ہونے والا کام اس نظریہ کے تحت الہ دین کے جن کی طرح سے چٹکی بجا کر ہو جاتا ہے اسے دوسرے لفظوں میں اگر اس طرح سے کہا جائے کہ نظریہ ضرورت ایک ایسا فارمولا ہے جس سے آپ کسی بھی غیر قانونی کام یا غیر قانونی شے کو قانونی بنا سکتے ہیں تو غلط نہ ہو گا اس طرح کا عجیب و غریب فارمولا روئے ارض پر سوائے پاکستان کے اور کہیں بھی نہیں ملے گا اس نظریہ صرورت نے ہمارے ملک کی سیاسی بالخصوص جمہوریت پر اس طرح کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ جسے صاف کرنے میں صدیوں لگ جائیں گے۔ نظریہ ضرورت ایک اس طرح کا نظر نہ آنے والا پاکستان کا مضبوط ترین آئین بن گیا ہے جس کی پاس داری کرنا نعوذ باللہ ہر کسی کے ایمان کا حصہ بن گیا ہے اس نظریہ کے بارے میں اتنی لمبی چوڑی تمہید اس لئے باندھ رہا ہوں کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی ساری سیاست اور جمہوریت ہی اس ایک نظریہ کے گرد گھوم رہی ہے۔ جمہوریت کے بڑے بڑے داعی اور چیمپئن اس نظریہ کے آگے بت بن کر رہ جاتے ہیں، پوری پارلیمنٹ اس نظریہ کے سامنے سرنگوں ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ”کیا حکم ہے میرے آقا؟“۔۔۔ اس سے زیادہ کسی نظریہ کی اور کیا طاقت اور افادیت ہو سکتی ہے؟ جو اس نظریہ ضرورت کو حاصل ہے۔ اس نظریہ نے پاکستان میں جمہوریت کا بالخصوص اور انصاف کا بالعموم ستیاناس کرکے رکھ دیا ہے، ایک زمانے تک یہ نظریہ ضرورت ”ملکی مفاد“ اور قوم کے ”وسیع تر مفاد“ کے نام سے مملکت خداداد پر حکمرانی کرتا رہا ہے جیسے عراق پر حملے کے لئے پاکستان سے امریکہ کو ہوائی اڈے فراہم کرنے کو بھی ملک کے وسیع تر قومی مفاد کا نام دیا گیا تھا اس طرح کے قومی مفاد میں کئے جانے والے امور پر کسی کو سوال کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوا کرتی تھی۔ جس طرح سے زمانہ حاضر میں عمران خان کا اچانک ملائیشیا کے اسلامی کانفرنس میں شرکت نہ کرنا اور پارلیمنٹ سے آرمی ایکٹ کا ترمیمی بل کا پاس ہونا، یہ سب کچھ اسی نظریہ ضرورت کے طفیل ہی ممکن ہو سکا ہے۔ ان معاملات پر جتنا سوال کرنا مشکل ہے اتنا ہی اس کا جواب دینا بھی مشکل ہے۔ سب کے سب آئیں بائیں شائیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ویسے تو میڈیا والے بات کی کھال تک اتار لیتے ہیں لیکن اس طرح کے معاملات میں ان کی بھی سیٹی گم ہو جاتی ہے۔
اس نظریہ ضرورت نے ملک سے انصاف اور جمہوریت کا جنازہ دھوم دھام سے نکالا ہے۔ جمہوریت اور انصاف خود اس نظریہ کے ہوتے ہوئے سوالیہ نشان بن گئے ہیں؟
کچھ دنوں قبل کسی عدالت نے سابق صدر کو ڈی چوک اسلام آباد پر پھانسی دینے اور ان کی لاش کو تین روز تک لٹکانے کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا تھا۔ ان احکامات کو اسی نظریہ ضرورت نے کس طرح سے سگریٹ کا دھواں بنا کر ہوا میں تحلیل کرادیا وہ بھی ساری قوم نے کھلی آنکھوں سے گم سم ہو کر دیکھ ہی لیا۔ معلوم نہیں پاکستان کون سے آئین کے تحت چل رہا ہے؟ اس آئین کے تحت جسے 1973ءکے پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر پاس کیا تھا یا اس نظریہ ضرورت کے تحت چل رہا ہے جہاں کے طور طریقے کہیں اور ہی طے ہوتے ہیں جہاں نہ کسی ایم پی اے کی رسائی ہے اور نہ کسی ایم این اے کی اور نہ ہی سینیٹرز کی۔۔۔
یہ معلوم کرنا میڈیا اور اعلیٰ عدلیہ کا کام ہے جس نے آئین پر چلنے کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ پاکستان کے ساتھ پچھلے 71 برسوں سے اسی طرح کا کھلواڑ کھیلا جارہا ہے۔ عمران خان کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب پاکستان میں بدلاﺅ آئے گا۔ ملک سے روایتی سیاست اور روایتی طرز حکمرانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہو گا اور جمہور بھی حکومتی امور میں شراکت دار ہوں گے۔ لیکن کیا ہوا؟ عمران خان کے دور حکومت میں تو نظریہ ضرورت کے بیمار گھوڑے میں نئی جان پڑ گئی ہے اور وہ تو پورے آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر آگیا۔ پہلے وہ جہاں حکومتی معاملات میں آٹے میں نمک کے برابر تھا لیکن اب تو نظریہ ضرورت کے پیروکاروں نے حکومت کرنے والوں کو نمک کا تناسب دے کر انہیں قوم اور ملک سے نمک حلالی پر لگا دیا ہے اور خود آٹے سے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں۔ پڑھنے والے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عمران خان کتنے با اختیار ہیں؟ اور وہ کس حد تک اپنے کسی وعدے پر عمل درآمد کرواسکتے ہیں؟ اس لئے ان سے زیادہ امیدیں باندھ کر خود کو پریشان نہ کریں۔ اس کے باوجود ایسا بھی نہیں کہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ وہ ایک دردمند انسان ہیں، دکھی انسانیت کے لئے تڑپ رکھتے ہیں اور ان کے لئے کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں اور جتنے لنگڑے لولے اختیارات کے وہ مالک ہیں اسی میں رہتے ہوئے وہ کچھ نہ کچھ تو کر ہی رہے ہیں۔ جو نظر بھی آرہا ہے۔ بے شک مخالفین اسے استرکاری کا نام دے رہے ہیں۔ لیکن وہ پہلا پاکستانی حکمران ہے جو برمال غریبوں اور مڈل کلاس کی باتیں ہر جلسہ گاہ میں اور اپنی ہر تقریر میں کسی نہ کسی انداز میں کرتے ہی رہتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکمران بننے کے بعد بھی وہ غریبوں اور مڈل کلاس کے لوگوں اور ان کے مسائل کو نہیں بھولے ورنہ اقتدار میں آنے کے بعد تو ہر کسی کی ترجیحات خود اپنے ادھوری خواہشات کی تکمیل پر ہی مرکوز رہتی ہیں۔ انہیں عوام سے کئے گئے وعدوں کا خیال ہی نہیں آتا۔ بات نظریہ ضرورت کی ہو رہی تھی جس کی ہر زاویے اور انداز سے خرابیوں کے بیان کرنے کے بعد اب اس میں موجود ایک خوبی کا تذکرہ نہ کرنا قلم اور سیاہی کے ساتھ زیادتی کرنے کے مترادف ہو گا اس نظریہ کی سب سے اچھی اور شاید ایک ہی خوبی وہ یہ ہے کہ یہ نظام کو مفلوج یا جام ہونے نہیں دیتا بلکہ اس کا کوئی نہ کوئی حل نکال کر اسے رواں دواں رکھتا ہے۔ شاید اس لئے اسے ضرورت کا نام دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود جمہوریت اور خود انصاف کی بقاءاور اس کی سربلندی کے لئے اس طرح کے اخلاق اور قانون شکن نظریہ سے بچنے میں ہی قوم اور ملک کی عافیت ہے۔ کوشش کی جائے کہ اس طرح کے کاموں کی نوبت ہی نہ آئے کہ جس کے حل کے لئے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو نظریہ ضرورت کا سہارا لینا پڑے جس کے استعمال سے حکومت کم اور ریاست زیادہ لرزش کا شکار ہو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں