Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 38

جاگو اے مسلمانوں۔۔۔

ایران اور امریکہ تنازعہ کے بعد ایک بار پھر پاکستان کے سر پر ایک تلوار لٹک گئی جب بھی عرب ملکوں میں اس طرح کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا براہ راست یا بالواسطہ پاکستان پر اثر پڑتا ہے جس کے بعد پاکستان کو اپنی پوزیشن واضح کرنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے کہ وہ کیا کرے؟ کیوں کہ آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اس وقت عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت سے بھی کچھ اس طرح کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اگرچہ پاکستان کو اپنی پوزیشن لینے میں کم و بیش اڑتالیس گھنٹے لگے اور یہ بیان آگیا کہ امریکہ ایران تنازع میں پاکسان اپنی سر زمین کسی کو استعمال نہیں کرنے دے گا۔ یہ ایک طرح سے جوابی طرز کا بیان ہے آیا کسی فریق نے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی خواہش کی ہے۔ یا پھر پاکستان کو اندیشہ ہے کہ کوئی یہ مطالبہ کر سکتا ہے اس لئے پاکستان نے پہلے ہی یہ دروازہ بند کرکے ایک طرح سے اپنے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کردیا جو میرے خیال میں وقت اور حالات کا تقاضا بھی ہے اور عقلمندی بھی۔
اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں پاکستان پر ہی کیوں تلوار لٹکا دی جاتی ہے۔ پاکستان کو ہی کیوں آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے۔۔۔؟؟ تو اس کا میرے خیال میں سیدھا سادا سا یہ جواب ہے کہ عالم اسلام کے 57 اسلامی ملکوں میں پاکستان کی انفرادی پوزیشن ہے جب تک پاکستان کی یہ انفرادی پوزیشن رہے گی تب تک اسے دوسرے اسلامی ملکوں پر آنے والی آفت میں اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ بعض دوسرے اسلامی ملکوں کی حالت بھی انفرادی والی ہو جائے گی تو پاکستا کو اس مشکل سے کسی حد تک نجات مل جائے گی اس کے بغیر پاکستان کا اس مشکل فیز سے نکلنا ممکن نہیں اگرچہ ایران، ترکی اور ملائیشیا سمیت بعض دوسرے اسلامی ممالک اس ڈائریکشن پر چلتے ہوئے خود کو دجالی دہشت گردی سے محفوظ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اس مقصد میں کامیاب کرے۔ ایسا کرنا ہی مسئلہ کا حل ہے اس لئے کہ جب تک طاقت کا توازن برقرار نہیں رہے گا اس وقت تک دنیا میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ دنیا سے ون مین شو جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے طاقت کا توازن ضروری ہو گیا ہے اس لئے کہ اقوام متحدہ جیسی نمائشی تنظیم کسی بھی جنگ کا مداوا نہیں بن سکی بلکہ اس کا کاندھا ملکوں کی تباہی کا باعث ضرور بنا ہے اس لئے اب ہر ملک کو اپنی مدد آپ ہی کے تحت خود کو بڑی طاقتوں کے استحصال سے بچانے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت بھی اسی سلسلے کی کڑی بتائی جاتی ہے اس وقت پورے عربستان میں غیر یقینی کیفیت طاری ہے ہر ملک کو اپنے اپنے طور پر یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے ملک میں کوئی جوالا مکھی پھٹ جائے۔
روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی گئی ہے جب کہ امریکی سیکریٹری خارجہ پومپیو مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کر کے اپنی پوزیشن واضح کررہی ہیں۔ ایران نے بھی جوابی دھمکی دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی جنرل کی شہادت کے تانے بانے کہاں جا کر ملیں گے۔ آخر امریکہ کو بیٹھے بٹھائے کیا سوجی کہ وہ اتنا بڑا ایڈونچر کر بیٹھا؟ ایرانی جنرل کی شہادت کسی طوفان کا پیش خیمہ بننے جارہا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتلائے گا۔ لیکن اس امریکی ایڈونچر سے خواب غفلت میں سوئے ہوئے مسلمانوں کو یہ احساس ضرور ہو گیا ہے کہ وہ امریکی حملوں سے اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ کوئی کسی بھی وقت امریکی میزائل کا نشانہ بن سکتا ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے کسی طرح کا ردعمل کیا تو ایران کے 52 مقامات ان کے میزائل کے نشانے پر ہیں۔ یہ ہی وہ خطرات ہیں جس سے بچنے کے لئے اپنی خودمختاری کا پاس رکھنے والے اسلامی ممالک ایٹمی قوتوں کے حصول کے لئے کوششیں کررہے ہیں اگر دوچار اسلامی ممالک اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گئے تو اس کے بعد پاکستان اس عالمی دہشت گردی، اس عالمی نفرت اور قہر سے کسی حد تک بچ جائے گا جس کا وہ آج تنہا مقابلہ کررہا ہے۔ بہت سارے اسلامی ملکوں کے ایٹمی پاور بن جانے کے بعد عالمی دہشت گردی اور نفرت ان ملکوں میں تقسیم ہو جائے گی جس سے دنیا میں غیر متوزن طاقت کے متوازن ہونے سے امن و امان کی صورتحال پید اہو جائے گی اور پھر کسی ون مین شو کو محض اپنی طاقت کے بل بوتے پر کسی کے خودمختاری سے کھلواڑ کرنے کی ہمت نہیں ہو سکے گی۔
ایرانی جنرل کی شہادت کے بعد عراقی وزیر اعظم اور عراقی پارلیمنٹ نے جرات کا مظاہرہ کیا اور اپنے ملک میں موجود تمام غیر ملکی فورسز کے خلاف قرارداد پاس کروالی جب کہ ایران نے ایٹمی معاہدے سے دست برداری کا اعلان کرکے عالمی دنیا کو اپنا پیغام دے دیا ہے کہ اب اس کے عزائم کیا ہے۔
میرے خیال میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت 57 اسلامی ملکوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے اس پیغام کو سارے مسلمانوں کو اپنے اپنے تنازعات کو بالائے تاک رکھتے ہوئے سنجیدگی سے لینا چاہئے کہ اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کے ساتھ کیا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت قتل اور دہشت گردی کے علاوہ دوسرے ملک کی خودمختاری میں مداخلت کا کھلم کھلا جرم ہے۔ جس پر عالمی عدالت کو حرکت میں آنا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو پھر مسلمان ممالک کو اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان والی انفرادی پوزیشن کے حصول کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہو گا۔ تھپڑ کا مقابلہ تھپڑ سے، میزائل کا مقابلہ میزائل سے اور ایٹم بم کا مقابلہ ایٹم بم سے کرنے کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا اس کے لئے شیر میسور ٹیپو سلطان کے اس تاریخی قول ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“۔ کو مشکل راہ بنانا ہوگا۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔ روز روز کے مرنے سے ایک دن کے مرنے کو ترجیح دینا ہو گی۔ عالمی قوتوں اور اسلام دشمنوں کی بلیک میلنگ اور ان کی دھونس اور دھمکیوں سے خود کو نکالنا ہوگا۔ جس کے لئے اتحاد، اخوت اور بھائی چارگی کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر چالاک اور مکار دشمنوں سے نمٹنا مشکل بھی ہے اور نا ممکن بھی۔
اب سب مسلمانوں کے لئے اللہ اکبر کہنے کا وقت آگیا ہے
اللہ اکبر….
اللہ اکبر……..اللہ اکبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں