29

نیا سال مبارک!

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اِک اور سنہرا سال گیا
سال 2019ءاپنے ساتھ دکھ اور سکھ لے کر تاریخ بن گیا۔ اگر اس پورے سال کے چیدہ چیدہ واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات ہر سال رونما ہوتے ہیں اور ہم انہیں ہر سال زیربحث لاتے ہیں۔ اس لئے کہ پچھلے سال میں کی گئی غلطیوں اور کوتاہیوں سے کچھ سیکھیں اور نئے سال کے لئے کچھ ٹارگٹ میٹ کریں۔ (Resolution) تاکہ ہمیں منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ انسان کی ہر خواہش کبھی پوری نہیں ہوتی۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ہمارے خاندانوں میں جہاں بہت سارے بچے دنیا میں آئے وہیں بہت سارے عزیز و اقارب ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔ اسی طرح ہمارے دوست احباب، ہمسائے اور اردگرد پر نظر دوڑائی جائے تو بہت سارے دکھ کے لمحات بھی دیکھنا پڑے۔ اسی کا نام زندگی ہے اسی میں ہمارے لئے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔
آئیے اب اپنے پیارے وطن پاکستان کے متعلق کچھ بات کرتے ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے واقعات نے ہمارے ملک کو بہت نقصان پہنچایا۔ جہاں ہزاروں قیمتی جانیں گئیں وہیں ہماری معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اگر اس کا نچوڑ نکالا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہمارے گزشتہ تیس سالوں میں برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں اور ان کے ساتھیوں نے یہ کردار ادا کیا۔ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا یا ہو رہا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ اس پر زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت جو کہ عمران خان کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے اس کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں صرف عمران خان کی شخصیت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ ان کے جو بھی ساتھی ہیں وہ غیر اہم ہیں۔ اور جو دستیاب افراد ہیں ان میں سے ہی آپ کو انتخاب کرنا ہوتا ہے اس میں سے ہی انتخاب کیا گیا ہے اب عمران خان اچھے ایماندار، تجربہ کار اور محنتی افراد درآمد کرنے سے تو رہے۔ ہمارا انتظامی ڈھانچہ اپاہج ہو چکا ہے اور اسے گراﺅنڈ زیرو کرکے دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ کام انتہائی دشوار اور نا ممکن ہے۔ عمران خان جس طریقہ سے انتظامی ڈھانچے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ جمہوری طریقہ ہے جو کہ ہمارے نیم خواندہ ملک میں فلاپ طرز حکومت ہے۔ یہاں صدارتی نظام کی اشد اور فی الفور ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت کے کئے گئے بیشر اچھے اور مستحن اقدامات کو ہماری عدالتیں کیسے دھتکار رہی ہیں اور نظام کو بہتر بنانے کی ہر کوشش میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ عدالتوں میں بیٹھے ہوئے جج صاحبان کو عمران خان میں اور نواز شریف اینڈ کمپنی اور زرداری اینڈ کمپنی کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔ حیرانگی کی بات ہے۔ عمران خان ایسا مرد آہن ہے جو اس نظام کے خلاف لڑ رہا ہے اور ان شاءاللہ وہ ضرورت کامیاب ہوگا۔ ہم اس کے دست و بازو ہیں اور رہیں گے۔
سال 2020ءمیں حکومت کا ٹارگٹ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں جو کہ اشد ضروری ہے کیوں کہ غریب عوام پس گئے ہیں اور پھر بھی عمران خان زندہ باد کہہ رہے ہیں اس وقت اپوزیشن کی جماعتیں غیر فعال ہو چکی ہیں ان کی لیڈر شپ آخری سیاسی ہچکیاں لے رہی ہے ان گرتی ہوئی دیواروں کو سب مل کر ایک اور دھکا دیں تاکہ ہمیشہ کے لئے ان کی موروثی سیاست سمندر برد ہو جائے۔ ہمیں مریم صفدر اور بلاول زرداری کی حکومت کبھی بھی قبول نہیں ہوگی۔ ہمیں انسے جڑے ہوئے سرمایہ دار مافیا کو شکست دینی ہے۔ اور ان پٹواریوں اور خوشامدیوں کو ڈوب مرنا چاہئے جو کہتے تھے میاں صاحب کبھی باہر نہیں جائیں گے۔ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں