27

مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کا منطقی انجام

جرنل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملہ میں ہونے والی ہلاکت کے بعد ایران میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ لاکھوں لوگ امریکہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ”مرگ بر امریکہ“ کے نعرہ بلند کرتے رہے۔ نماز جنازہ کے موقع پر بھگدڑ مچ جانے سے پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ ایران کے مذہبی لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ وہ اس موقع پر آبدیدہ بھی ہو گئے اور امریکہ سے جلد بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ قاسم سلیمانی کو اگلے روز کرمان کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ جس وقت جنرل کی آخری رسومات ادا کی جارہی تھیں اسی دوران ایران نے عراق میں امریکہ کے دو ایئر بیسز پر دس سے زائد میزائل داغے۔ جس سے کسی جانی نقصان کی اب تک اطلاع نہیں آئی، حملہ سے پہلے ایران کی حکومت نے عراق کو اطلاع کردی تھی، جس کی وجہ سے وہ تمام علاقہ خالی کروالیا گیا۔ اس طرح ایران نے ایک جری جنرل کا بدلہ لے لیا۔ جس پر دنیا بھر کے میڈیا میں تبصرے ہوئے۔
اگلی صبح امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہماری دو ایئر بیسز پر کل رات میزائل داغے لیکن اس سے ہمارا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بعد ایران بھی خاموش ہو گیا اور امریکہ نے کہا کہ ہم نے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو ہلاک کردیا ہے جو کہ آنے والے دنوں میں ہمارے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا لیکن ہم مشرق وسطیٰ میں کسی قسم کی جنگ نہیں چاہتے اور ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ایران پر مزید پابندیاں بھی عائد کردیں اس طرح امریکہ کا پلڑہ ہر لحاظ سے بھاری رہا۔
باریک بینی سے دیکھا جائے تو ایران اور امریکہ کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف مذکورہ کارروائی کی اور خاموش ہو گئے۔لیکن اس دوران امام خمینی ایئرپورٹ تہران سے اڑنے والا یوکرین ایئر کا بوئنگ 737-800 فلائیٹ 752 جو کہ یوکرین کے شہر کیو جارہا تھا وہ جہاز ٹیک آف کے صرف آٹھ منٹ بعد کریشن ہو گیا جس میں عملے سمیت 176 مسافر سوار تھے۔ تمام لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ ایران میں چل رہی آندھی کے دوران یہ طوفان بن کے چھا گیا۔ تمام دنیا کی نظریں اس کریشن پر بھی لگی ہوئی تھیں۔ جس میں دنیا کے سات مختلف ممالک کے مسافر سوار تھے۔ ان میں معصوم بچے، عورتیں اور مرد تھے۔ ایران نے فوری طور پر حادثہ قرار دیا جب کہ امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ طیارہ کو میزائل مارا گیا ہے جس سے وہ تباہ ہوا ہے۔ تمام دنیا میں کہرام مچا ہوا تھا۔ اگلی صبح سیٹلائیٹ سے جاری کردہ تصاویر میں دیکھا گیا کہ جہاز کو میزائل نے نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد ایرانی حکومت نے اس طیارہ کے حادثہ کی ذمہ داری قبول کرلی اور کہا کہ یہ ”انسانی غلطی“ سے ہوا ہے۔ اس طیارہ کو ٹارگٹ کرکے نہیں مارا گیا۔ ایرانی حکومت نے جاں بحق ہونے والے مسافرں کے ممالک سے معافی مانگی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
لمحہ فکریہ ہے کہ انسانی غلطی سے میزائل چل گیا اور اس سے 176 افراد ہلاک ہو گئے، کیا ایسی انسانی غلطی پہلی دفعہ ہوئی تھی؟ نہیں اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو آپ کو اسی نوعیت کے بہت سارے واقعات ملیں گے۔ کیا ہلاک ہونے والے افراد کی فیملیز کو ان کا متبادل ملا۔ جو بچے یتیم ہو گئے ان کی باپ کا پیار ملا جو بیویاں بیوہ ہو گئیں ان کا کیا ہوا؟ کیا اسی طرح انسانی جانوں کے ساتھ کھیل تماشہ ہوتا رہے گا۔ کیا ترقی یافتہ ممالک ہتھیاروں کی دوڑ میں اسی طرح مالی اور انسانی وسائل جھونکتے رہیں گے۔ کب تک یہ تماشا جاری رہے گا۔ ہر بڑا ملک سپرپاور بننے کے لئے مہلک سے مہلک ہتھیار بنا رہا ہے اور اس کی وجہ ذاتی حفاظت بتائی جاتی ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے آج اگر ہم ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک میں امن و امان کا سیکنڈی نیومن ممالک سے مقابلہ کریں تو وہاں ہتھیار نہیں ہیں لیکن وہ محفوظ ملک ہیں، مکمل فلاحی ریاستیں ہیں، انسانوں پر خرچ کرتی ہیں نہ کہ ہتھیاروں پر اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ممالک میں اندرونی دہشت گردی عروج پر ہے ان کے اپنے شہری غیر محفوظ ہیں۔
امریکہ میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو لے کر شدید ردعمل آیا امریکی میڈیا بھی سراپا احتجاج بنا ہوا تھا اور مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو بعض مبصرین نے تیسری منی عالمی جنگ کی طرف اشارہ قرار دیا جس سے مشرق وسطیٰ میں بالخصوص اور تمام دنیا میں بالعموم اس جنگ کے اثرات جاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران نے جو حکمت عملی اپنائی وہ بہت دانشمندانہ تھی اور پورے خطے کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچا لیا۔ اس میں چین، روس، ترکی اور پاکستان نے سفارت کاری سے اس آگ کو ٹھنڈا کرکے بہت اہم کردار ادا کیا۔
مشرق وسطیٰ کے تنازعہ میں ٹائمنگ بہت اہمیت کی حامل ہے اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک آخری مرحلے میں ہے اس سے دھیان ہٹانے کے لئے اور امریکی عوام کی ہمدردیاں لینے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا جس کے نتیجہ میں قاسم سلیمانی ہلاک ہوا اور اس کے ساتھ 176 معصوم افراد بھی اس کی بھینٹ چڑھ گئے جو کہ بے قصور تھے۔
دوسری اہم بات نومبر 2020ءمیں امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات ہیں۔ جن میں ڈونلڈ ٹرمپ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو لے کر اپنے دور حکومت کی بڑی کامیابیوں میں گنوائے گا۔ اور لوگوں سے ہمدردیاں بٹورے گا۔ انسانی لاشوں پر پاﺅں رکھ کر اقتدار حاصل کرنا کہاں کی انسانیت ہے۔
آج عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ سمیت او آئی سی اور بالخصوص مسلم امہ کو یکجا ہو کر کھڑے ہونے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس وقت اینٹی اسلام تمام قوتیں اکھٹی ہو کر صف آراءہیں ان کو روکنا ہو گا وگرنہ ہمارا کہیں نام نہ ہو گا۔ دین حق کو بچانے کے لئے تمام اسلامی ممالک فروعی اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور یک زبان عالم انسانیت کو پیغام محبت دیں۔ امن کا پیغام دیں، اسی میں سب کی بقاءہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں