90

ضمیر احمد کی ترجمہ نگاری

فنون لطفہ کی وہ شاخ جسے ہم ادب کہتے ہیں دراصل ایک دلنواز مجموعہ ہے مختلف اصناف سخن کا جن میں سے ہرایک اپنے حسن سے گلدستہ ءادب کو خوبصورت تر بناتی ہے۔ اس میں شاعری بھی شامل ہے، افسانہ نگاری بھی، ناول نویسی بھی اور سوانح نگاری بھی۔ کائنات کی ہر حققتک کی طرح ادب بھی ارتقا پذیر ہے اور اس میں بھی تعمیر و تبدیلی اور شکست و ریخت کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہی وجہہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیاکے ہر خطہ اور زبان میں جہاں وقتاً فوقتاً کچھ اصناف ِ سخن متروک ہوجاتی ہیں، وہں جدید اصناف ِ سخن ادب کی نمو میں شریک ہوجاتی ہیں۔
گزشتہ صدی میں جو نئی اصناف خود مختار ادب کے طور پر اپنائی گئیں ان میں تنقید اورترجمہ نگاری بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تنقید اور ترجمہ نگاری ادب کی ابتدا ہی سے ادب کی تفہیم اور ترسیل میں شامل تھے۔ لیکنیہ خود ادیبوں اور شاعروں کے تعصبات ہی تھے جو لکھنے والوں کو ان دو اہم اصناف کی اہمیت کو قبول کرنے سے گریزاں رکھتے تھے۔
ترجمہ نگاری ادب کی وہ اہم شاخ ہے ، جس کہ بغیر کسی بھی زبان اور ادب کا پھیلاﺅ نا ممکن بھی ہے اور اس زبان سے باہر کے ادب کو بھی نا مکمل رکھتاہے۔ ادب کے کائناتی شعور میں وسعت ادب کی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقلی کے بریو نا ممکن ہے
یہ بھی ایک مسلمہ حققت ہے کہ سارے ہی جدید علوم ذہن ِ انسانی سے ذہن ِ انسانی تک ترجمہ نگاری ہی کے ذریعہ منتقل ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی کہ یونانی فلسفہ اور بوطیقا یونانی زبان سے عربی میں منتقل ہونے کے بعد دوبارہ مغربی اور مشرقی زبانوں تک پہنچے،۔ یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ اکثریونانی علوم اپنی اصلی زبان میں اب شایدکہیں بھی نہیں پائے جاتے۔
باکمال ترجمہ نگاروں نے اعلیٰ ادب کو اس طرح اجنبی زبانوں میں منتقل کیا کہ قاری ایک لمحہ کے لیئے بھی یہ محسوس نہ کر پائے کہ وہ اجنبی خیالات اور کسی مختلف ثقافتی اور لسانی دنیا سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
ضمیر احمد صاحب کا شمار بھی ان ہی باکمال ترجمہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو ادب میں صنفِ ترجمہ کو ادب کی مثالی اور امکانی حدوں تک پہنچایا ہے۔ اعلیٰ ادب کی خواہ وہ شاعری ہو یا نثر نگاری ، خوبی اور شرط یہ ہوتی ہے کہ اس میں کوئی بھی حرف اور لفظ اگر اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پورا شیش محل مسمار ہو جائے۔ ہر زبان میںاور خصوصاً ہر زبان کی شاعری میں مثالیہ±جو شاعر اس ہی مشکل مرحلہ سے گزر کر اپنے کلام کو نادر بناتا ہے۔
ضمیر احمد صاحب نے بھی جب صنفِ ترجمہ نگاری کو اپنایاتو ان کو بھی یہ مشکل معیار در پشا تھا۔ انہوں نے دانستہ طور پر عالمی ادب کے ان شہ پاروں اور ان شاہنشاہانِ ادب کی تصانفد کو ترجمہ کے لیئے چنا کہ جنہوں نے اپنے اپنے طور پر شاعری کو اس کی ناممکنہ حدوں تک پہنچا دیا تھا۔ ا ن میں ٹی ایس ایلیٹ سے لے کر ٹیگور، اور مارگرےٹ ایٹ وڈ سے لے کر یہود ا میخائی تک سب ہی شامل ہیں۔
انہوں نے ان عظیم شاعروں کے ترجمہ کرتے وقت کسی بھی لفظ کو غر ضروری جگہ پر نہ استعمال کرنے کی شرط اپنے اوپر عائد کی اور یوں اردو کو بے مثال اور لافانی ترجموں سے مالا مال کردیا۔ جب وہ پابلو نرودا کی نظم کا ترجمہ اس طرح کریں:
آج وہ شب ہے آج ممکن ہے
انتہائی اداس شعر لکھوں
آج لکھوں کہ رات ٹوٹ چکی
دور افق پر ستارے لرزاں ہیں۔۔۔
یا لارڈ ٹینیسن کی نظم ہمیں اس طرح پیش کریں کہ:
ذرا ادھر نظر کرو
کہ جنگلوں میں جب ہوا میں جھولتی ہیں ٹہنیاں
تو ان کی نرم کوکھ سے
رضا کی کیفیت میں میں پھوٹتی ہیں کچی پتیاں
وہ سمٹی لپٹی پتیاں
جو کھل کے بڑھتی ہیں تو اور سبز ہوتی جاتی ہیں
نہ کوئی فکر اور غم
تمازتیں ہیں دھوپ کی جو دن چڑھے
تو شب کو چاندنی میں اوس کے مزے
اوراس کے بعد زرد ہوکے ٹوٹنا ہے شاخ سے
ہوا کے دوش پر بکھر کے لوٹنا ہے خاک پر
ذرا ادھر نظر کرو۔۔۔
تو ہم سے کون سا با ذوق قاری ہے جو ایک ذہنی سرور میں نہ ڈوب جائے۔
ضمیر احمد کے فن کے بارے مںا اردو ادب کی اہم تریں شخصیات جن میں شمس الرحمان فاروقی، گوپی چند نارنگ، انتظارحسین ، ، قمر جمل اوردیگرجید ادیب و نقاد شامل ہیں، اپنی ثقہ اور اہم رائے دے چکے ہےں اور ان کی ترجمہ نگاری کو اعلیٰ ترجمہ نگاری قرار دے چکے ہیں۔
کینیڈا میں بیٹھے ہوئے ہم جیسے کم مایہ لکھنے والے تو اپنی صرف اس ہی خوش قسمتی پر نازاں ہیں کہ ہم نے ضمیر احمد کا زمانہ دیکھا اور ہم ان کے اولین قاریئن میں شامل رہے۔ میں اپنی بات کو رابرٹ فراسٹ کی اہم نظم کے ضمیر صاحب کے کیئے ہوئے ترجمہ کے اےک اقتباس کے ساتھ مکمل کرتا ہوں، میری دانست میں وہی ان کا منصب بھی ہے اور معیار بھی:
کتنی مدت تلک بات یہ جائے گی
میری افسردگی اس کو دہرائے گی
زرد پتوں کے جنگل میں دو راستے
یک بہ یک دو طرف مڑ گئے اور مں !
میں نے جس کو چنا ، عام رستہ نہ تھا
اور یہی زندگی کو نوشتہ ہوا۔
نوٹ۔۔ اب سے قبل اس مضمون کا ایک خلاصہ پیش کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ ضمیر احمد صاحب کا ٹورونٹو میں انتقال ہو گیا۔ سو اب یہ مکمل مضمون پیشِ خدمت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں