60

کینیڈا میں مقیم ممتاز پاکستانی ادبی ترجمہ نگار اور دانشور ضمیر احمد انتقال کر گئے

کینیڈا میں مقیم ممتاز اور منفرد ادبی ترجمہ نگار ضمیر احمد گزشتہ ہفتہ، تقریباً دس سال کی علالت کے بعد ٹورونٹو میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات نے دنیا بھرمیں اردو ادب کے مداحوں نے سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں ٹورونٹو میں میں ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کئی ادبی اور سماجی شخصیات شریک تھیں۔ ترکِ وطن سے قبل ضمیر احمد نے ایک طویل عرصہ تک آڈیٹر جنرل آف پاکستان میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ چند سال صوبہ پختون خواہ کے سکریٹری فائنانس کے عہدہ پر فائز رہے۔ پاکستان کے بعد انہوں نے کئی سال تک نیو یورک میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے میں مشیر کے طور پر تعینات رہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتوں کے ساتھ ان کا ختصاص علمی شاعری کو اردو زبان میں منتقل کرنا تھا۔ انہوں نے جن بین الاقوامی شعرا کے تراجم کیئے وہ اس پہلے عام طور پر نہیں کیئے تھے۔ انہوں نے اس اہم کام پر اپنے ریٹائیرمنٹ کے بعد کینیڈا میں قیام کے بعد زیادہ توجہہ دی۔ ان کے تراجم کے دو مجموعہ شائع ہوئے۔ پہلا مجموعہ،عالمی ادب سے خوبصورت نظموں کے ترجمے کے عنوان سے انجمن ترقی ادب کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔ ضمیر صاحب کو قلق تھا کہ انجمن اس ترجمہ کی مناسب تبلیغ نہیں کر سکی۔ اس کے کینیڈا کی فعال ادبی انجمن رائٹرز فورم کے مشورے پر انہوں نے پاکستان کے ممتاز دانشور اور پبلشر ، ڈاکٹر آصف اسلم فرخی کے ادارے شہرزاد کے زیرِ اہتما م، دوسرو ں کی شاعری کے عنوان سے شائع ہوا۔ اردو ادب کے قاریئن اور ممتاز نقادوں نے ان کے تراجم کو سراہا اور ستائش کی۔ قاریئن ان کے ترجمہ کردہ بین الاقوامی شعرا کی مختصر فہرست اس خبر سے منسلک تصویر میں ملاحذہ کر سکتے ہیں۔کینیڈا میں مقیم مختلف ادبی کارکنوں کی خواہش ہے ان کا تیسرا مجموعہ، پسِ مرگ ان کے خاندان کی اجازت سے شاع کیا جائے۔ یہ اردو ادب اک اہم سرمایہ ہے۔۔ ضمیر احمد کے پسماندگان میں ان کی بیٹیاں تزیئن اور صبا، اور صاحبزادے فوزی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں