Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 91

آج اتنی بھی میّسر نہیں۔۔۔

افغانستان میں بیس سال پہلے دو قسم کی نسلوں نے ایک ساتھ جنم لیا۔ان نئے جنم لینے والوں کے ساتھ ساتھ وہ بچّے جو اس وقت پانچ یا آٹھ سال تک کی عمر کے تھے ان سب نے مختلف طرز زندگی میں پرورش پائی ان میں ایک نسل تو وہ ہے جس کو امریکہ کی قائم کر دہ حکومت کی سربراہی میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسّر آئے جس میں مغربی تعلیم کا خاصہ اثر تھا ۔دوسری طرف وہ بچّے تھے جو طالبان کے ساتھ یا طالبان کے ہم خیال چھوٹے چھوٹے علاقوں میں پرورش اور طالبانی تعلیم حاصل کررہے تھے جو مدرسوں میں دی جاتی تھی آج یہ دونوں نسلیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں اور شائید ان دونوں کے درمیان سمجھوتا ناممکن ہو۔اب یہ طالبان کے رویّے پر منحصر ہے کہ وہ پرانی طالبانی طرز حکومت میں کیا تبدیلیاں لاکر نئی حکومت بناتے ہیں لیکن ایک بات تو طے ہے کہ بے شمار تعلیم یافتہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی نئی حکومت میں گنجائش نکلنا بہت مشکل ہے۔
بقول فرانسیسی صدر کے افغانستان میں وہ لوگ جنہوں نے جدید تعلیم آرٹ صحافت اور دوسرے ایسے شعبوں میں حاصل کی جن کے لئے طالبانی حکومت میں کوئی گنجائش نہیں ان کو سیاسی پناہ دی جائے گی مطلب یہ کہ افغانستان کی بیس سالہ تعلیمی کریم مغرب کے پاس ہی جائے گی۔بے شمار لوگوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں اوپیم کی کاشت اور پہاڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے جبکہ وہاں 1400 معدنیات سے بھرے ایسے علاقے ہیں جہاں سونے کے علاوہ کئی بیش قیمت دھاتیں ، قدرتی گیس ،تیل اور قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بیس سالوں میں وہاں قابض لوگوں نے اس سے فائدہ نا اٹھایا ہو۔ طالبان کا دوبارہ افغانستان پر قبضہ ہونا نا تو اچانک بغیر کسی اعلان کے ہوا ہے اور نا ہی کوئی حیران کن یا اچنبھے کی بات ہے کیونکہ یہ سب تو ایک معاہدے کے مطابق پہلے سے طے شدہ تھا۔یہ ہنگامہ یہ ائیرپورٹ پر بھاگ دوڑ یہ سب حیران کن ضرور ہے۔یہاں سے جانے کا معاہدہ تو ڈیڑھ سال پہلے ہوا تھا 29 فروری 2020 کو امریکہ اور طالبان کے درمیان دوہا قطر میں معاہدہ ہوا جسے ۔افغانستان میں امن کا معاہدہ ۔کا نام دیا گیا اس معاہدے کے تحت امریکی اور ان کی اتحادی افواج اور وہ تمام غیر ملکی جو مختلف شعبوں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں 31 اگست 2021 تک افغانستان چھوڑ دیں گے ظاہر ہے اس کے بعد طالبان ہی نے تو آنا تھا وہ زرا پہلے آگئے ۔اس معاہدے کی کچھ تفصیلات تو سامنے آگئی ہیں لیکن اندرونی اور کیا معاہدے ہوئے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔بہرحال ڈیڑھ سال کا عرصہ تھا اور یہ لوگ افغانستان میں ہی رہے۔
آخر کس بات کا انتظار کررہے تھے وہاں سے پہلے ہی کیوں نا نکل گئے طالبان کے آتے ہی سب نے ائیرپورٹ کی طرف دوڑ لگادی اور رونا پیٹنا شروع کردیا یہ ڈرامے بازی کیوں۔فی الحال تو افغانستان میں طالبان کی حکومت دوبارہ قائم ہوگئی ہے۔ امریکی صدر بائیڈن کا یہ بیان کہ افغانی فوج لڑنے کو تیار نہیں ہے تو ہم کیوں لڑیں نہایت ہی بچکانہ اور مضحکہ خیز ہے کیونکہ بیس سال امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مجاہدین سے لڑتا رہا تو کیا یہ سب افغان فوج کی طاقت کی وجہ سے تھا۔جنوری 2009 میں بائیڈن نے جو اس وقت امریکہ کے نائب صدر تھے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں پر ہمارے حملے جاری رہیں گے اور مجاہدین کے تعاقب میں پاکستان میں بھی ڈرون حملے کریں گے اس وقت تو افغان فوج کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تو اب صدر بننے کے بعد یہ بیان کیا معنی رکھتا ہے۔یہ لڑائی تو امریکہ ہی نے شروع کی تھی۔بہرحال آج کے حالات جانچنے کے لئے ماضی کے حالات دہرانا ضروری ہے۔افغانستان سے روس کے انخلائ کے بعد امریکہ اور سعودی عرب آنکھیں بند کرکے افغانستان کو بے یا ر و مددگار چھوڑکرچلے گئے۔ اس میں پاکستان سے بھی مدد لی گئی تھی لیکن اس جنگ سے پاکستان کے معاشی یا داخلی حالات پر کوئی اثر نا پڑا۔لیکن افغانستان میں مجاہدین مختلف گروپس میں بٹ گئے کیونکہ امریکی اور سعودی امداد بند ہوچکی تھی حالات دگرگوں ہوگئے خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی دہشت گردی اور بم دھماکے معمول بن گئے تمام گروپس اقتدار کے لئے آپس میں لڑ رہے تھے۔ اس خانہ جنگی میں گل بدین حکمت یار کا بھی بڑا عمل دخل تھا اگست 1992 میں ایک دن کے راکٹ حملوں سے کابل میں 1800 افراد ہلاک ہوئے۔بے نظمی ،لوٹ مار اور قتل و غارت گری روز کا معمول بن چکا تھا۔بہت زیادہ حالات بگڑجانے کے بعد ملاّ محمد عمر اپنے علاقے سے نکلے اور انہوں نے مدرسے کے طالب علموں کو جمع کرنا شروع کیا ان کو افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا احساس دلایا۔
تحریک اسلامی طالبان کی بنیاد ڈالی یہ لوگ قصبوں قصبوں گاوں گاوں مدرسوں میں گئے اور طالب علموں کو جمع کیا کیونکہ ان کی تحریک نیک نیتی اور خلوص پر مبنی تھی ۔ لہذا کامیابی حاصل کی اور افغانستان پر ان کی حکومت قائم ہوگئی۔ان کی حکومت 1995 سے 2001 چھ سال تک قائم رہی اور اس دوران انہوں نے بے شمار تعمیری اور اصلاحی کام کئے۔ اس عرصے میں انہوں نے مکمل اسلامی شرعی نظام قائم کیا۔ لیکن آج کل کے دور میں بے شمار انسانوں کے لئے یہ شرعی نظام افسوسناک حد تک قابل قبول نہیں ہے کیونکہ نا صرف غیر مسلم بلکہ زیادہ تر مسلمانوں نے اپنے طرز زندگی کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے وہ اسے چھوڑنہیں سکتے نہیں تو مرجائیں گے۔لڑائی جھگڑے ،چھینا جھپٹی ،مقابلہ بازی ،دکھاوہ ما دّی اشیائ کے حصول کے لئے کسی حد تک گرجانا ان تمام باتوں کو چھوڑنا آج کے انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔لہذا اس اسلامی شرعی نظام کو جدید تعلیم سے آراستہ افغانی اور مغرب کی پیروی کرنے والوں نے قبول نا کیا اسی طرح امریکہ سمیت دوسری غیر اسلامی اور بہت سی اسلامی ریاستوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا بے شمار لوگ افغانستان سے فرار ہوکر امریکہ اور یوروپ میں سیاسی پناہ لے رہے تھے۔اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے افغانستان کو طالبان سے آزاد کرانے کے لئے جدو جہد شروع کردی سی آئی اے سے رابطے کئے امریکی کانگریس کے نمائندوں اور سینیٹرز کو قائل کرتے رہے کہ طالبان کی حکومت گرانے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور پھر نائن الیون والے واقعے نے امریکہ اور یوروپ کو یہ موقع فراہم کردیا کہ وہ طالبان کی حکومت گراکر اپنی من پسند حکومت قائم کردیں۔بیس سال کی زور آزمائی کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان دوبارہ طالبان کے حوالے کرنا پڑا لیکن اندرونی کہانی کیا ہے کسی کو نہیں معلوم اور بہرحال اس وقت افغانستان کے حالات بہت کشیدہ اور خطرناک ہیں۔
اگلے کچھ دنوں میں کیا ہونے جارہا ہے کسی کو معلوم نہیں ہے۔اپنے فوجیوں اور شہریوں کی حفاظت کرنا اس وقت نا امریکہ اور نا ہی کسی یوروپی ملک کے بس میں ہے۔ائیرپورٹ پر اتنے افراد ہلاک ہوئے اور کوئی کچھ نا کرسکا دھمکی آمیز بیانات اور کچھ نہیں اب تو یہ صورت حال ہے کہ
آج اتنی بھی میسّر نہیں مے خانے میں
جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں