ڈائناسور حاکم 79

آخری تقریب

ہماری گلی میں جیسے ہی ایک مخصوص کار داخل ہوتی تھی ہم سب گھر والے بڑے والہانہ انداز میں ان گاڑی والوں کے استقبال کے لئے تیار کھڑے ہو جاتے۔ اس گاڑی میں سے ہمارے خالو اپنے سب بچوں کے ساتھ جب اتر کر گھر میں داخل ہوتے تھے تو ان کے ہاتھوں میں مختلف طرح کے تحائف کے ساتھ ساتھ ان کی زمینوں اور باغوں کی سوغات بھی شامل ہوتیں، جس میں زیادہ تر سندھ اور سرائیکی علاقوں کے مختلف نوعیت کے بے تحاشہ شہد جیسے میٹھے اور خوشبو دار آم بھی شامل ہوتے۔ ہمارے خالو حاجی فرید الدین صدیقی کا شمار حیدرآباد کے بڑے تجارتی افراد میں ہوتا تھا۔

اللہ نے انہیں جتنے وسائل سے نوازا اس کا بیشتر حصہ اپنے متعلقین میں تقسیم کردیتے۔ ان متعلقین میں سب سے پہلے ان کے چھ بھائیوں کے ساتھ ساتھ اکلوتی بہنیں بھی شامل تھیں۔ آج بھی لطیف آباد نمبر آٹھ میں دور سے نظر آنے والے ان خاندان والوں کی کوٹھیاں اہل علاقوں کے لوگوں کی شناخت کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ خالو اس وقت ہمارے گھر تشریف لاتے تھے جب ان کے گھر میں کوئی تقریب ہو یا تہوار عید بقرعید رمضان وغیرہ ہو، لیکن ایک تقریب خاص طور پر ہمیں یاد رہتی تھی جس کا ہم تمام بچے شدت سے انتظار کرتے تھے۔

وہ تقریب ان کے بڑے صاحبزادے خالو فرید کی سالگرہ کی تقریب ہوتی تھی جو ہر سال بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی تھی جس کے لئے مہمان دوسرے شہروں سے ہفتوں پہلے ان کے گھر آکر قیام پذیر ہو جاتے۔ جس میں ہم سمیت خاندان کے سب بڑے چھوٹے جوق در جوق شریک ہوتے۔ خالد فرید کی سالگرہ کی تقریب میں خاندان کے تمام بچوں میں الگ الگ جوش و خروش پیدا ہوتا تھا۔ بڑوں کے لئے آپس میں مل بیٹھنے کے ساتھ دور دراز کے رشتہ داروں کی آمد سے برسوں بعد سب ایک دوسرے کا ملاقات کا ذریعہ بن جاتے۔ خالد بھائی کی سالگرہ کی تقریب برسوں بعد مل بیٹھنے کا ذریعہ تھی، جشن کا یہ سماءاطراف کے تمام گھروں میں یکساں منایا جاتا۔ تمام بھائیوں کے گھروں پر ایک طرح کا چراغاں شروع ہو جاتا۔ ان کی خود کی کوٹھی کو مختلف برقی قمقموں سے سجا کر جگمگایا جاتا، لگتا کہ خالد بھائی کی سالگرہ نہیں بلکہ شادی کی تقریب منعقد کی جارہی ہے اور ہوا بھی یوں اس ہی طرح کی ایک بہت بڑی تقریب کا انعقاد خالد فرید کی شادی کے موقع پر کیا گیا۔

اس تقریب میں شہر سے اور بیرون علاقوں سے رشتہ داروں دوستوں کے خاندان جوق در جوق شریک ہونے کے لئے ان کے حویلی نما گھر میں آن بستے۔ کوٹھی کے ساتھ کے تمام مکانات کو بھی اس ہی طرح سجانے کے لئے شہر کے بہترین کاریگروں کو بلایا جاتا جو پورے علاقے کو بقہ نور بنا دیتے۔ علاقے کے بہترین کھانا پکانے والوں کو گھر کے پچھلے حصے میں پکوان بنانے کے لئے بھی ہفتوں پہلے بلوایا جاتا جہاں سے ہر دور کے نئے نئے ذائقہ والے پکوان آنے والے اور رہائش پذیر افراد کے ساتھ ساتھ اطراف کے لوگوں میں بلا امتیاز پہنچایا جاتا تھا۔ خالد بھائی خود بھی ہر ایک کی آنکھوں کا تارا بن کر سب کی دل جوئی میں لگے رہتے۔ خوشی کے گھر میں نئے نئے پروگرام سجائے جاتے۔ سب لوگ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، یوں محسوس ہوتا تھا اس گھر میں سب ہی اپنے قریب ترین چاہنے والے سے محبت کا اظہار کرنے کے مقابلے میں شریک ہوں۔ حاجی فرید صدیقی اپنی بیگم افسر جہاں کے ساتھ تمام مہمانوں کے ساتھ ذاتی طور پر اس جشن کو پروقار بنانے میں ہمہ تن مصروف رہتے اور خالد بھائی بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ساتھ ان کاموں میں شریک ہو کر مہمانوں کی آﺅ بھگت میں بغیر کس تھکان کے دن رات لگا دیتے تھے۔

خالد بھائی انتھک انسان تھے ان کو کبھی تھکتے نہیں دیکھا۔ حاجی فرید صدیقی کی وراثت اور والدہ کی تربیت نے ان کو ایسا انسان بنا دیا تھا کہ وہ کسی بھی دور دراز کے دوست یا رشتہ دار کی ہر تقریب میں بڑھ چڑھ کر اسے حصہ لیتے تھے جسے وہ خود ان کی تقریب ہو۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ پیدا ہی تقریبات سجانے کے لئے ہوتے تھے۔ چاہے وہ اپنے گھر کی ہو یا قریبی عزیز کی ہو۔ امریکہ کے شہر نیوجرسی منتقل ہونے کے باوجود وہ پاکستان میں کسی بھی تقریب میں شریک ہونے سے گریز نہیں کرتے تھے اور یہ ہی حال امریکہ میں تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ پیدا ہی تقریبات سجانے کے لئے ہی ہوئے ہیں۔

اس طرح وہ ایک وقت میں امریکہ کے شہر نیو جرسی میں بیٹھ کر دنیا بھر میں رہنے والے تمام دوستوں عزیز رشتہ داروں سے براہ راست ان کے معاملات میں مسلسل شریک رہتے یا پھر وہ حیدرآباد کی آبائی کوٹھی میں رہ کر وہ ہی تمام امور انجام دیتے۔ ان کی مصروفیات اپنے پرائے رشتہ داروں دوستوں اطراف کے لوگوں کی دل جوئی میں بسر ہوتیں۔ وہ بزرگوں کے ساتھ بڑے بن کر بڑے بڑے فیصلوں میں شریک ہوتے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان تمام مصروفیات کا لازمی جڑ جاتے۔ چھوٹوں کے ساتھ ان ہی کی طرح کے کسی کھیل کود میں مگن ہو جاتے۔

وہ جس جگہ جاتے اپنا رنگ جما لیتے۔ چاہے وہ بڑوں کی سنجیدہ محفل ہو، یا ساتھیوں کی محفل یا چھوٹوں کی تقریب، ہر جگہ وہ موجود ہوتے، سب کے رنگ میں رنگ جاتے، پھر یکدم کیا سمائی، نیو جرسی سے حیدرآباد کی کوٹھی میں محفلیں سجاتے، تقریبات منعقد کرتے کرتے قریبی قبرستان میں اپنے بزرگوں، دادی، نانی، والدہ، والد اور دوسرے بزرگوں کی قبروں کے ساتھ شامل ہو کر آخری تقریب میں شریک ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں