دیکھتا جا ، شرماتا جا۔۔۔ مگر کیا؟ 49

آزادی بمقابلہ غلامی

عمران خان پاکستان کے سنہرے مستقبل کا ایک درخشاں ستارہ۔ ایک دلکش اور پرامید خواب۔ پاکستان کی قومی غیرت کے بیداری، خودداری کے روح رواں عمران خان کا 25 مئی کا لانگ مارچ تو حکومت نے بالخصوص اور ان کے سرپرست عالمی طاقتوں کو بالعموم ہر حال میں ناکام بنانا تھا جس کے لئے طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا، اداروں کی غیر جانبداری نے انہیں حکومت وقت کا سرپرست اور ماسٹر مائنڈ ثابت کرلیا۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود عمران خان کا ابھی تک اپنے ورکروں کے درمیان موجود رہنا بھی کسی معجزے سے کم نہیں، ورنہ وقت کے فرعونوں سے ٹکرانے والوں کا انجام کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اس لئے عمران خان کا ابھی غیر متزلزل ہو کر اپنی تحریک کو آگے بڑھانا اور ملک کی بکھری عوام کو متحد کرکے ایک قوم بنانے کا عمل قابل ستائش ہے۔ یہ عمل ملک کے ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے، جس کی زندہ مثال ایران کے ایک قوم ہونے سے ہی امریکی سامراج کے سب سے بڑے پٹھو شاہ ایران کو اکھیڑ کر ملک سے بھگانا ہے، اس لئے عمران خان کے پاکستانی عوام کو ایک قوم بنانے کے عمل ملک کے میر جعفروں اور میر صادقوں کے ساتھ اداروں کی راتوں کی نیندیں بھی حرام کردی ہے کیونکہ پاکستانی ایک قوم بن جانے سے ہی احتساب کا عمل شروع ہو جائے گا اور اس کے بعد ملک میں وائس رائے بن کر لوٹ مار کرنے والے ان سیاستدانوں کو سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ نہیں مل سکے گی۔ یہ ہی حال ان اداروں کا بھی ہوگا جو اس وقت غیر جانبداری کا لبادہ اوڑھ کر خاموشی سے کھیل دیکھ رہے ہیں، اگر غور سے جائزہ لیا جائے تو یہ غیر جانبداری کی کوئی حقیقت نہیں اس کی وضاحت یا تشریح نہیں کی جا سکتی ہے، کوئی شے یا تو اچھی ہو سکتی ہے، یا بری، سچ ہو سکتا ہے یا پھر جھوٹ، اسی طرح سے امیر یا غریب اس کے درمیان کچھ نہیں ہوتا ہے یا تو کوئی اچھا ہو سکتا ہے یا برا۔۔۔
خیر بات عمران خان کے فلسفہ خودداری اور قومی غیرت اور ملک کو غلام بنانے والے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی ہو رہی ہے، 25 مئی کا عمران خان کا جو لانگ مارچ یا دھرنے کو جس ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کچلا گیا، ناکام بنایا گیا، اسے دیکھ کر تو کوئی اندھا ہی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بیساکھیوں پر کھڑی یہ حکومت اور اس کا وزیر داخلہ اس حد تک نہیں جا سکتا تھا جب تک اسے اداروں کی مکمل پشت پناہی حاصل نہ ہو یا پھر اداروں کی جانب سے اسے تھپکیاں نہ ملی ہو، وہ اتنا بڑا قدم یا دوسرے معنوں میں اتنا بڑا رسک لے ہی نہیں سکتا تھا جو وحشیانہ ظلم و بربریت اور آنسو گیس کی جو بارش کی گئی جس نے مارشل لاءکے مظالم بھی پیچھے چھوڑ دیئے، ایسے لگ رہا تھا کہ ادارے والوں نے اپنے یونیفارم اتار کر پولیس کی وردیاں پہن لی ہوں، یہ تاثر پورے ملک میں پھیل گیا خود سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا بھی کہنا ہے بغیر سرپرستی کے محض مونچھوں کو تاﺅ دینے سے یہ کام ہونا ممکن نہیں تھا، ویسے 25 مئی کو جو کچھ بھی ہوا یا جو کچھ بھی کیا گیا وہ پاکستانی معاشرے کے لئے اچھا نہیں ہوا بلکہ وہ واقعات ہمارے معاشرے کو پوری طرح سے جنگل کا معاشرہ ثابت کررہے ہیں یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس، جنگل کا قانون۔۔۔
25 مئی کو پاکستان میں جمہوریت اور انصاف و قانون کی ہار اور غنڈہ گردی قانون کو قدموں کی ٹھوکر بنانے والوں کی جیت ہوئی ہے، دہشت گردی اور غنڈہ گردی کی کھل کر مارکیٹنگ کی گئی، پاکستان کی محب الوطن اور قانون پسندوں کا خود انصاف پر سے اعتبار اور بھروسہ اٹھ گیا۔ حقیقی آزادی کی تحریک چلانے والے محب الوطنوں کے ساتھ جس طرح سے جانوروں والا سلوک کیا گیا، اس سے پوری دنیا میں پاکستان اس کے اداروں اور جمہوریت کی خوب جگ ہنسائی ہوئی ہے، ملک میں اچھے اور برے کے ساتھ حب الوطنوں اور ملک دشمنوں کے فرق کو مٹا کر ملک کے اصلی دشمنوں کے لئے ایک طرح سے راہیں ہموار کی گئی ہیں، اس پر ملک کے سلامتی کے اداروں کو ضرور غور کرنا چاہئے کہ وہ کس سمت میں چل پڑے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں