”لہو پکارے گا آستیں کا“ 168

آزاد کشمیر اور انتخابات

آزاد کشمیر نے اپنی تاریخ برقرار رکھتے ہوئے ایک دفعہ پھر وفاق میں حکومت کرنے والی جماعت کو کشمیر کی باگ ڈور سونپ دی ہے۔ تحریک انصاف اکثریت لے کر کامیاب جماعت قرار پائی ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج نے تحریک انصاف کو ایک مضبوط اور مستحکم مقام پر لاکھڑا کیا ہے اس وقت وہ اس حیثیت میں ہے کہ اتحادی کے بغیر اپنی حکومت قائم کرسکے۔ تحریک انصاف نے 26، پیپلزپارٹی نے 11 اور ن لیگ جو یہاں کی حکمران جماعت ہے صرف 6 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ کچھ آزاد ممبران بھی ہیں جو فیصلہ کریں گے کہ انہیں کس جماعت میں شامل ہونا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جہاں آزاد کشمیر کے مسائل پر دل کھول کر بات کی گئی وہیں ایک دوسرے پر جارحانہ تنقید کے سلسلے بھی جاری رہے۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ تحریک انصاف اس سے کچھ زیادہ نشستیں حاصل کرسکتی تھی اگر علی امین گنڈاپور کچھ زیادہ جذباتیت سے کام نہ لیتے اور تہذیب کا دائرہ قائم رکھتے۔ حسب معمول ہارنے والوں کی طرف سے دھاندلی کا شور شروع ہو گیا ہے مگر یہ تو اب پاکستانی سیاست کا لازمی حصہ بنتا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن پربھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں مگر اس ہنگامہ کے باوجود شور کرنے والی جماعیں اب بھی انتخابی اصلاحات پر مل بیٹھنے کو تیار نہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن میں اس وقت جس حکمت عملی اور طرز عمل سے کام لیا ہے اس نے اسے آزاد کشمیر میں پاﺅں جمانے میں بھرپور مدد دی ہے۔ بلاول بھٹو اور کچھ آصفہ بھٹو نے یہ مہم چلائی۔ پی پی پی کے اندرونی حلقوں میں ہمیشہ اداروں کے خلاف جارحانہ بیانیوں پر تحفظات رہے ہیں اس وقت خاص طور پر پیپلزپارٹی نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ مخاصمت کی سیاست اثر انگیز نہیں ہوگی اور انہوں نے اپنے بیانات میں نمایاں طور پر تبدیلی کی۔ اگر دیکھا جائے تو پی ڈی ایم سے دوری بھی اسی حکمت عملی کا حصہ رہی۔ اسی لئے انتخابی مہم کے دوران جہاں موجودہ حکومت پر حملے کئے گئے وہیں پیپلزپارٹی نے کشمیر کے مسائل پر بھی بات کی۔ کشمیریوں کو اس کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کی آزادی کی جدوجہد میں پاکستانی حکومت کی تائید کے ساتھ پاکستانی فوج اور اداروں کا بھی ایک اہم کردار رہے گا۔ پی پی پی نے کشمیریوں کے ان احساسات کو بھرپور طریقے سے آزمایا اور اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اس الیکشن کے بعد 2023ءکے انتخابات کی تیاری پی پی پی نے شروع کردی ہے۔
آزاد کشمیریوں کے لئے عمران خان کی جانب سے ریفرنڈم کا اعلان ایک انتہائی مضبوط اور ہمت بڑھانے کے مترادف خبر تھی، کشمیریوں نے اس وقت عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان نے بھی کئی وعدے اس وقت کئے ہیں امید ہے وہ ان کی پاسداری کریں گے ورنہ ابھی تک اس سلسلے میں ان کی حکومت کا ٹریک ریکارڈ کوئی بہت اچھا نہیں ہے۔ عمران خان نے کشمیر کے مسئلہ کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا ہے اور اسے موضوع بحث بنایا ہے، جس کا اعتراف مقبوضہ اور آزاد کشمیر دونوں جگہوں سے بارہا کیا گیا ہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں جب ایک دوسرے کھاتے کھولتی ہیں تو اس امر کو مکمل نظرانداز کر دیتی ہیں کہ اس کے اثرات ان سے متعلق گروہوں پر کیا ہوں گے۔ کشمیری جب پاکستانیوں سے ایک دوسرے کے بارے میں کشمیر فروشی اور ہندوستانی ایجنٹ ہونے کے بیان سنتے ہیں تو مایوسی کی انتہائی منزلوں سے گزرتے ہیں۔ پاکستان اور کشمیر کا ہمیشہ سے ایک انتہائی ہمدردانہ اور مخلصانہ تعلق رہا ہے۔ کشمیری اس تعلق کو انتہائی مربیانہ طور پر دیکھتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اور سیاستدان ان کے لئے مخلص ہیں یہ منفی بیان بازیاں معاملات اور حالات کو پیچیدہ بناتی ہیں اور کشمیریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ آیا وہ اپنے مسائل کے لئے پاکستان کی طرف دیکھنے میں حق بجانب ہیں کہ نہیں اور یہیو جہ ہے کہ کشمیریوں نے معمول سے ہٹ کر سوچ بچار کرکے فیصلے لینے شروع کئے ہیں اس وقت تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کو ووٹ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کشمیری نئے راستوں اور نئے چہروں کی طرف دیکھ رہے ہیں، نئی امیدیں لگا رہے ہیں۔
اس الیکشن میں ن لیگ کو جو حکومت وقت ہے ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ن لیگ کی مہم کو مریم نواز نے اپنے انداز میں چلایا اور بمشکل 6 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ن لیگ کے صدر شہباز شریف حیران کن طور پر اس پورے عمل سے لاتعلق رہے، مریم نواز کی تقریریں صرف اور صرف پاکستانی اداروں اور عمران خان پر مرکوز رہیں انہوں نے کشمیریوں کے کسی بھی مسئلہ پر کسی قسم کے بیان سے اجتناب برتا۔ ن لیگ کے ان جارحانہ تسلسل وار بیانات نے ہی اسے شکست سے دوچار کیا ہے۔ کشمیریوں نے پچھلے پانچ سال کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ فوجی اداروں پر نکتہ چینی کو بھی مسترد کیا ہے۔ حال ہی میں لندن میں ہونے والی نواز شریف اور افغان نمائندے حمداللہ محب کی ملاقات کے چرچوں نے بھی کشمیریوں کو تذبذب کا شکار کیا۔ پنجاب میں ہونے والی 9 کشمیری نشستوں پر بھی ن لیگ صرف دو نشستیں حاصل کرسکی باقی 7 تحریک انصاف کے حصہ میں آئیں۔ ن لیگ کے وہ ارکان جو سیاست سے عرصہ سے منسلک ہیں اور جو اپنے کو ”مسلم لیگ“ کا حصہ مانتے ہیں وہ ”ن لیگ“ کے اس طرز عمل پر اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی صورتحال پر یقینی طور پر تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ لیگی کارکن جس پر ن لیگ انتہائی تکیہ کئے ہوئے ہے اس وقت بددلی کا شکار نظر آئے گا۔نواز لیگ کے صدر شہباز شریف اس وقت بے اختیار نظر آتے ہیں ان کی مفاہمت کے نظریات ن لیگ کے بعض حلقوں کے نزدیک ایک طرح سے ناکامی کا اعتراف کے علاوہ کچھ نہیں۔ حمداللہ محب نے نواز شریف کی ملاقات کے بعد پاکستانی فوج کے خلاف علی الاعلان بیان دیدیا ہے کہ تمام پاکستانی فوج امن کو خراب کرنے میں کردار ادا کررہی ہے۔ حکومت پاکستان کو ایسے بیانات کی تہہ تک جانا چاہئے۔ پنجاب کے نگرانوں کی اکثریت کسی نہ کسی طور پر فوج سے منسلک رہی ہے، جوان بیٹوں اور شوہروں کی قربانی تقریباً پنجاب کے ہر خاندان کا حصہ رہی ہیں، ن لیگ اگر عوام کے احساسات کا لحاظ اور عزت نہیں کرے گی تو آئندہ انتخابات میں اسے شاید اس سے بھی سخت ردعمل کا سامنا پڑے گا۔
آزاد کشمیر کے انتخابات نے پاکستانی سیاست کے آنے والے وقت کے کافی عکس نمایاں کردیئے ہیں۔ تحریک انصاف اب سندھ کی طرف پرتول رہی ہے۔ نا اہلی اور کٹھ پتلی کی گردان دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ وفاقی حکومت اب شاید اتنی مستحکم محسوس کررہی ہے کہ مخالفین سے نبردآزما ہونے کے لئے کچھ لو اور کچھ دو کے راستے کھولتی نظر آرہی ہے۔ 2023ءزیادہ دور نہیں ہے، مہنگائی کے مسائل ویسے ہی کھڑے ہیں، لوڈشیڈنگ چل رہی ہے، دوائیاں نایاب ہیں، عام انتخابات میں عوام کا مزاج یکسر مختلف ہوتا ہے وہ اپنے حلقوں میں سوال اٹھاتے ہیں، یہ ضرور ہے کہ عمران خان نے سیاسی آگہی عوام الناس میں پیدا کی ہے وہ اب صرف جذباتی اور کھوکھلے نعروں پر ووٹ نہیں دیں گے۔ اور اب یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے طور پر کس کو میدان میں اتارتی ہے۔ کیا یہاں بھی پنجاب والا فارمولا آزمایا جائے گا۔ عمران خان کے لئے ایک یقینی طور پر سخت امتحان ہے وہ تعیناتیوں کے سلسلے میں بہت کامیاب نہیں رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر تھوڑے دنوں پر وفاقی اور صوبائی کابینہ میں ردوبدل کا سلسلہ لگا رہتا ہے۔ کشمیر تحریک انصاف کے تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس سے متعلق پالیسیوں پر عمران خان اور ان کے مشیروں کو انتہائی زیرک مزاج رکھنا ہوگا۔ پوری دنیا میں مقیم کشمیری ان فیصلوں کی زد میں آئیں گے۔ عمران خان کا ہندوستانی حکومت سے کشمیریوں کے متعلق رویہ مقبوضہ کشمیر کے لئے حوصلہ افزاءہونے کی تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے جلسوں میں جس طرح مقبوضہ کشمیری لیڈروں کو مخاطب کیا ہے اس نے امیدیں کرتے وقت حریک انصاف کو ان تمام پہلوﺅں پو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اختیار ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں