23 صدارتی تمغہءحسنِ کارکردگی یافتہ ڈرامہ نویس خواجہ معین الدین 22

آہ۔۔۔ بے چاری قومی زبان اُردو

پچھلے کچھ عشروں سے عالمی اُردو کانفرنسوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ان میں بھارت سمیت دنیا بھر سے معروف دانشور، محقق، شاعر اور ادیب شرکت کرتے ہیں۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ پاکستان میں ہونے والی ان یا ان جیسی تمام کانفرنسوں میں مرکزیت ”اردو زبان“ کو حاصل ہے جو خود پاکستان میں برے حال میں ہے۔ غیر ملکی شرکاءدل میں تو سوچتے ہی ہوں گے کہ ان کے ہاں تو ان ہی کے ممالک کی زبان نافذ ہے تاہم پھر بھی یہ مہمان گرامی اردو زبان سے جڑے ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں آخر اب تک اردو قومی زبان کیوں نہ بن سکی؟ اس شرم ناک صورت حال کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود حکومت پاکستان ہے۔ کسی کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ سرکاری خط و کتابت اردو میں کرنے اور مقابلے کا تحریری اور زبانی امتحان اردو میں لینے کا انتظام کرے۔ اس پر حکومتی وکیل نے 60 دن کی مہلت مانگی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں ہوا!! یہ ہے تو سخت بات لیکن حقیقت ہے کہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت پاکستان خود ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ہے کیا؟
نوکر شاہی اور قومی اسمبلی کے ممبران حکومت کہلاتے ہیں۔ یہ دونوں کبھی اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دینے دیں گے۔ سوال ہے کہ کیوں؟ جواب بہت آسان ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی حکومتی اعلیٰ عہدوں پر اپنی، اپنی اولادوں اور رشتہ داروں کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے براجمان رہنے کو خطرہ درپیش ہو جائے گا۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ اس طرح عوام بھی بڑی تعداد میں اعلیٰ افسران بن سکیں گے۔ مٹھی بھر نام نہاد شرفاءجو جاگیرداروں کے لئے انگریزوں کے بنائے ہوئے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر آتے ہیں اور مقابلے کے امتحانات انگریزی میں لئے جانے کی وجہ سے پاکستان کے حاکم بن جاتے ہیں ان کی ٹھیکیداری ختم ہو جائے گی۔ موجودہ افسر شاہی اور اسمبلی ممبران ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بالکل آسان سا سچ ہے۔
1947ءمیں آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد بھارت میں جاگیرداری نظام ختم کردیا گیا اور پاکستان میں۔۔۔؟ پاکستان میں یہ پورے کروفر سے اب تک جاری ہے۔ کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ جاگیردار اسمبلی ممبران، اسمبلی میں جاگیرداری سسٹم کے خلاف قانون سازی کریں؟ قطعاً نہیں!! یہ ناممکنات میں سے ہے لہذا ہمارے ملک میں اشرافیہ برانڈ جمہوریت میں جب تک اسمبلیوں میں جاگیردار اکثریت میں ہیں تب تک اردو کے نفاذ کا قانون کبھی بھی پاس نہیں ہوگا جو ایسا سوچتا ہے وہ افسانوی دنیا میں رہتا ہے۔ نہ تو کبھی اردو کو سرکاری طور پر پاکستان کی قومی زبان نافذ کیا جائے گا نہ ہی کبھی عوام مقابلے کے امتحان اردو میں دے کر حکومت کے اعلیٰ افسران بن سکیں گے۔ بقول جالب:
یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے
اِس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے
بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں چہار جانب گرما گرم پروگرام اور مباحث دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں لیکن آپ نے شازونادر ہی ”اردو سرکاری زبان کب نافذ ہوگی“ کے بارے میں ایسے مباحثے سنے یا دیکھے ہوں گے۔ یہ بالکل طے ہے کہ اس مسئلے کو کبھی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ نام نہاد اشرافیہ اور جاگیرداری نظام کے ہوتے ہوئے ان پگڑی اچھال مذاکروں میں کیا حکومت اور کیا اپوزیشن سب کا ایک زبردست اتحاد ہے کہ عوام کو اعلیٰ حکومتی عہدوں تک کسی بھی قیمت پر رسائی نہ دی جائے۔ اردو کے نفاذ کا مسئلہ، مسئلہ کشمیر کی طرح سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہمیں جلد از جلد کسی بھی طرح اس مسئلہ کو حل کرنا ہے وگرنہ پھر ہم بھی یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ اگر کالے انگریزوں کی ہی غلامی کرنا تھی تو ہمارے بزرگوں نے آزادی کیوں حاصل کی؟ کوئی تو خدا کا خوف کرے! 74 سال ہو گئے۔ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کا امتحان اب بھی غیر ملکی زبان میں لیا جاتا ہے۔ کیا یہ کام کبھی ختم نہ ہوگا؟ ہاں البتہ۔۔۔ اگر کوئی ”حجاج بن یوسف“ آگیا تو یہ کام چٹکیوں میں ہو جائے گا لیکن اس کی ایک بھاری قیمت ادا کی جائے گی۔ جو غالب امکان ہے کہ نام نہاد اشرافیہ دے گی
جو آئے وہ جائے، رہے نام اللہ کا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں