اقبال لطیف کا تجزیہ 31

اب کیا ہو گا؟

تو امریکی صدر ہکا بکا رہ گیا، نیٹو چیف کو یقین نہیں آرہا، بورس جانسن کی گویا جان پر بن گئی، یہ کیا ہو گیا، یہ دنیا کے چوہدری جو سمجھتے ہیں کہ کاروبار زندگی انہی کے دم قدم سے چل رہا ہے اور کسی کی مجال نہیں ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر سانس لے سکے، یہ جو اپنے زعم میں ہیں کہ زمین پر کوئی فرد ان کی اجازت کے بغیر حرکت بھی کرسکے۔ تاریخ میں فرعون، نمرود، شداد، چنگیز کے تذکرے ہیں اور ان سب کو اگر یکجا کرکے کوئی شے خلق کی جائے تو یہ اپنے دور کے یہی وہ افراد ہیں جنہیں خدائی کا زعم ہے۔ یہ جسے دن کہیں دن ہے اور رات کہیں تو رات ہے، آپ کی کیا مجال کہ ان کی بات سے روگردانی کر جائیں کیونکہ ان کے قبضہ قدرت میں پوری کائنات ہے یہ جسے گردن زدنی قرار دیں آپ بھی ان کی قوالی میں تالیاں بجا بجا کر کہیں ”بجا ارشاد“ یہ اگر کہیں عاق میں کیمیاوی ہتھیار ہیں آپ بھی ان کے سُروں میں سُر ملا کر کہیں کہ ہاں ہے وہ کہیں قذافی ڈکٹیٹر ہے اپنے عوام پر ظلم کررہا ہے آپ کا فرض ہے اس سے بڑھ کر قذافی کو جابر ثابت کردیں وہ کہے شام دہشت گرد ہے آپ بھی آمناً صدقتاً کہیں کہ بجا فرمایا۔ وہ کہیں کہ ایران ایٹمی بم بنا رہا ہے اور وہ لاکھ کہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے مگر آپ کو ماننا پڑے گا کہ ایران ایٹم بم بنا چکا ہے۔ آپ فرمائیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں تو ہم مسلمان ہونے کے باوجود آپ کی بات مان لیں اور خود بھی یقین دلائیں کہ میں واقعی دہشت گرد ہوں۔
آپ نے القاعدہ بنائی، آپ نے 9/11 کا ڈرامہ کھیلا، ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے طیارے ٹکرائے اور ایک خیالی دہشت گرد تنظیم کو مسلمانوں سے جوڑ کر اسلامو فوبیا تخلیق کیا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔
پھر آپ نے تانے بانے ملاتے ہوئے دہشت گردوں کے نقش پا افغانستان تک لے کر اور پھر آپ نے بھی اپنے ازلی دشمن روس کی تقلید کرتے ہوئے افغانستان میں جہاں سے آپ نے ”جہاد“ کے نام پر مجاہدین تخلیق کرکے اور اسے اسلام کے عین مطابق قرار دے کر روس کے خلاف مجاہدین کھڑے کئے اور جب آپ کا کام ہو گیا تو افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے طالبان تخلیق کئے اور اپنے ایجنٹ بن لادن کو دہشت گردوں کا گروو قرار دیا اور اس ہی 9/11 کے ڈرامے کا ذمہ دار قرار دیا، یہ وہی بن لادن ہے جس نے روس کے خلاف جنگ میں آپ کے لئے ”تورا بورا“ کا منصوبہ تعمیر کیا۔ یہ وہی بن لادن ہے جو افغانستان میں سی آئی اے کا ایجنٹ تھا مگر آپ نے افغانستان پر قبضے کے لئے اسے ہی ٹارگٹ قرار دیا اور اس جنگ کو دہشت گردی کے خلاف اور بن لادن کو پکڑنے کا نام دیا اور پھر بن لادن کو پکڑ کر آپ قانون کے نام لیواﺅں نے اسے بغیر کسی مقدمے کے مار کر اس کی لاش سمندر میں پھینک دی اب جب کہ آپ کا کام پورا ہو گیا تو پھر افغانستان میں رہنے کا کیا جواز تھا؟ مگر آپ کو ملک گیری کی ہوس اور افغانستان کے وسائل نے وہاں لاکھوں کی زندگیاں حرام کردیں۔ آپ کو اب قدرت نے وہ جھٹکا دیا کہ آپ بلبلا کر رہ گئے، کھربوں ڈالر خرچ کرکے ہزاروں افراد (آپ کی طرف کے) اور لاکھوں افغانیوں کی جان لے کر ملک کو کھنڈر بنا کر آپ کو کیا ملا۔ 20 سال کے طویل عرصہ تک معصوم لوگوں پر ظلم و ستم اور انہیں انہی کے ملک میں انسانی حقوق سے محروم کرکے آج جو ذلت، رسوائی اور جو ظلم و ستم کے پہاڑ آپ نے ڈھائے ہیں اس کا جواب تو یہ تھا کہ طالبان اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا آپ سے بدلہ لیتے مگر انہوں نے باوجود اس کے کہ آپ نے ان کے خلاف یزیدی روا رکھی انہوں نے صاف الفاظ میں سب کو معافی کا اعلان کردیا انہوں نے کسی بھی قسم کے انتقام کے امکان کو رد کرکے ازسرنو تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا۔ انہوں نے آپ کے مقطع کے بند عورتوں کی آزادی کا جواب دے دیا کہ خواتین کو وہی مقام حاصل ہو گا جو مردوں کو ہے اور ہر شعبہ زندگی میں انہیں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے ملک کی اقلیتوں کو تحفظ دیا اور ان کے حقوق دینے کا اعلان کردیا آپ بند کردیں ان کے مالی وسائل، آپ ڈرائیں انہیں خطرناک انجام سے، آپ ڈرائیں انہیں آنے والے وقت سے مگر آپ کی یہ ساری باتیں اب کوئی اثر نہیں رکھتیں۔ آج بیس سال والے طالبان نہیں ہیں، یہ بیس سال میں اتنا کچھ سیکھ چکا ہے کہ جو ہر بین الاقوامی فورم پر ہر چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں، ہاں انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ نیا افغانستان اسلامی شریعت کے تحت چلایا جائے گا جو کہ انسان دوستی، اعلیٰ انسانی اقدار اور حق کا ساتھ دینے والا شریعت اور نظام حکومت ہے۔ اب ذرا خیال رہے کہ افغانستان کے پس پشت چین اور روس کے علاوہ ان کے سروں پر خدا کا سایہ بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں