۔۔۔ جنہیں تصویر بنا آتی ہے 102

ارزاں فروختند چہ ارزاں فروختند

پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں اس میں رہنے والا ہر فرد یہ خام خیالی رکھتا ہے کہ یہ ملک اس کے ہی دم قدم سے چل رہا ہے اور جب کبھی اس کا موڈ خراب ہوتا ہے اور موڈ جب خراب ہوتا ہے تب اس کی ذاتی توقعات کے مطابق ”ریاست“ عمل نہیں کرتی ان میں ایک عام آدمی سے لے کر اعلیٰ ترین شخصیات شامل ہیں۔ ان میں ہر متکبہ افراد کے افراد جیسے سیاستدان، ججز (عدلیہ کے تمام عناصر)، انتظامیہ (ہر سطح پر) سینیٹرز، اراکین اسمبلی، وزرائ، وزیر اعظم حتیٰ کے صدر بھی سوچتا ہے اور اظہار بھی کرتا ہے کہ اب یہ ملک نہیں چل سکتا۔ ایک مثال ہے تو پھونڈی سی مگر بطور مثال حاضر ہے کہ ”گاڑی میرے ہی بل بوتے پر چل رہی ہے“ یہ دکھیا بے امان ملک جس کے رہنے والے آئے دن یہ جملے کہتے ہیں اور سنتے ہیں، یہ ملک چلے والا نہیں ہے، اور ان ہی افراد نے اس ملک کی 56 فیصد اباد کو یہ کہہ کر الوداع کردیا کہ اگر ہم نہیں ہونگے تو کیا یہ نہیں چلے گا؟ سو دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ تو چل کیا رہا ہے دوڑ رہا ہے مگر یہ اس وقت کے 44 فیصد گاڑی کو اپنے بل بوتے پرچلانے کے دعویدار آج کس حال میں ہیں۔ یہ اس ملک کو صرف اس بنیاد پر قائم رکھ رہے ہیں جس قدر اس کی بے توقیری ہو سکے کریں جس قدر اس کی جگ ہنسائی ہو سکے کروائیں، جس قدر اس کو لوٹ سکیں لوٹیں اور جس قدر جلدی دوسروں کی غلامی میں دے سکیں دیدیں بلکہ اپنی ساری قوت اس پر لگا دیں کہ دوسروں کا باجگزار، ماتحت اور دوسرے کے ٹکڑوں پر پلنے والا بن جائے۔ یہ عناصر آئے دن ان قوتوں کے تلوے چاٹتے رہتے ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی دولت کے لئے اپنی ماں بھی فروخت کر سکتے ہیں اور یہ جملے وہ ملک اور اس کا ایک اہم فرد کہہ رہا ہے جس کی غلامی کا طوق یہ بڑے فخر سے دکھاتے ہیں آج بھی مادر فروش افراد اپنی قیتمیں وصول کرکے ارض مقدس کو رسوا کررہے ہیں اور اس کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں، اس بارے میں یہ بات اس ملک کے عزائم سے ثابت ہو جاتی ہے جو کسی بھی مسلم ملک کو خودمختار دیکھنا گوارہ نہیں کرتا۔
آج عراق، شام، لیبیا، لبنان، افغانستان، سوڈان، یمن اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔ جنہیں تاراج کرکے اب اس کی حریص نظریں پاکستان پر ٹکی ہوئی ہیں اور اس غلیظ کام میں اس ملک کا نمک کھانے والے نمک حرام اس کے معاون اور مددگار ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی مصنف ڈینیل مارکے کی کتاب ”ٹو ایگزیٹ فرام پاکستان“ میں لکھتا ہے کہ ”ہم امریکن پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتے، اس کی تین وجوات ہیں۔
(۱) پاکستان کا ایٹمی پروگرام اتنا بڑا ہے اور اتنا منظم اور بھرپور ہے کہ اس پر نظر رکھنے کے لئے ہمیں مسلسل پاکستان کے ساتھ مصروف رہنا پڑے گا۔
(۲) پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے چین کی سول اور فوجی قیادت کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور چین پر نظر رکھنے کے لئے پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا ضروری ہے۔
(۳) پاکستان کے پاس اتنی بڑی فوج ہے کہ نہ صرف پورے علاقے بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ سکتی ہے، پاکستانی فوج پر بھی نظر رکھنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کو انگیج کرنا ضروری ہے۔
اس نے لکھا ہے کہ گزشتہ 72 سال سے فیصلہ ہو چکا تھا کہ پاکستان کو کسی بھی قیمت پر ترقی یافتہ نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی اسے اسلامی ممالک کی قیادت کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے لئے امریکہ نے کچھ طریقے اپنائے ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ پاکستان کو اس قدر کمزور کر دو کہ وہ اپنا کردار بھول کر ان بحرانوں میں گھر جائے جس سے نکلنے کے لئے وہ جدوجہد میں لگا رہے۔ اس کا ایک طریقہ پاکستانی سیاستدانوں کو خرید کر جن میں سیاسی لیڈر، سول بیوروکریسی کے افسران، صحافی اور میڈیا ہاﺅسز بھی شامل ہیں۔ ڈینیل مارکے کے مطابق پاکستانی لیڈر خود کو بہت کم قیمت پر فروخت کردیتے ہیں جس میں امریکہ جانے کا ویزا، ان کے بچوں کو اسکالرشپ اور معمولی چیزوں کے عیوض یہ ممکن ہے۔ وہ ان چیزوں کے عیوض پاکستان کے مفادات بیچنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ موجودہ حالات میں دیکھ لیں کہ طویل مدت کے بعد پاکستان میں امریکی سفیر کی آمد کے بعد سفارتکاری پاکستان کے حزب اختلاف کے راہنماﺅں سے خفیہ ملاقاتیں کررہے ہیں، گاڑیاں بدل بدل کر ان کے گھروں میں جا کر ان کی بولیاں لگا رہے ہیں جب کہ امریکہ میں ان کے یہودی نمائندے وہاں امریکی عہدیداروں کو اپنے پاکستانی آقاﺅں کی وفاداری کی یقین دہانیاں کرارہے ہیں جب کہ بیرون ملکوں میں پاکستانی دولت لوٹ کر جانے والے، فرضی مریض، پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان کے نمائندوں سے دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے ہیں۔ اندرون ملک وہ سیاستدان جو کل تک ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کے روادار نہیں تھے، آج گلے میں بانہیں ڈالے بیٹھے ہیں، ان ”با ایں ریش دراز“ وہ شخص بھی شامل ہے جو ریاست کے خلاف اپنے مسلح گروہ کو اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کو قیمتاً فراہم کرکے ملک کو اپاہج کرنے کا کام کررہا ہے۔ یہ جمہوریت کے نام نہاد ٹھیکیدار ملک کو فروخت کرنے کے غلیظ منصوبے کے ساجھے دار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں