اسلامی جمہوریہ پاکستان: سیاسی معاملات آرمی چیف کی تعیناتی سے منسلک 25

اسلامی جمہوریہ پاکستان: سیاسی معاملات آرمی چیف کی تعیناتی سے منسلک

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) پاکستان کے مقدر حلقوں میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نئے آرمی چیف کی تقرری کیوں نہیں کررہے جب کہ فوج کی جانب سے انہیں منتخب نام بھجوا دیئے گئے ہیں۔ فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار بارہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ جنرل باجوہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے مگر ان خدشات و حقائق کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جن سے پاکستان کا ماضی داغدار ہے اور پاکستان کی جمہوری قوتیں اپنی حکومتی مدت پوری کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ فوج کے ترجمان یہ بھی اقرار کرچکے ہیں کہ ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں انہیں دہرایا نہیں جائے گا اور فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل باجوہ نے الوداعی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان میں آرمی چیف کی تعیناتی ایک بڑا موضوع بن گیا ہے جس کا سبب گزشتہ 75 سال کی تاریخ کا بیشتر حصہ باقاعدہ آمریت کا دور بنا رہا۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو روکنے اور جنرل باجوہ کو مخصوص مدت کے لئے توسیع دینے کا مطالبہ کیا تھا اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا مگر گزشتہ چند روز سے عمران خان کے بیان میں واضح تبدیلی آئی ہے اور متعدد بار انہوں نے کہا ہے کہ آرمی چیف کوئی بھی تعینات ہو انہیں یا ان کی پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ نومبر میں لانگ مارچ کی بڑی وجہ جلد انتخابات کی تاریخ اور آرمی چیف کی تقرری کے لئے دباﺅ ڈالنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں