مکافات عمل 55

اسٹیبلشمنٹ کی پانچوں گھی میں

حکومت کی احتساب کمیپئن کے نتیجہ میں خوفزدہ ہو کر بننے والے اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور مولانا فضل الرحمن ملک کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان سینڈ وچ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک جانب آصف علی زرداری ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ ”ایک زرداری۔۔۔ سب پہ باری“ تو دوسری جانب مریم نواز ہیں جو کہ ملک کے ایک ایسے ادارے سے ٹکرانے کے لئے اپنی آستینیں چڑھا چکی ہیں جس نے آج تک اپنے خلاف بولنے اور زبان درازی کرنے والی تمام زبانوں کو یا تو خاموش کردیا۔ یا خرید لیا یا پھانسی چڑھا دیا یا پھر اس دارفانی سے غائب ہو گیا یا پھر کہیں مردہ پایا گیا۔
اسٹیبلشمنٹ کے سدھائے ہوئے جانور جب تک منہ جھکائے اُن کے اشاروں پر ناچتے رہے، قابل قبول رہے اور جہاں انہوں نے آنکھیں دکھائیں وہیں اُن کی فائلیں میڈیا ٹرائل کے لئے یا پھر احتساب عدالت کو فراہم کردی گئیں۔ یوں یہ سلسلہ گزشتہ 70 برس سے چلتا چلا آرہا ہے مگر موجودہ حکومت کے آنے کے بعد اس گرفت میں تیزی آگئی اور ملک کے دفاعی اداروں نے تمام سیاستدانوں کو دفاعی پوزیشن پر جانے کے لئے مجبور کردیا۔ اسٹیبلشمنٹ جانتی تھی کہ اُن کے کالے کرتوتوں سے بھی کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر پردہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور وہی ہوا، کسی کو تو دو دو بار وزیر اعظم کا عہدہ دینے کے بعد خون میں نہلا دیا گیا، کسی کو ملک بدر کردیا گیا تو کسی کو تین بار وزیر اعظم بنانے کے بعد غدار کا لقب دے کر ملک سے جانے پر مجبور کردیا گیا۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ اس باہمی جنگ کے نتیجہ میں ملک اخلاقی، ثقافتی اور معاشی طور پر قلاش ہوگیا۔ لوگوں نے بھوک، افلاس اور مہنگائی سے ہار مان کر اخلاقیات کو خیرباد کہہ دیا اور یوں قوم میں وہ بے حسی پیدا ہوئی جس نے بھائی کا گلہ کاٹنے پر مجبور کردیا۔ پاکستان آج افراتفری کا شکار ہو چکا ہے۔ قوم کو کوئی مسیحا نظر نہیں آتا جو ان کے مسائل حل کرسکے۔ اسمبلیوں میں بیٹھے ڈاکو اور لٹیرے اپنی اپنی بولیاں لگا رہے ہیں۔ کچھ نے عوام کا نام لے کر عوام کو پہلے لوٹا، بعدازاں ریاست مدینہ کا جھانسہ دے کر ایک بار پھر عوام کو بیچ منجدھار میں پھنسا دیا گیا ہے۔ جہاں عوام مکمل بے بس ہو چکی ہے۔ بس ایک امید اور آس یہ نظر آتی ہے کہ جس انداز میں آج ہمارے یہ لالچی اور دولت کی ہوس رکھنے والے سیاسی مداری باہمی دست و گریباں ہیں شاید ہاتھیوں کی یہ جنگ ملک سے ان سب کا صفایا کردے اور اُن میں سے کچھ اچھے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس مبارک نام رکھنے والے ”پاکستان“ کی لاج رکھنے کے لئے سامنے لے آئے اور آئندہ آنے والا 23 مارچ حقیقت میں وہ 23 مارچ ثابت ہو جس کا خواب علامہ اقبال نے جس کی جدوجہد قائد اعظم اور ان کے رفقاءنے کی تھی۔ قوم تو بہت کمزور ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات باری تعالیٰ کی رحمت جوش میں آگئی تو پاکستان کے عوام ان کینسر زدہ سیاسی چوروں اور اسٹیبلشمنٹ میں چھپے چند مفاد پرستوں سے چھٹکارا پا لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں