اسیر پاکستانی قوم نے 75 واں جشن آزادی جوش و جذبہ سے منایا 55

اسیر پاکستانی قوم نے 75 واں جشن آزادی جوش و جذبہ سے منایا

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) پاکستان کا 75 واں یوم آزادی بھی گزر گیا۔ پاکستان کی معصوم عوام نے اسیری کے باوجود یوم آزادی جوش و خروش سے منایا۔ گزشتہ 75 برسوں میں کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ نہ پہلے پورا ہوا اور نہ آج تک کوئی بہتری آسکی۔ سندھی، پٹھان اور پنجابی حکمران آتے جاتے رہے مگر حالت کسی قوم کی نہ بدل سکی۔ سلام ہے اس قوم کو کہ جو آج بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہی اور اب عمران خان کا بت تراش کر اس کی پوجہ پاٹ میں لگی ہوئی ہے مگر یہی ایک آس شاید قوم کے پاس ہے۔ گزشتہ برسوں میں جس قدر چور چور کا شور مچا کر عمران خان کو بھی اس صف میں کھڑا کیا گیا، وہ قابل تعریف ہے، اقتدار میں لانے والے خفیہ ہاتھ نہ جانے اب کس نئے مسیحا کی تلاش میں ہیں کیونکہ اب قوم گزشتہ حکمرانوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور عمران خان کی واپسی شاید ممکن یوں نہ ہو سکے کہ بین الاقوامی قوتوں نے طے کر لیا ہے کہ پاکستان کو معاشی مشکلات کا شکار کرکے اپنے مقاصد پورے کرلئے جائیں۔ ملک کے حالات روز بروز مخدوش ہوتے جارہے ہیں، حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ آئی ایم ایف نے پورے پاکستان کو اپنی چھتری تلے لے لیا ہے اور یوں بظاہر قوم خود کو کسی سایہ دار درخت کے نیچے محسوس کررہی ہے۔ نہیں جانتی کہ آنے والا وقت شاید پانی، بجلی، گیس اور تعلیم کے بعد اب ان سے رات کی نیندیں بھی چھیننے والا ہے۔ مگر قوم مست ہے اور پاﺅں میں بیڑیاں پہنے جشن آزادی کی خوشیاں منانے میں مصروف عمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں